کورونا وائرس: بیلاروس میں وبا کے خطرے کے باوجود وکٹری پریڈ، روس میں منسوخ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, تاتسیانا ملنچک
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بیلاروس
اس برس دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر روس کے دارالحکومت ماسکو کے وسط میں نہ تو کوئی ٹینک تھے، نہ ہی حاضر سروس فوجیوں کی اور نہ ہی سابق فوجیوں کی کوئی پریڈ ہوئی۔
ریڈ سکوائر کی 9 مئی کی پریڈ کو کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا لیکن ہمسایہ ملک بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں یہ پریڈ ہوئی، کنسرٹ اور آتش بازی بھی اسی طرح کی گئی جس طرح پلان کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہEPA
پریڈ کیوں نہیں ہوئی؟
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو بظاہر وبا کی کوئی پرواہ نہیں۔ نہ ہی انھوں نے پابندیوں کے یورپی قواعد اپنے ملک میں نافذ کیے ہیں۔
روس ابھی بھی لاک ڈاؤن میں ہے اور گذشتہ سات دنوں میں یہاں کووڈ۔19 کے 10 ہزار نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے باوجود بیلاروس کے صدر نے فوجی پریڈ منسوخ کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے وطن پرستی مزید اجاگر ہوتی ہے، لوگوں کو یہ پتا چلتا ہے کہ سویت دور میں کتنی مشکلات تھیں اور کتنی قربانیاں دینا پڑی تھیں۔
پریڈ سے پہلے انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں تاکہ ہم آج زندہ رہ سکیں، اس لیے ہم اپنے ہیروز کو اس مقدس دن عزت دے سکتے ہیں۔ ہم اس سے مختلف کچھ نہیں کر سکتے۔‘
بیلاروس کے صدر لوکاشینکو 1994 سے اقتدار میں ہیں، اور وہ بیلاروس پر اسی طرح آمرانہ طریقے سے کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں جس طرح سویت دور میں کیا جاتا تھا۔
1941-44 میں نازیوں کے قبضے کے دوران بیلاروس بالکل تباہ ہو گیا تھا اور اس کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی ہلاک ہو چکی تھی، جن میں یہودیوں کی تقریباً مکمل آبادی شامل تھی۔
لہذا روس کی طرح اس کے بھی بہت سے شہریوں کے لیے وکٹری ڈے ایک بہت زیادہ حب الوطنی کا موقع ہے۔
کورونا وائرس نے بیلاروس کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
بیلاروس کی حکومت نے 2 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کر کے کورونا وائرس کے 21 ہزار 101 متاثرہ افراد کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک ملک میں 121 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
کوئی علاقائی معلومات نہیں ہیں اور صحافیوں کو طبی عملے کو انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی انھیں ہسپتالوں کے اندر جا کر یہ دیکھنے کی اجازت ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔؟

،تصویر کا ذریعہAFP
دکانیں، سکول اور پبلک ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلتی رہی۔ تاہم وزارتِ صحت نے بیلاروس کے عوام کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں، ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں اور خصوصاً اگر وہ رسک والی کیٹیگری میں آتے ہیں تو ماسک پہنیں۔
بیلاروس کی عوام بھی ان خطرات سے آگاہ ہیں۔ کچھ کمپنیوں نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ گھر سے کام کریں۔ کچھ یونیورسٹیوں اور کالجوں نے رش کے اوقات میں سفر کرنے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی ہے یا ان کے لیکچر آن لائن کر دیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بہت سے والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے۔ بیلاروس یورپ کا واحد ملک ہے جس نے اپنی فٹ بال چیمپیئن شپ جاری رکھی لیکن اس چیمپیئن شپ کو دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔
اپریل میں عالمی ادارۂ صحت کے ایک وفد نے بیلاروس کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انھوں نے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
