خاشقجی قتل: مقتول صحافی کے بیٹے صلاح خاشقجی کا سعودی عدلیہ کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح خاشقجی نے سعودی عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے۔ پیر کو سعودی عرب کی ایک عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔
سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر صلاح خاشقجی کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کا فیصلہ دو اصولوں پر مبنی ہے: انصاف اور فوری قانونی چارہ جوئی۔ اس میں ناانصافی یا تاخیر نہیں ہے۔‘
’آج ہمیں، خاشقجی کے بچوں کو، انصاف ملا ہے۔۔۔ ہم ہر سطح پر سعودی عدلیہ پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘
خاشقجی سعودی حکومت کے بہت بڑے ناقد تھے اور انھیں اکتوبر 2018 میں استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں سعودی ایجنٹوں نے قتل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کا رد عمل
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ ان افراد کے خلاف احتساب کے لیے ایک اہم قدم ہے جو اس خوفناک جرم میں ملوث تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی صاف اور شفاف عدالتی کارروائی پر امریکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
تاہم روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ واشنگٹن مکمل احتساب کے لیے دباؤ ڈالے گا۔ امریکی انٹیلیجنس کے ذرائع کے مطابق امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سعودی عدالتی کارروائی کو مسترد کیا ہے۔
ان کے مطابق سی آئی اے کے ماہرین اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم یا اس کی منظوری دی تھی۔ روئٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جن پانچ افراد کو سزائے موت دی گئی ہے وہ اس قتل میں محض سپاہی تھے جبکہ جن دو اہلکاروں کو بری کیا گیا ہے ان کا زیادہ اہم کردار تھا۔
سعودی استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ان میں سے ایک سینیئر اہلکار، سعود القحطانی، قتل میں ملوث تھے۔ دوسری طرف عدالت نے انٹیلیجنس کے سابق نائب سربراہ احمد العسیری کے خلاف الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER / AFP
پانچ ملزمان کو سزائے موت
سرکاری وکیل کے مطابق یہ واقعہ ’بغیر اجازت کے کیے گئے ایک آپریشن‘ کے نتیجے میں پیش آیا تھا اور اس قتل کے الزام میں 11 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک ماہر کے مطابق یہ ایک ’ماورائے عدالت قتل‘ تھا۔
اس کیس پر کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایگنس کیلامارڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔
سعودی ولی عہد نے اس واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، تاہم اکتوبر میں انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے رہنما کی حیثیت سے وہ اس کی ’پوری ذمہ داری قبول‘ کرتے ہیں۔
’ناکافی شواہد‘
سعودی عرب میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ پانچ سینئر حکام کو ان کی نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ ان سرکاری اہلکاروں میں نائب انٹیلیجنس چیف احمد العسیری اور شہزادہ محمد بن سلمان کے معاون خصوصی سعود القحطانی شامل تھے۔
جنوری میں 11 افراد کے خلاف ریاض میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور استغاثہ نے ان میں سے پانچ کے لیے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔ ان 11 افراد کے نام نہیں بتائے گئے تھے۔
پیر کو استغاثہ کا کہنا تھا کہ سعود القحطانی کے خلاف تحقیقات کی گئی تھی لیکن 'ناکافی شواہد کی بیاد پر' فرد جرم نہیں عائد کی گئی اور یہ کہ احمد العسیری کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ذمہ دار کون؟
ایگنس کیلامارڈ نے جون میں بتایا تھا کہ جن پانچ افراد کو موت کی سزا کا سامنا ہے ان میں یہ افراد شامل ہیں: فاہد شابیب البلاوی، ترکی الشہری، ولید عبداللہ الشہری، مہر عبدالعزیز مترب نامی انٹیلیجنس افسر جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سعود القہتانی کے لیے کام کرتے تھے، اور ڈاکٹر صالح جو کہ وزارت داخلہ کے ساتھ فارینزک ڈاکٹر ہیں۔
ایگنس کیلامارڈ کی جانب سے کیے گئے انٹرویوز میں دفاع کے وکلا کا موقف تھا کہ یہ لوگ ریاست کے ملازم تھے اور اپنے افسران کے احکامات پر اعتراض نہیں کر سکتے تھے۔














