سعودی ولی عہد محمد بن سلمان: پسندیدہ بیٹے سے عرب دنیا کے طاقتور ترین رہنما تک کا سفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار
عام طور پر ایم بی ایس کے نام سے مشہور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند معاشرے کو بدلنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن دوسری طرف انھوں نے سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں جھونکا ہے، اور حقوق کے لیے مظاہرے کرنے والی خواتین، مذہبی علماء اور بلاگرز کو قید کروایا۔ بہت سے لوگ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ گذشتہ سال سعودی حکومت کے نقاد صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔
تو آخر ایم بی ایس کہلانے والے یہ شخص کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’چپ چاپ نوٹس لینے والا لڑکا‘
ستمبر 2013 میں جدہ کی چلچلاتی دھوپ میں شاہی محل کے گارڈز نے مضبوط آہنی دروازوں سے آتی ہوئی ہماری گاڑی کو اندر جانے دیا۔ اس وقت کے عمر رسیدہ ہو چکے سعودی ولی عہد اور وزیرِ دفاع سلمان بن عبدالعزیز سے ملنے کا وقت لینے کے لیے ہمیں کئی دن انتظار کرنا پڑا تھا۔
کئی سال پہلے 2004 میں شہزادہ سلمان ریاض کے گورنر تھے جب ہماری بی بی سی کی ٹیم پر حملہ ہوا۔ مجھے چھے گولیاں مار کر مرا ہوا سمجھ کر چھوڑ دیا گیا جبکہ میرے آئرش کیمرہ مین سائمن کمبرز کو ہلاک کر دیا گیا۔ مجھے بعد میں بتایا گیا کہ شہزادہ سلمان نے ہسپتال میں میری عیادت کی تھی، لیکن مجھے اس کا کوئی علم نہیں کیونکہ میں اس وقت ہوش میں نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج سلمان بادشاہ ہیں اور ان کی صحت بھی کوئی اچھی نہیں۔ 2013 میں بھی میں نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ جب ہم محل کے استقبالیہ کمرے میں شاندار سنہری کرسیوں پر بیٹھے تھے تو ان کا ہاتھ چلنے والی چھڑی پر ہی تھا۔
جب وہ آہستہ آہستہ مگر بلند آواز میں انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے مجھے بتاتے تھے کہ انھیں لندن کتنا پسند ہے، تو ان کے لمبے سنجیدہ چہرے پر اکثر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انہوں نے بہت غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ وہ 50 سال سعودی دارالحکومت ریاض کے گورنر رہے اور انھوں نے اس دوران اسے محض دو لاکھ افراد پر مشتمل ایک صحرائی قصبے سے پچاس لاکھ نفوس پر مشتمل شہر بنتے دیکھا ہے۔
مجھے ہلکا سا یاد ہے کہ اس شاہی مجلس کے دوران میں نے کمرے میں میرے پیچھے بیٹھے ایک شخص کو چپ چاپ نوٹس لیتے ہوئے بھی دیکھا۔
میں سمجھا کہ وہ کوئی سینیئر سرکاری ملازم یا ولی عہد کے پرائیویٹ سیکریٹری ہوں گے۔ میں یہ دیکھ سکتا تھا کہ وہ اونچے قد اور مضبوط جسم کے مالک تھے جبکہ ان کی داڑھی نفاست سے تراشی ہوئی تھی۔ وہ بشت کہلانے والا روایتی چوغہ پہنے ہوئے تھے جس پر کی گئی سنہری دھاگے کی کشیدہ کاری سے اس شخص کے درجے اور رتبے کا پتہ چلتا ہے۔
ملاقات ختم ہونے کے بعد میں نے خاموشی سے نوٹس لینے والے شخص سے اپنا تعارف کروایا۔ ہاتھ ملانے کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’میں شہزادہ محمد بن سلمان ہوں۔‘ انھوں نے انکساری سے کہا کہ ’میں ایک وکیل ہوں اور آپ میرے والد سے بات کر رہے تھے۔‘
جدہ کی اس شدید گرم دوپہر میں مجھے اس وقت خیال تک نہیں آیا کہ یہ آہستہ بولنے والا اور نسبتاً گمنام 28 سالہ شخص ایک دن عرب دنیا کے آج تک کے سب سے زیادہ طاقتور اور متنازع رہنماؤں میں سے ایک بن کر ابھرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمال خاشقجی کا قتل
دو اکتوبر 2018 کو دوپہر ایک بج کر 14 منٹ پر جمال خاشقجی استنبول کے علاقے لیونٹ کی ایک سادہ سی خاکستری رنگ کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں۔
ایم بی ایس پر کھلم کھلا تنقید کرنے والے ایک ممتاز لکھاری جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے میں اپنے طلاق کے کاغذات کی تصدیق کروانے آئے تھے۔
