جب ٹی وی ناظر نے رپورٹر کو دیکھ کر ان میں کینسر کی تنبیہ کی

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/ VICTORIA PRICE
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک رپورٹر نے اپنے ایک ناظر کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے ان کی گردن پر ایک رسولی کو دیکھ کر انھیں ای میل کی کہ وہ اپنا علاج کروائيں۔
ڈبلیو ایف ایل اے کی رپورٹر وکٹوریہ پرائس نے جمعرات کو ایک آن لائن پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ 'گذشتہ ماہ مجھے ایک ناظر نے ای میل کی۔ انھوں نے میری گردن پر ایک رسولی دیکھی اور کہا کہ اس کو دیکھ کر انھیں اپنی رسولی یاد آ گئی۔'
رپورٹر نے لکھا کہ ’ان ناظر کو کینسر تھا اور مجھے ٹیسٹ کروانے پر پتا چلا کہ مجھے بھی یہی بیماری ہے۔‘
وکٹوریا پرائس اب کینسر کے علاج کے لیے چھٹی لے چکی ہیں اور انھوں نے کہا وہ سوموار کو سرجری کروا کر رسولی نکلوا دیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سٹیشن کے کال سائن نمبر اور نعرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انسٹا گرام پر لکھا: ' 8 آپ کی جانب، یہ صرف ڈبلیو ایف ایل اے پر کوئی پرکشش فقرہ نہیں ہے۔'
'یہ ہمارا سنگ بنیاد ہے۔ لیکن حال ہی میں ہمارے کردار اس وقت بدل گئے جب میرا ایک ناظر میری طرف تھا اور میں اس سے زیادہ شکر گزار نہیں ہوسکتی۔'
پرائس نے بتایا کہ تمپا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کور کرنے وہ اس قدر مشغول رہیں کہ انھوں نے اپنی صحت کا خیال نہیں رکھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پرائس نے لکھا: 'ایک صحافی کی حیثیت سے وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے ہم پوری طرح سے کام میں مشغول رہے۔ کبھی نہ ختم ہونے والے خبروں کے چکر میں کبھی نہ ختم ہونے والی شفٹ لگتی رہی۔' اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی لکھا: 'ہم ایک صدی میں پیدا ہونے والی صحت کی انتہائی اہم کہانی کی کوریج کر رہے تھے، لیکن میری اپنی صحت میرے دماغ میں سب سے دور کی بات تھی۔'
ڈبلیو ایف ایل اے کے لیے ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ ان کی گردن کی رسولی پھیل رہی ہے اور اسے تھائرائڈ اور کچھ لمف نوڈز کے ساتھ جراحی سے ہٹانے کی ضرورت پڑے گی۔
انھوں نے پوسٹ کیا: 'اگر مجھے وہ ای میل نہیں ملتی تو میں اپنے ڈاکٹر کو کبھی بھی نہ دکھاتی۔ اور کینسر پھیلتا رہتا۔ یہ خوفناک مگر منکسر کر دینے والی سوچ ہے۔'
'میں اس خاتون کی ہمیشہ شکر گزار رہوں گی جنھوں نے ایک بالکل ہی اجنبی کو مختلف انداز اپناتے ہوئے ای میل کی۔ ان پر اس کی صفر ذمہ داری تھی لیکن پھر بھی انھوں نے ایسا کیا۔'
پرائس نے کہا تھائرائڈ کینسر مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ عام ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سال امریکہ میں سامنے آنے والے تمام معاملات میں سے تقریباً 75 فیصد کیسز خواتین ہی میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے لکھا کہ 'اس لیے خواتین، اپنی گردن کو چيک کریں۔' انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں کام پر واپس آ جائيں گی۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی چوکس ناظر نے کسی براڈکاسٹر کو طبی مشورے دیے ہوں۔
سنہ 2018 میں لیورپول کے سابق ڈیفینڈر اور فٹ بال کے ماہر مارک لارنسن نے ایک ایسے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں بی بی سی ون کے فٹ بال فوکس پروگرام پر دیکھنے کے بعد کینسر کی تشخیص کی تھی۔
سنہ 2013 میں کیبل نیوز کے میزبان طارق الموسیٰ کو ایک نرس نے ان کی گردن پر ایک گانٹھہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا جنھوں نے انھیں گھروں کی سجاوٹ سے متعلق ٹی وی شو 'فلپ اور فلاپ' میں دیکھا تھا۔
نرس ریان ریڈ نے این بی سی کو بتایا تھا: 'میں نے سوچا کہ یہ ایسی کوئی چیز ہے جس کی طرف ان کی توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔'
الموسیٰ اب تھائرائڈ کینسر کے سٹیج 2 سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔









