شام میں جنگ: ایسا امداری کارکن جو تباہ حال شہر چھوڑنے کو تیار نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کی حزب اختلاف کے زیر انتظام آخری صوبے ادلیب کے نصف تباہ شدہ شہر ساراقیب میں اب چند لوگ ہی رہ گئے ہیں۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں جب یہاں 60 ہزار سے زیادہ لوگ آباد تھے لیکن گذشتہ کچھ ماہ میں کئی خاندان، مسلسل بمباری، بھوک اور سردی سے بچنے کے لیے یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں۔ یہاں باقی رہ جانے والے لوگوں میں شہری دفاع کے ایک رضاکار لیتھ العبداللہ بھی شامل ہیں۔
جنگ سے پہلے 42 برس کے لیتھ ایک مالیاتی ادارے میں اکاؤنٹنٹ تھے۔ لیکن ان دنوں وہ صرف یہ گنتے ہیں کہ ملبے کے ڈھیر سے کتنے لوگ زندہ بچ نکلے۔ ان میں سے بہت سے لوگ شام یا روسی بمباروں کی جانب سے کیے گئے ہوائی حملوں میں اس وقت پھنس گئے جب وہ اپنے گھروں سے قیمتی سامان لینے واپس آئے۔
لیتھ کی اہلیہ اور ان کے دو بچے ان افراد میں شامل ہیں جو یہاں سے جا چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس قدر اموات دیکھی ہیں کہ وہ انھیں یہاں رکھنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
وہ کہتے ہیں ’اب وہ ہم سے دور ہیں اور ہم کبھی کبھی ویڈیو کالز پر بات کرتے ہیں۔ میں انھیں یاد تو کرتا ہوں لیکن مجھے سکون ہے کہ انھیں اس خطرے کا سامنا نہیں جو مجھے ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیتھ نے سب سے پہلے اپنے بھائی، محمد کو کھویا، لیتھ کی جانب سے انھیں بچانے کی سخت کوششوں کے باوجود وہ سنہ 2012 میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد مارے گئے۔ سول ڈیفنس رضاکاروں کے ساتھ یہ ان کی پہلی شفٹ تھی جسے وائٹ ہیلمٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’میں نے اپنے بھائی کو ملبے سے نکالنے میں مدد کی اور انھیں ہسپتال پہنچایا لیکن وہ چند گھنٹے بعد مر گئے۔ وہ صرف 22 برس کے تھے۔ یہ تب ہوا جب یہاں ساراقیب میں پہلی بار شدید بمباری ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ سوچ رہے ہوں گے اس واقعے کے بعد لیتھ نے وائٹ ہیلمٹس کے ساتھ کام کرنا روک دیا گیا ہو گا لیکن پھر درحقیقت اس کے برعکس ہوا۔
وہ کہتے ہیں ’اس کے بعد کئی بار شدید بمباری ہوئی اور بہت سے لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی۔ یہ جانتے ہوئے مجھے اس بات کی ترغیب ملی کہ میں ان کے لیے ہر ممکن مدد کر سکوں۔ اس سے مجھے میرے بھائی کو کھونے کے غم کو کم کرنے میں مدد ملی۔‘
لیتھ سنہ 2015 کے ایک ریسکیو آپریشن کو بھی یاد کرتے ہیں، یہ وہ وقت تھا جب اسد کی حامی افواج نے اس قصبے پر بیرل بم برسانے شروع کیے۔ یہ بم نہ صرف لوگوں کے گھروں کو ملیا میٹ کر دیتے بلکہ ان کے پھٹنے سے بڑی تعداد میں چھرے بھی باہر نکلتے، جن سے بڑی تعداد میں شہری زخمی بھی ہوتے۔
وہ کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے کہ میں گھنٹوں تہہ خانے میں پھنسی ایک بزرگ خاتون کو بچانے کے لیے ملبے میں اپنے ہاتھوں سے کھدائی کرتا رہا۔ میں ان کی چیخ وپکار سن سکتا تھا لیکن شروع میں وہ مجھے دکھائی نہ دیں۔ لیکن آخر کار ہم انھیں زندہ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔‘
ایک اور حالیہ کامیابی بھی ان کے دماغ میں ہے۔