لیکن جب وہ عمارت کے اندر پہنچے تو ریاض سے بھیجی ہوئی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنٹوں کی ایک ٹیم نے انھیں قابو کرنے کے بعد قتل کیا، ٹکڑے ٹکڑے کیا اور جسم کو ایسا غائب کیا کہ وہ آج تک نہیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یمن کی جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سعودی فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ایم بی ایس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سینکڑوں سعودی باشندے جیلوں میں قید ہیں لیکن اس صحافی کے سفاکانہ قتل کی وجہ سے زیادہ تر دنیا سعودی ولی عہد کے خلاف ہو گئی۔
سعودی عرب کی سرکاری تردید کے باوجود مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو یقین ہے کہ اگر کچھ اور نہیں تو کم از کم ایم بی ایس کو خاشقجی کو خاموش کرنے کے آپریشن کا پہلے سے علم تھا۔ اطلاعات کے مطابق سی آئی اے کو یقین ہے کہ قتل کا حکم انھوں نے دیا تھا۔
29 ستمبر کو سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹ‘ میں ولی عہد نے یہاں تک کہا کہ وہ جو کچھ ہوا اس کی ’پوری ذمہ داری‘ لیتے ہیں۔ پی بی ایس کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ ’ان کے دور‘ میں ہوا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جرم کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں، جس کی وہ اور ان کی حکومت تردید کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس سفاکانہ اور پراسرار قتل کے اہم لنک ایم بی ایس کے ایک قریب ترین سابق مشیر 41 سالہ سعود القحطانی ہیں۔ یہ پہلے ایئر فورس میں ہوا کرتے تھے۔
خاشقجی کے قتل سے پہلے تک شاہی دربار میں ایم بی ایس تک پہنچنے کا راستہ انھیں ہی تصور کیا جاتا تھا۔ انھیں اس واردات کے فوراً بعد شاہ سلمان کے حکم پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
القحطانی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے مخصوص سافٹ ویئر پروگرامز کی مدد سے ملک اور بیرونِ ملک میں موجود سعودی باشندوں کی نگرانی کی ایک جارحانہ حمکت عملی جاری رکھی ہوئی تھی۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اس میں کسی کے بھی موبائل فون کو اس کے علم کے بغیر جاسوسی کی ڈیوائس میں تبدیل کرنا شامل تھا۔
جو بھی ایم بی ایس یا ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا، سوشل میڈیا پر انھیں بیہودہ اور دھمکی آمیز پیغامات ملنے شروع ہو جاتے۔ دس لاکھ سے زائد ٹوئٹر فالوورز رکھنے والے القحطانی دشمن سمجھے جانے والے افراد کو ہراس اور ذلیل کرنے کے لیے فوراً ہی لوگوں کو کام سے لگا دینے کی قوت رکھتے تھے۔
2017 کے موسمِ گرما میں جب سعودی بلاگرز، جمہوریت کے لیے مہم چلانے والوں، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور دیگر افراد کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جا رہا تھا تو جمال خاشقجی کو احساس ہوا کہ ان کو بھی خطرہ ہے۔
اسی سال جون میں جب ایم بی ایس ولی عہد بنائے گئے تو خاشقجی چپکے سے ملک سے چلے گئے اور امریکہ میں پناہ لے لی۔
59 سالہ صحافی ہمیشہ سے خود کو محبِ وطن سعودی کہتے تھے۔ وہ 2000 کی دہائی کے اوائل تک لندن میں سعودی سفیر کے میڈیا کے مشیر تھے اور میں ان دنوں ان کے ساتھ کافی بھی پیا کرتا تھا۔
لیکن امریکہ جانے کے بعد انھوں نے واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھنے شروع کر دیے جن میں ایم بی ایس کے آمرانہ انداز حکمرانی پر کڑی تنقید کی جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ ولی عہد کو اس سے بہت غصہ آتا تھا۔
خاشقجی کو ریاض سے ٹیلیفون آنا شروع ہو گئے کہ وہ واپس آ جائیں، انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا بلکہ انھیں سرکاری نوکری بھی دی جائے گی۔
خاشقجی نے ان یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ القحطانی کی ٹیم نے ان کی ای میل اور ٹیکسٹ میسیجز کو ہیک کیا ہے اور ولی عہد کے دیگر مخالفین کے ساتھ ان کی گفتگو کو بھی پڑھ چکے ہیں۔
