سخت گرمی میں لگاتار چھ روز میراتھن دوڑنا آسان نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
میراتھن میں حصہ لینا آسان کام نہیں ہے۔ میراتھن دوڑنے سے آپ کے پٹھوں، ہڈیوں، دل اور پھیپھڑوں پر زور پڑتا ہے جس سے ٹھیک ہونے کے لیے تندرست ترین رنر کو بھی کئی دن لگ جاتے ہیں۔
اب آپ سوچیں کہ آپ سخت گرمی میں لگاتار چھ روز میراتھن دوڑیں!
ایسا ہی 1300 غیر ملکی رنرز کر رہے ہیں مراکش میں ہونے والی سالانہ میراتھن میں۔ یہ میراتھن 156 میل طویل ہے جو صحارہ کے ریگستان میں دوڑی جا رہی ہے۔
دن کے وقت درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ اس گرمی میں اس میراتھن میں حصہ لینے والے اپنے سامان کے ہمراہ دوڑتے ہیں جس میں کھانا اور سونے کا سامان بھی ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال دن کے وقت اوسط درجہ حرارت 30 ڈگری جبکہ رات کو 14 ڈگری ہو گا۔
رات کو وہ ٹینٹوں میں سوتے ہیں اور رات کو ریگستان میں درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔
اس میراتھن کے منتظمین اس میراتھن کا روٹ ہر سال تبدیل کرتے ہیں اور اس روٹ کے بارے میں میراتھن کے آغاز سے ایک دن قبل بتایا جاتا ہے۔
یہ میراتھن فرانسیسی کانسرٹ پروموٹر اور پارٹ ٹائم مہم جو پیٹرک بوئر نے 80 کی دہائی میں شروع کی تھی۔ اس میراتھن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مشکل ترین میراتھن میں سے ایک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اس میراتھن کی پروموشن کے لیے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ اس کی تشہیر میں کہا گیا ہے کہ ’یہ وعدہ ہے کہ تپتی ریت اور بلند ٹیلوں پر بھاگنے سے سوجن اور خون سے لت پت پیر ہوں گے‘۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس میراتھن کو تین سٹیجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی سٹیج ہے سٹارٹ، دوسری رابطہ سٹیج اور آخری سٹیج ہے بغیر رکے یا نان سٹاپ سٹیج۔ میراتھن کے دوران رنرز پر پانی پینے کی بھی حد متعین کی ہوئی ہے۔ میراتھن میں حیصہ لینے والوں کو ایک روز میں صرف 11.25 لیٹر پینے کی اجازت ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP
۔







