کورونا وائرس: کووِڈ 19 کس طرح اٹلی میں مرنے والوں کی بےتوقیری کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہJilla Dastmalchi
- مصنف, صوفیہ بیٹیزا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
جب آپ کا کوئی پیارا زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے تو اُس کو آخری الوداع کہنے کا موقع ملنا ہی آپ کے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔
لیکن کورونا وائرس اٹلی کے شہریوں کو اِس اہم موقعے سے بھی محروم کر رہا ہے۔
یہ وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کو روایتی تدفین سے محروم کر رہا ہے اور لواحقین کے غم میں اضافہ کر رہا ہے۔
اٹلی کے شہر میلان میں تدفین کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے سے منسلک اینڈریا کیریٹو کہتے ہیں کہ ’اِس وبا کی وجہ سے لوگ دو مرتبہ مرتے ہیں۔‘
’پہلے یہ وبا آپ کو مرنے سے قبل ہی اپنے پیاروں سے دور کر کے تنہا کر دیتی ہے اور پھر یہ وبا آپ کو اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ لوگ اِس صورتحال کو قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔‘
تنہائی میں موت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس میں مبتلا اکثر مریض اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے دور تنہائی میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہسپتالوں میں مریضوں سے ملاقات پر پابندی ہے۔
صحتِ عامہ کے حکام کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں سے یہ وائرس دوسروں کو نہیں لگ سکتا لیکن ہلاکت کے بعد یہ چند گھنٹوں تک کپڑوں پر زندہ رہ سکتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ لاشوں کو فوری طور پر حفاظتی مواد میں لپیٹ کر دفنا دیا جائے۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اٹلی کے علاقے کریمونا میں تدفین کا کام کرنے والے ماسیمو مینکیسٹروپا کہتے ہیں کہ بہت سے لواحقین پوچھتے ہیں کیا وہ میت کا آخری دیدار کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اِس کی اجازت نہیں ہے۔
مرنے والوں کو اب اُن کے پسندیدہ اور سب سے اچھے لباس میں نہیں دفنایا جا سکتا۔ اِس کے بجائے انھیں ہسپتال کے گاؤن کی صورت میں ایک بے رحم گمنامی نصیب ہوتی ہے۔
ماسیمو مینکیسٹروپا اِس صورتحال میں بھی جو ممکن ہے وہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJilla Dastmalchi
’جو کپڑے ہمیں لواحقین فراہم کرتے ہیں وہ ہم میت کے اوپر رکھ دیتے ہیں، جیسے اس (میت) نے یہ پہن رکھے ہوں۔‘
’لواحقین کے پاس ہم پر اعتماد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘
اِس غیرمعمولی صورتحال میں گورکن ہی رشتے داروں اور دوستوں کا متبادل بن گئے ہیں۔
اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیشتر ہلاک ہونے والوں کے قریبی لوگ خود بھی وائرس کا شکار ہو کر قرنطینہ میں ہیں۔
کیریٹو بتاتے ہیں کہ ’ہم ان (رشتہ داروں اور دوست احباب) کا فرض بھی نبھا رہے ہیں۔ ہم مرنے والے کے لواحقین کو تابوت کی تصویر بھیج دیتے ہیں۔ اِس کے بعد ہم ہسپتال سے میت کو لے کر یا تو دفنا دیتے ہیں یا جلا دیتے ہیں۔ لواحقین کے پاس ہم پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اینڈریا کیریٹو کہتے ہیں کہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ غم زدہ لوگوں کی مدد نہیں کر پا رہے۔
کیریٹو گذشتہ تیس برس سے گورکنی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کے والد بھی یہی کام کرتے تھے۔
وہ سنجھتے ہیں کہ تدفین کے دوران کیے جانے والے روایتی کام غم زدہ لواحقین کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔
’مرنے والے کے گالوں پر آخری مرتبہ ہاتھ پھیرنا، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینا اور انھیں ایک باعزت حالت میں دیکھنا۔ ایسا موقع نہ ملنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔‘
بہت سے گورکن اب خود بھی قرنطینہ میں ہیں۔ کچھ گورکنوں کو اپنا کاروبار بند بھی کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ ان افراد کے پاس مناسب تعداد میں دستانے اور ماسک نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیریٹو بتاتے ہیں کہ ’ہمارے پاس صرف ایک ہفتے کا حفاظتی سامان موجود ہے۔ جب یہ ختم ہو جائے گا تو ہم اپنا کام کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘
تدفین پر پابندی
اٹلی میں کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ایک ایمرجنسی قانون کے ذریعے روایتی تدفین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اٹلی جیسے رومن کیتھولک ملک کے لیے انتہائی غیر معمولی بات ہے۔
کیریٹو روزانہ کم از کم ایک ایسے مردے کو دفناتے ہیں جس کا کوئی رشتے دار وہاں موجود نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب خود قرنطینہ میں ہیں۔
ماسیمو مینکیسٹروپا بتاتے ہیں کہ ’اِس وقت صرف ایک سے دو افراد کو تدفین میں شرکت کی اجازت ہے۔ اگر کوئی موجود ہوتا بھی ہے تو وہ اِس قابل نہیں ہوتا کہ مرنے والے کے لیے دو الفاظ ہی ادا کر سکے۔ تو اب ایسے موقع پر خاموشی ہی ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی میں 23 مارچ تک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ہے۔
تدفین کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر کے باہر لواحقین کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جیسے کسی سپر مارکیٹ کے باہر ہوتی ہیں۔
شمالی اٹلی میں مردہ خانے بھرے ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے لیکن تدفین کرنے والے اِس تعریف سے محروم ہیں۔
ماسیمو مینکیسٹروپا کے مطابق تدفین کرنے والوں کو صرف روحوں کے ٹرانسپورٹر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ’ہمیں یونانی دیو مالائی داستان کے کردار کیران کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مرنے والوں کی روحوں کو دوسری دنیا میں لے جاتا ہے۔‘