خاشقجی اور دیگر افراد عرب دنیا میں آزادی اظہار کی ایک تحریک لانا چاہتے تھے۔ ان کے ٹوئٹر پر 16 لاکھ فالوورز تھے اور وہ مشرقِ وسطیٰ کے نمایاں ترین صحافیوں میں سے ایک تھے۔
ایم بی ایس اور ان کے قریبی مشیروں کے لیے خاشقجی ایک واضح خطرہ بن جاتے لیکن سی بی ایس کے ساتھ انٹرویو میں ولی عہد نے اس بات کی بھی تردید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماضی میں سعودی قیادت کے حکم پر متعدد مرتبہ ’بھٹکے ہوئے‘ شہریوں، یہاں تک کہ شہزادوں کو بھی اغوا کیا اور ریاض واپس لایا گیا ہے تاکہ بقول تجزیہ کاروں کے ’انھیں لائن پر واپس لایا جا سکے۔‘ لیکن کسی کو بھی قتل نہیں کیا گیا۔ کسی غیر ملکی شہر میں قتل ان کے روایتی طریقہ کار سے کوسوں دور کا کام ہے۔
خاشقجی کی موت فوراً ہی ایک بین الاقوامی سکینڈل بن گئی۔
ابتدائی طور پر ایک بھونڈی سی وضاحت کے بعد کہ خاشقجی کے ساتھ استنبول میں کیا ہوا ہوگا، سعودی حکام نے پوری کوشش کی کہ ایم بی ایس کو اس سکینڈل سے دور رکھا جائے۔
کہا گیا کہ یہ اپنے طور پر کی گئی ایسی کارروائی تھی جس میں لوگ دیے گئے احکامات سے آگے نکل جاتے ہیں اور معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ لیکن سی آئی اے اور دیگر مغربی خفیہ ایجنسیوں نے وہ لرزہ خیز آڈیو ٹیپس سنی ہیں جو ترکی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی نے سعودی قونصل خانے کے اندر سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھیں۔
اور جب امریکہ نے ان 17 افراد کے خلاف پابندیاں لگائیں جن پر شک تھا کہ قتل میں ان کا ہاتھ ہے تو اس لسٹ میں سعود القحطانی اول نمبر پر تھے۔
لیکن آج تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ہے جس سے ایم بی ایس بلا شک و شبہ اس قتل سے منسلک قرار دیے جا سکیں۔
لیکن وال سٹریٹ جرنل نے سی آئی اے کی حاصل کردہ ایسی خفیہ دستاویزات شائع کی ہیں جن کے مطابق خاشقجی کے قتل سے پہلے، دوران اور بعد میں ایم بی ایس نے سعود القحطانی کو کم از کم 11 ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔
مزید پڑھیے
لیکن ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ خلیجی عرب ممالک میں جہاں میں رہا ہوں اور کئی سال کام کیا ہے، وہاں کوئی کارروائی ’اپنے طور پر‘ نہیں ہو جاتی۔ خلیج میں اوپر کے احکامات کے بغیر کبھی بھی کچھ نہیں ہوتا۔
اگست 2018 میں قتل سے پہلے سعود القحطانی نے ایک معنی خیز ٹویٹ کی تھی۔ وہ یوں تھی: ’کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں رہنمائی کے بغیر فیصلے کرتا ہوں؟ میں شاہ اور ولی عہد کے احکامات پر عمل کرنے والا اور ان کا ملازم ہوں۔‘
کسی نے اب تک یہ نہیں کہا کہ شاہ سلمان کا قتل سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ منصوبہ ان کے پسندیدہ صاحبزادے کے اندرونی دائرے میں ہی بنایا گیا ہے۔ ایک سابق برطانوی انٹیلیجنس افسر کہتے ہیں کہ ’یہ ناقابلِ فہم ہے کہ ایم بی ایس کو اس کا علم نہ ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سو القحطانی کہاں ہیں اور ان پر مقدمہ کیوں نہیں چل رہا؟
میں نے یہی سوال حال ہی لندن میں تعینات ہونے والے نئے سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر السعود سے پوچھا۔ انھوں نے مجھے یقین دلایا کہ القحطانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ وہ جرم میں شامل تھے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوگی۔ لیکن ریاض سے آنے والی اطلاعات کے مطابق القحطانی اگرچہ منظرِ عام پر زیادہ سامنے نہیں آ رہے، لیکن ان کو حراست میں بھی نہیں لیا گیا ہے۔
ایم بی ایس کے قریبی حلقے کی قریبی معلومات رکھنے والے ایک خلیجی رہائشی کے مطابق ’وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے لیکن وہ اب بھی سائبر سیکیورٹی کے معاملات اور پراجیکٹس میں شامل ہیں۔‘ وہ زیادہ سامنے نہیں آ رہے لیکن وہ ان کی مہارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایم بی ایس کے گرد لوگوں کے مطابق القحطانی وہ شخص ہیں جنھوں نے ’ٹیم کے لیے خطرہ مول لیا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہاں (استنبول والا) آپریشن غلط سمت میں گیا لیکن انھوں نے خود کو ملنے والے احکامات پر عمل کیا تھا۔‘