یورپی یونین نے بیلاروس میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے 6 کروڑ چالیس لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، اور وہ بھی اس شرط پر کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات پر عمل کرے گا۔


روسی اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟
اگر حالات اس سے ذرا مختلف ہوتے تو ’فتح کے دن‘ کی 75ویں سالگرہ روس میں بھی بنائی جاتی۔
اس کے برعکس روسیوں کو کہا گیا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے ٹیلی ویژن پر کیے گئے ایک خطاب میں ویٹرنز کی ان قربانیوں کو سراہا جنھوں نے ’زندگی کے لیے موت سے جنگ لڑی تھی۔‘ انھوں نے جنگ کی یادگار پر پھول بھی چڑھائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی ایئر فورس نے ریڈ سکوائر کے اوپر پروازیں کیں اور اس سال کے آخر میں فوجی پریڈ کا بھی وعدہ کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکو نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ’روس اور بیلاروس کی طرف سے مختلف طریقوں سے کیے گئے اقدامات سے کورونا کے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ نہیں ہو گا۔‘
لیکن یہ مختلف طریقوں نے دونوں ممالک میں ایک جھگڑا سا شروع کر دیا ہے۔ بیلاروس نے ایک روسی ٹی وی کے عملے پر بیلاروس میں کورونا کے حوالے سے غلط خبریں پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے چینل ون کے نامہ نگار ایلگزی کروچینن اور ان کے کیمرہ مین کی اکریڈیٹیشن منسوخ کر دی ہے۔
کروچینن کو بیلاروس چھوڑ کر جانا پڑا لیکن وہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی ماہر وبائی امراض وکٹر لیرچیو نے پریڈ منعقد کرنے کے متعلق کہا کہ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح وبا کے دوران دعوت دی جائے۔ انھوں نے روسی ریڈیو کو بتایا کہ ’یہ سراسر حماقت ہے۔‘
وہاں کون ہو گا؟
عموماً سب سے اچھی جگہ وار ویٹرنز کو دی جاتی ہے لیکن صدر لوکاشینکو نے کہا تھا کہ اگر کوئی نہیں چاہتا تو اسے فتح کے دن کی تقریبات میں شرکت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہت کم ہی ویٹرنز اب زندہ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نوے کی دہائی میں ہیں اور انھیں کووڈ۔19 آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔
بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے مرکز میں ایک کنسرٹ سٹیج اور ایک سکرین لگائی گئی ہے جہاں سینکڑوں افراد کے لیے جگہ ہے۔ گلوکار الیگزینڈر سولودوکھا نے کہا ہے کہ وہ پرفارمنس کے دوران سماجی فاصلے پر عمل کریں گے اور کسی سے ہاتھ ملائیں گے نہ مہمانوں کے ساتھ ملیں گے۔
صدر لوکاشینکو نے تقریبات میں شرکت کے لیے بین الاقوامی مہمانوں کو دعوت دی، جن میں روسی ممبر پارلیمان اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ روس نے سرکاری طور پر بیلاروس کوئی بھی وفد نہیں بھیجا ہے اور جو کوئی بھی وہاں گیا ہے وہ اپنی نجی حیثیت میں گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کچھ رپورٹس کے مطابق یونیورسٹیوں کے طلبہ اور عملے کو اور کچھ کاروباری اداروں کو کہا گیا تھا کہ وہاں جا کے حاضری دینا رضاکارانہ ہے۔ اور ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ طلبہ کو ٹیکسٹ میسیجز بھیجے گئے کہ اگر وہ آتے ہیں تو ان کے وظیفے میں اگلے ماہ چار ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا۔
بیلاروسی کیا سمجھتے ہیں؟
لیکن بیلاروس میں بھی اس پریڈ پر تنقید ہوئی ہے۔
سٹینیسلاو ششکیوچ نے، جو کہ آزادی کے بعد بیلاروس کے پہلے رہنما تھے، اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے نا صرف جہالت بلکہ جرم کہا۔ انھوں نے کہا کہ صدر لوکاشینکو نے ایسا اقتدار میں رہنے کی خواہش اور روس سے مقابلے کی وجہ سے کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پریڈ کو پارلیمان کے سابق سپیکر نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ’دوسری جنگِ عظیم کے دوران سویت رویے سے بالکل مختلف نہیں تھی جب ’انسانی زندگی کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔‘
سابق وزیرِ اعظم مخائل چیگیر نے کہا کہ ’امریکہ میں وہ فوجی پریڈیں نہیں کرتے تو کیا وہ بہت بدتر ہیں؟ میں نہیں سمجھتا۔‘