لیتھ کہتے ہیں ’میں نے اپنی ٹیم کے باقی ممبران کے ساتھ مل کر ایک نو سال کی بچی اسلام کو ملبے کے ڈھیر سے نکالا۔ اس کو سانس لینے میں انتہائی دشواری ہو رہی تھی وہ وہ ملبے میں اس قدر پھنس چکی تھی کہ اس کی جان کسی بھی لمحے جا سکتی تھی لیکن مجھے یہ کہنے میں خوشی ہے کہ ہم نے اسے بچا لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک اور حالیہ بمباری کے بعد لیتھ کی ایک یونیورسٹی لیبارٹری کے ملبے سے نکلتے ہوئے تصویر لی گئی تھی جس میں ایک نوجوان سائنس کی طالبہ کی لاش ان کے بازوؤں میں تھی۔ لیکن اس کہانی کا اختتام اچھا نہیں ہوا۔
لیتھ کہتے ہیں ’یہ کیس بہت یادگار تھا جسے میرا نہیں خیال میں کبھی بھی بھول پاؤں گا۔‘
’اس کا نام عبیر تھا۔ وہ اس وقت زندہ تھیں جب میں نے انھیں اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور لیب سے بھاگ پڑا۔ وہ گریجویشن مکمل کرنے والی تھیں اور آپ مجھے عمارت کے باہر مدد کے لیے چیخے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔‘
’چاروں طرف میں لوگوں کی مدد کے لیے ایمبولینسوں کی آوازیں اور زخمیوں کی چیخیں سن سکتا تھا، لیکن تمام ایمبولینس پہلے سے ہی بھر چکی تھیں اور کوئی انھیں لے کر نہیں جس سکتا تھا اور ادھی ہی ان کی موت ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2011 میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ساراقیب ایک اہم زرعی شہر اور جنوبی ادلیب کے دیہاتوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا مرکز تھا۔
لیتھ بتاتے ہیں ’ہر طرح کے لوگ ہماری مارکیٹس میں آتے تھے یا یہاں سے ہو کر دوسری جگہوں پر جاتے تھے۔ ہمارے یہاں چند سیاح بھی تھے۔‘ یہ قصبہ ہمیشہ زندگی اور ہنسی سے بھرپور تھا۔ یہ بہت مصروف اور خوش جگہ تھی۔ اب یہ قصبے کا خاموش اور خالی خول ہے۔‘
نقل و حمل کے لیے ایندھن کی فراہمی بہت کم ہے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بجلی اور لکڑی کی فراہمی بھی انتہائی کم ہے۔
لیتھ کہتے ہیں ’لوگ ہر اس چیز کی تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ آگ جلا سکیں۔ وہ ایسی چیزوں کو بھی جلا دیتے ہیں جو انھیں عزیز ہوتی ہیں جیسے کہ فرنیچر اور کپڑے، اور ایسا قیمتی سامان بھی جو شہر سے ہجرت کرنے کی صورت میں وہ ساتھ نہیں لے جا سکیں گے۔‘
حالیہ ہفتوں میں اس خطے میں حزب اختلاف کے زیر انتظام سابقہ دیہاتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور شام کے صدر بشار الاسد نے بار بار اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس صوبے کے ہر ایک انچ کو دوبارہ لے کر رہیں گے۔ یہ خیال کہ لیتھ کو جلد ہی ادلیب میں ان سیکڑوں ہزاروں افراد کے ساتھ شامل ہونا پڑے گا جو گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، انھیں شدید غم زدہ کرتا ہے۔
لیتھ کہتے ہیں ’میں ہمیشہ ساراقیب میں رہا ہوں اور میں دل و جان سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے یہاں سے جانے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ یہ میری زندگی ہے، یہ میری روح ہے، یہ سب کچھ ہے۔‘
’آخر میں یہ سب بین الاقوامی معاہدوں پر منحصر ہے ،جن کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن مجھے امید ہے کہ ایک دن یہ شہر ویسا ہو جائے گا جیسا یہ پہلے تھا۔ یہ میری دلی خواہش ہے۔‘
۔