خاشقجی کے کیس میں سعودی عرب نے 11 افراد پر مقدمہ قائم کیا ہے۔ کارروائی جنوری میں شروع ہوئی تھی لیکن نو ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کسی کے خلاف جرم ثابت ہونے اور کسی کو سزا دیے جانے کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے کہ مقدمہ کب ختم ہو گا۔
سعودی نظامِ انصاف ویسے ہی انتہائی غیر شفاف ہے جس میں عدالتی فیصلوں کا انحصار تعزیرات کے بجائے اکثر جج کی مرضی پر ہوتا ہے۔
ایک سینیئر اہلکار جن کا کارروائی میں نام لیا جا رہا ہے وہ میجر جنرل احمد العسیری ہیں۔ وہ انٹیلیجنس کے نایب سربراہ ہیں اور اس سے قبل سعودی عرب کی یمن کے خلاف متنازع جنگ کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔
میری ان سے ریاض میں کئی مرتبہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور مجھے کبھی وہ ایسے شخص نہیں لگے جو اوپر سے اجازت لیے بغیر کوئی ایسا منصوبہ بنا سکتے ہوں۔
اس غیر واضح ٹرائل کا جو بھی فیصلہ آئے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ خاشقجی کے قتل نے ایم بی ایس اور سعودی عرب کی عالمی ساکھ کو زبردست اور دیرپا نقصان پہنچایا ہے۔
ستمبر میں سعودی سفیر نے مجھے لندن میں کہا تھا کہ ’میں واضح کر دوں کہ خاشقجی کا قتل ہمارے ملک، ہماری حکومت اور ہمارے عوام پر ایک دھبہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ نہ ہوا ہوتا۔‘ سعودی شاہی خاندان کے اتنے سینیئر فرد کی جانب سے ایسا غیر رسمی انداز بہت حیران کن تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک نرم سعودی عرب
وسط دسمبر میں دارالحکومت ریاض سے تھوڑا باہر الدرعیہ کے مضافات میں آدھی رات کا وقت ہے۔ مغربی ملبوسات پہنے سعودی نوجوانوں کا ایک مخلوط ہجوم موسیقی پر تھرک رہا ہے۔ انھوں نے سمارٹ فونز اٹھائے ہوئے ہیں اور آڈیٹوریم میں لیزر لائٹس ادھر ادھر پڑ رہی ہیں۔
فرانسیسی ڈی جے ڈیوڈ گوئٹا سٹیج پر موجود ہے۔ اسی جگہ پر خواتین گاڑی چلانے کے اپنے نئے حق کو استعمال کرتے ہوئے ریاض کی پہلی فارمولا ای ریس دیکھنے کے لیے اپنی جدید ترین سپورٹس کاروں میں آئی ہیں۔ بلیک آئیڈ پیز اور اینریکے اگلیسیاس کے کنسرٹ بھی ہوئے ہیں۔
یہ جدت پسند ولی عہد کے حکم سے نیا سعودی عرب ہے۔ انٹرٹینمنٹ اپنا راستہ بنا چکی ہے اور ثقافتی قدامت پسندی باہر ہو چکی ہے۔
گذشتہ 40 سال کے دوران سعودی عرب میں رہنے والے یا وہاں کا دورہ کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ تبدیلی بہت غیر معمولی ہے۔

،تصویر کا ذریعہfrank gardner
لڑکیوں اور لڑکوں کا پارٹی کے ماحول میں اس طرح آزادانہ اکٹھے ہونا کچھ عرصہ پہلے تک ناقابلِ فہم تھا۔ یہ ان قدامت پسند مذہبی علماء نے ممنوع قرار دیا ہوا تھا جن کی حمایت پر سعودی خاندان اپنی حکومت کے جواز کے لیے انحصار کرتا ہے۔
جس سعودی عرب کو میں جانتا ہوں اس کا عوامی چہرہ ایک زاہدانہ اور مسرت سے عاری چہرہ ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں مذہبی پولیس ’مُطوّع‘ نے شریعت کی اپنی تشریح کے مطابق ریاض میں مشہور شیشہ کیفے بند کروا دیے تھے اور دوکانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ موسیقی نہ بجائیں۔
2017 میں ولی عہد بننے کے بعد ایم بی ایس نے شاہ کی حمایت کے ساتھ سعودی عرب کا تشخص بدلنے کی کوشش کی ہے۔ سنیما، عورتوں کی ڈرائیونگ، عوامی مقامات پر تفریحی پروگراموں پر کئی برسوں سے پابندی تھی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ وہ اسے ایک نرم اور مہربان ملک بنانا چاہتے ہیں۔
ایم بی ایس نے اکتوبر 2017 میں کہا تھا کہ ’گذشتہ 30 سال میں جو کچھ ہوا، وہ سعودی عرب کا حقیقی روپ نہیں تھا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد لوگوں نے مختلف ممالک میں اس کی نقل کرنی چاہی تھی، ان میں سے ایک سعودی عرب بھی تھا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ اور یہ مسئلہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
