2019 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپس: دوحہ میں شدید گرمی کے باعث 41 فیصد ایتھلیٹس میراتھن سے دستبردار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر میں جاری 2019 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپس کے تحت ہونے والی خواتین کی میراتھن دوڑ میں صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب شدید گرم موسم کے پیشِ نظر دوڑ میں حصہ لینے والی 41 فیصد ایتھلیٹس نے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔
اگرچہ دوڑ مقامی وقت کے مطابق نصف شب کو شروع ہوئی تھی تاہم 32 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور فضا میں نمی کا تناسب 70 فیصد ہونے کے باعث دوڑ کی ابتدا کرنے والی 68 خواتین میں سے 28 نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر دیا۔
اس سے قبل اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ دوحہ میں موسم کی صورتحال میراتھن دوڑ کے لیے شاید سازگار نہ ہو تاہم منتظمین نے کھیل کا انعقاد طے شدہ وقت پر کروانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مقابلہ ہوا اور کینیا کی روتھ چیپنگتچ میراتھن دوڑ کی فاتح رہیں۔
بریٹن کارلوتھ پرڈیو بھی مقابلے سے دستبردار ہونے والی ایتھلیٹس میں شامل تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوڑ میں شامل یوگینڈا کی ایتھلیٹ لینت چیبیٹ کو حالت خراب ہونے پر ایمبولینس کے ذریعے میدان سے باہر لے جایا گیا جبکہ اٹلی کی سارہ ڈوسینا بھی فائل لائن کراس نہ کر پائیں اور بعد ازاں وہ ویل چئیر پر میدان سے جاتی نظر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے میراتھن کوچ حاجی عدیلو روبا کی تربیت یافتہ تین ایتھلیٹس بشمول ٹوکیو میراتھان کی فاتح روتی آگا بھی دوڑ مکمل نہ کر پائیں۔
حاجی روبا نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ 'ہم اپنے ملک میں کبھی بھی ان حالات میں میراتھن کا انعقاد نہ کرتے۔'
کینیا کی روتھ چیپنگتچ کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت مشکل ریس تھی مگر مجھے اندازہ تھا کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ میں دبئی میراتھن میں دوڑ چکی ہوں۔'
'میں دوپہر کے وقت جب سورج بلند ہوتا ہے دوڑنے کی تربیت لے چکی ہوں۔'
23 سالہ روتھ کا چیمپیئن شپس کا یہ پہلا گولڈ میڈل ہے جو انھوں نے دو گھنٹے، 32 منٹ اور 43 سیکنڈ دوڑنے کے بعد حاصل کیا۔
بحرین سے تعلق رکھنے والی دفاعی چیمپیئن 39 سالہ روتھ چیلیمو دوسرے جبکہ کامن ویلتھ چیمپیئن ہیلالیا جوہانس تیسرے نمبر پر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی تیسری تیز ترین میراتھن رنر بریٹن کارلوتھ پرڈیو نے تیسرے چکر کی ابتدا پر ہی دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
'صحت کو درپیش خطرات کی قابل قبول سطح'
اس سے قبل ایتھلیٹس گورننگ باڈی آئی اے اے ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میراتھن کا انعقاد کروایا جائے گا کیونکہ انھوں نے 'وہ سب ممکن اقدامات کیے ہیں جو گرمی سے متعلقہ خطرات کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔'
آئی اے اے ایف کا کہنا تھا کہ میراتھن 'صحت کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر ایک قابل قبول سطح پر دوڑی جائے گی۔'
میراتھن میں پانچویں نمبر پر آنے والی بیلاروس کی ایتھلیٹ ولہا مازرونک آئی اے اے ایف حکام سے ناراض نظر آئیں۔ دوڑ کے بعد انھوں نے کہا کہ 'ہوا میں نمی آپ کو مار دیتی ہے۔ سانس نہیں لیا جا سکتا۔ مجھے خیال آیا کہ شاید میں دوڑ مکمل نہ کر پاؤں گی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'یہ کھلاڑیوں کی توہین ہے۔ اعلی عہدیداروں کا ایک گروپ اکٹھا ہوا اور فیصلہ کیا کہ وہ یہاں (قطر) چیمپیئن شپ کروائیں گے۔ یہ فیصلہ انھوں نے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر کیا اور شاید اس وقت وہ سو رہے ہوں گے۔'
میراتھن میں نویں نمبر پر آنے والی کینیڈا کی ایتھلیٹ لینڈسے ٹیسر کا کہنا تھا کہ 'دوڑ کے دوران آپ کسی کو گرتے دیکھتے ہیں اور ایسا دیکھنا ڈرا دینے والا اور حوصلہ پست کرنے والا ہوتا ہے۔ اگلے 500 میٹر یا ایک کلومیٹر کے بعد یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔'
'میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر دوڑ کا اختتام کرنے پر درحقیقت بہت مشکور ہوں۔'
قطر میں جاری چیمپیئن شپس کے بہت سے مقابلے خلیفہ سٹیڈیم کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھا گیا ہے۔
تاہم سنیچر کو 50 کلومیٹر طویل میراتھن ایئر کنڈیشن کے بجائے کھلی فضا میں ہوئی۔