حقیقت میں انتہائی قبائلی اور قدامت پسند ملک ہونے کی وجہ سے سعودی عرب نے کبھی بھی قاہرہ اور بغداد جیسے شہروں کی طرح کی دلکشی اور توجہ حاصل نہیں کی تھی۔ بہرحال ایم بی ایس کے یہی الفاظ تھے جو وائٹ ہاؤس سننا چاہتا تھا۔
اس وقت تک واشنگٹن اور نئے ولی عہد کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے بعد مئی 2017 میں اپنے غیر ملکی دورے کے لیے ریاض کو چنا اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ایم بی ایس کے ساتھ قریبی تعلقات بنائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اعتدال پسند اسلام‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے ایم بی ایس نے عوامی کنسرٹس کے اجازت نامے جاری کیے اور قبطی مسیحیوں کے اجتماع کا اجازت نامہ بھی جاری کیا۔
ملک کے اندر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، خصوصاً نوجوانوں میں جو خود سے 50 سال بڑے افراد کی حاکمیت سے تنگ آ چکے تھے۔ ایم بی ایس 34 سال کے ہیں۔ وہ پہلے قومی رہنما جس سے سعودی نوجوان خود کو جوڑ سکتے ہیں۔
ایک خلیجی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’انھیں فاسٹ فوڈ پسند ہے، ہاٹ ڈاگ پسند ہیں اور وہ بہت زیادہ ڈائیٹ کوک پیتے ہیں۔‘ کہا جاتا ہے کہ ایم بی ایس مشہور ویڈیو گیم کال آف ڈیوٹی کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں اور ٹیکنالوجی کے بڑے مداح ہیں۔
نومبر 2018 میں ایک سرمایہ کاری فورم پر نوجوان سعودی خواتین ولی عہد کے ساتھ سیلفیاں لینے کے لیے بے تاب تھیں۔ انھوں نے اسے بخوشی قبول کیا۔ ان کے سخت اور جذبات سے عاری چہرے پر ایک فلمی اداکار جیسی مسکراہٹ آ گئی۔
ایک بین الاقوامی وکیل مالک دہلان کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب ان جیسے لیڈر کا طویل عرصے سے انتظار کر رہا تھا۔ سعودی عرب نے ان کے دادا شاہ عبدالعزیز کے بعد سے ایسی کرشماتی شخصیت کو نہیں دیکھا۔‘
سر ولیم پیٹے 2006 سے 2010 تک ریاض میں برطانیہ کے سفیر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں زیادہ تر سعودی خصوصاً نوجوان ولی عہد اور اس سفر کی سمت کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ایم بی ایس کی جانب سے طاقت کے اپنے ہاتھوں میں غیر معمولی ارتکاز کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’روایتی طور پر انھوں نے پھیلا ہوا اختیار دیکھا ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ بڑی تبدیلیوں کے لیے زیادہ فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ایم بی ایس سے کئی مرتبہ مل چکے ایک اور سابق برطانوی سفارتکار نے دیگر کئی لوگوں کی طرح نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’ایم بی ایس کو اپنی صلاحتیوں پر ایک غیر معمولی اعتماد ہے۔ وہ شمسی شعلے کی طرح ہیں۔ ان سے اچانک آئیڈیاز اور توانائی کا ذخیرہ باہر آتا ہے۔ وہ ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہو سکتے ہیں اور یہاں ناتجربہ کاری کا شائبہ ہوتا ہے۔‘
لیکن یہاں اس سے بھی زیادہ ایک خطرناک چیز کا شائبہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مخالفین سے نمٹنا‘
اگر آپ ایم بی ایس کی غیر معمولی سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے بارے میں ان کے رویے کو جانچیں تو یہ ہوگا کہ: ’میری مانو یا اپنا راستہ ناپو۔‘ اگر اسے صاف الفاظ میں لکھا جائے تو یہ ہے کہ ایم بی ایس کو اختلاف پسند نہیں۔
بلاگرز، علما، حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین، لبرل اور قدامت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں، سبھی کو ان سخت ظالمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے جن کے تحت اختلاف یا بحث پر پابندی ہے۔
اپنی سالانہ رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا کہ سعودی حکام نے 2018 میں ’پرامن مخالفین اور کارکنان کی گرفتاریوں، ٹرائلز اور انھیں سزائیں دینے کو تیز کیا، جس میں خواتین کے حقوق کی مہم کے خلاف بھی ایک وسیع اور مربوط کریک ڈاؤن شامل ہے۔‘
لیکن کیا یہ وہی حکمران نہیں جنھوں نے بالآخر سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کا حق دیا؟ ہاں یہ وہی ہیں۔ لیکن مبصرین کے مطابق ایم بی ایس چاہتے ہیں کہ تبدیلی اوپر سے نیچے آئے، مطلب شاہی دربار سے۔
سڑکوں پر برپا ہونے والی کسی عوامی تحریک کے نتیجے میں کسی قانون میں تبدیلی یا اصلاحات چاہے جتنی بھی چھوٹی ہوں، ان کا اشارہ بھی ایک ایسے ملک میں انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے جہاں کوئی سیاسی جماعت یا حزبِ اختلاف نہیں۔
لُجین الھذلول کی ہی مثال لے لیں۔ پڑھی لکھی، ذہین، سوشل میڈیا پر سرگرم خاتون جنھوں نے اپنی 30 ویں سالگرہ اس جولائی جدہ کے ایک جیل میں گزاری۔
ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا واحد جرم عورتوں کے ڈرائیونگ کے حق کے لیے مہم چلانا اور عورتوں پر مردوں کی سرپرستی کی پابندی کے خلاف آواز اٹھانا تھا جس کی وجہ سے مردوں کا بیویوں اور خواتین رشتہ داروں کی زندگیوں پر بہت کنٹرول رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
یہ دونوں قوانین ہی اب بدل دیے گئے ہیں۔ عورتیں ڈرائیونگ کر سکتی ہیں اور ولی کے نظام میں نرمی لائی گئی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ الھذلول اور کئی دوسری سرگرم خواتین کارکنوں نے کھلے عام اس چیز کا مطالبہ کر کے سعودی قیادت کو ناراض کیا جس کا کریڈٹ ایم بی ایس خود لینا چاہتے تھے۔ آپ سلطنت میں تبدیلی کی رفتار کو بدلنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔
الھذلول پہلی مرتبہ 2014 میں متحدہ عرب امارات سے ڈرائیو کرتے ہوئے سعودی عرب آنے پر گرفتار ہوئی تھیں۔ مارچ 2018 میں امارات میں قانونی طور پر گاڑی چلاتے ہوئے مبینہ طور پر سیاہ گاڑیوں کے ایک قافلے نے انھیں روکا، گرفتار کیا اور ریاض بھیج دیا جہاں انھیں کچھ عرصے کے لیے حراست میں رکھا گیا۔ مئی 2018 میں وسیع پیمانے پر ہونے والے ایک اور کریک ڈاؤن میں انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
الھذلول اور دوسری خواتین کارکن کہتی ہیں انھیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لِن معلوف کہتی ہیں کہ ’پہلے تین ماہ میں تفتیش کے دوران ان کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا اور برا سلوک کیا گیا جس میں کوڑے مارنا، بجلی کے شاک دینا اور جنسی طور پر ہراساں کرنا شامل ہے۔‘
سعودی حکام اپنے جیلوں اور پولیس سیلز میں ایسے کسی سلوک کی تردید کرتے ہیں۔ انھوں نے اس کی تحقیقات کا وعدہ کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انھیں مبینہ طور پر اذیت دینے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن ان ہی خواتین کے خلاف مقدمات بنا دیے گئے۔
لُجین کے بھائی ولید الھذلول جو ملک سے باہر رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ استغاثہ نے کبھی بھی تشدد کے الزام کی تحقیقات نہیں کیں۔ ’ہم نے تین شکایتیں بھیجیں لیکن انھوں نے کبھی جواب نہیں دیا۔ استغاثہ نے اپنا فیصلہ سعودی انسانی حقوق کمیشن کے مطابق کیا نہ کہ آزادانہ تحقیقات کے بعد۔‘
ولید الھذلول سعود القحطانی سے تفتیش کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ لُجین نے الزام عائد کیا تھا کہ القحطانی نے حراست کے دوران ان پر تشدد میں ذاتی طور پر حصہ لیا تھا۔
60 منٹ سے انٹرویو میں ایم بی ایس سے خواتین قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے متعلق پوچھا گیا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر تحقیقات کریں گے۔
30 سے زائد ممالک نے سعودی عرب سے سرگرم کارکنان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ کو ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا ہے اور برطانوی اور امریکی حکومتوں نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے اعلیٰ سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگست 2019 میں لُجین الھذلول کے خاندان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی افسروں نے جیل میں ان سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے بیان پر دستخط کریں جس میں ان کے رشتہ داروں کے اس دعوے کی تردید کی گئی کہ ان پر دورانِ حراست تشدد کیا گیا تھا۔ لُجین نے انکار کر دیا۔
حراست میں لی جانے والی دوسری خواتین کارکنوں میں ثمر بداوی بھی ہیں جنھوں نے سرپرستی کے قانونی کو چیلنج کیا تھا۔ ان کے علاوہ بلاگر اور خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلوانے کے لیے مہم چلانے والی ایمان النفجان اور خواتین کو گھریلو تشدد سے بچ نکلنے میں مدد کرنے والی ریٹائرڈ یونیورسٹی پروفیسر عزیزہ الیوسف بھی حراست میں لیے جانے والی خواتین میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ملک میں عورتوں کی حالتِ زار کے بارے میں کوئی عوامی ہمدردی نہیں پائی جاتی۔ میڈیا بھی ان معاملات پر بات نہیں کرتا۔ ان خواتین کے بارے میں منفی مہم چلائی گئی اور انھیں غیر محب وطن اور غدار قرار دیا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ریاست کے دشمنوں کو معلومات فراہم کیں۔
مرد کارکنوں کو پکڑنے اور سزائیں دینے کے بھی بہت واقعات ہیں۔
ستمبر 2018 میں سعودی استغاثہ نے کسی بھی ایسے شخص کے لیے پانچ سال قید اور 30 لاکھ ریال جرمانے کا اعلان کیا جو سوشل میڈیا پر کوئی بھی ایسی چیز شیئر کرتا ہوا پکڑا گیا جو حکام کے مطابق امن عامہ اور اخلاقیات کو متاثر کرتی ہو۔
لیکن ابھی تک ایم بی ایس مخالفت برداشت نہ کرنے کی عادت پر معذرت خواہ نہیں۔ اپنے انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں ہے۔ وہ کہتے ہیں جب آپ کو اس طرح کے وسیع و عریض اصلاحاتی پروگرام کو لے کر چلنا ہو تو اس قسم کی ضروری قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے۔
سوال پیدا ہوتا کہ کس طرح ایک شخص جسے چھے سال پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، وہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے طاقتور حکمران بن گیا۔
’سرزمین کا اپنا بیٹا‘
سعودی عرب کے تقریباً پانچ ہزار سینیئر شہزادوں کی طرح، 31 اگست 1985 کو پیدا ہونے والے محمد بن سلمان باقی دنیا سے دور انتہائی پرتعیش اور مراعات سے بھرپور ماحول میں پلے بڑھے۔
اپنے باقی 13 بہن بھائیوں کی طرح ان کا بچپن بھی پہرے داروں کے سائے میں ریاض میں واقع شاہی محل میں گزرا۔ محل میں ان کا ہر حکم اور فرمائش پوری کرنے کے لیے ملازموں، خانساموں، ڈرائیوروں اور دیگر غیر ملکی ملازمین کی ایک فوج ہر وقت موجود تھی۔
1990 کی دہائی کے وسط میں محمد بن سلمان کو جن اساتذہ نے ٹیوشن پڑھائی، ان میں رشید سکئی بھی شامل ہیں جو آج کل بی بی سی میں کام کرتے ہیں۔ رشید سکئی بتاتے ہیں کہ انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ کیسے روزانہ ایک شاہی ڈرائیور محل کی گاڑی میں انہیں لینے آیا کرتا تھا۔
بی بی سی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ محل کے سخت پہرے والے مرکزی دروازے سے گزرنے کے بعد ایسے شاندار بنگلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا کہ آپ کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے۔ سفید وردی میں ملبوس ملازم ان بنگلوں کے سامنے لگی گھاس اور پودوں کی باریکی سے تراش خراش کرتے دکھائی دیتے۔ وہاں ایک کار پارک بھی تھا جس میں قطار در قطار دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں۔
محمد بن سلمان کو پڑھانے والے کچھ اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک ذہین شاگرد تھے جو ہمیشہ بڑی توجہ کے ساتھ نوٹس بناتے تھے، لیکن رشید سکئی کے خیال میں شہزادے کا دھیان سبق سے زیادہ محل کے محافظوں کے ساتھ وقت گزارنے میں ہوتا۔
’لگتا ہے کہ انھیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہ جو جی میں آئے کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان جیسے دیگر شہزادوں کی طرح جب والد نے محمد بن سلمان کو پڑھائی کے لیے امریکہ یا برطانیہ جانے کی پیشکش کی تو شہزادے نے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس انھوں نے سعودی عرب کی کِنگ سعود یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا جہاں سے انھوں نے قانون میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ کئی مبصرین کہتے ہیں کہ شہزادے کے اس فیصلے نے ان کی مدد بھی کی اور یہی فیصلہ ان کی راہ میں رکاوٹ بھی ثابت ہوا۔
سعودی لوگ بہت زیادہ محب وطن ہوتے ہیں، اور چونکہ محمد بن سلمان نے اپنی ساری زندگی ملک کے اندر گزاری ہے، اس لیے لوگ انھیں ’وطن کا بیٹا‘ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ کئی سال تک ایم بی ایس کی انگریزی کمزور رہی اور ان میں دیگر شہزادوں کے برعکس آج تک کبھی مغربی ذہنیت کی گہری فہم نہیں پیدا ہو پائی ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں مردوں کے لیے چار بیویاں رکھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، ایم بی ایس نے ایک ہی اہلیہ پر اکتفا کیا ہے۔ انھوں نے سنہ 2009 میں اپنی کزن شہزادی سارہ بنت مشور بن عبدالعزیز سے شادی کی جن سے اب ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اور جہاں تک ایم بی ایس کے اپنے بیوی بچوں کا تعلق ہے، تو انھوں نے اپنے خاندان کو لوگوں کی نظروں سے مکمل طور پر مخفی رکھا ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے ہزاروں افراد میں سے، اور قانون کے ایک گمنام طالبعلم سے دیکھتے ہی دیکھتے اتنے زیادہ طاقتور ولی عہد کیسے بن گئے؟
اس سوال کا جواب شاطرانہ سیاست، ان کے والد کی خاص مہربانی اور خود محمد بن سلمان کے کردار کی بے پناہ قوت کے امتزاج میں ملتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابھی محمد بن سلمان صرف 23 برس کے تھے اور انھوں نے اپنی جماعت کے اچھے طالبعلموں کی طرح اپنی ڈگری مکمل ہی کی تھی، کہ ان کے والد نے انھیں بڑے عہدے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا۔
ایم بی ایس نے اپنے والد کے دفتر میں کام شروع کر دیا جہاں وہ ریاض کے گورنر کی حییثیت میں اپنے والد سے کام سیکھنے لگے۔ اس دوران شہزادے نے بڑی توجہ سے سیکھا کہ شہزادہ سلمان جھگڑوں کا تصفیہ کیسے کرتے ہیں، مختلف فریقوں کے تنازعے میں درمیانی راہ کیسے نکالتے ہیں، اور یوں انھوں نے سعودی ریاست کو چلانے کے گُر سیکھنا شروع کر دیے۔
پھر جب سنہ 2013 میں ایم بی ایس صرف 27 سال کے تھے تو انھیں ولی عہد کے دربار کا سربراہ بنا دیا گیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان پر سعودی عرب میں طاقت اور اثر رسوخ کے دروازے کھول دیے گئے۔ اور پھر اگلے ہی سال انھیں تقری دے کر کابینہ میں وزیر کا عہدہ دے دیا گیا۔
اور پھر سنہ 2015 آیا تو ایم بی ایس کے اثر رسوخ میں نہایت تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔
جب جنوری 2015 میں شاہ عبداللہ کا انتقال ہوا تو ان کا جانشین خاندان کی طاقتور سدیری شاخ سے تعلق رکھنے والے ان کے سوتیلے بھائی سلمان کو بنا دیا گیا۔ جب نئے بادشاہ نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت وہ 80 برس کے ہونے والے تھے۔
شاہ سلمان کے لاڈلے بیٹے محمد کو بہت جلد نہ صرف وزیر دفاع مقرر کر ریا گیا بلکہ شاہی دربار کا سکریٹری جنرل بھی بنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس وقت سعودی عرب کو اپنی جنوبی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا تھا۔ سرحد پار یمن کے شمالی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے حوثی قبیلے کا ایک گروہ آگے بڑھتا ہوا دارالحکومت صنعاء تک پہنچ چکا تھا، جبکہ ملک کے زیادہ آبادی والے تمام مغربی علاقے منتخب صدر اور ان کی حکومت کی گرفت میں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے ساتھ حوثیوں کے نظریاتی اور مذہبی تعلقات نے سعودی عرب کی نیندیں اڑا دیں۔ اور کئی اہم شہزادوں سے بات کیے اور سعودی اتحادیوں کو خبردار کیے بغیر، مارچ 2015 میں محمد بن سلمان نے آؤ دیکھا نہ تاؤ 10 ممالک کا اتحاد بنا کر حوثیوں کے خلاف فضائی بمباری شروع کر دی۔
سرکاری سطح پر سعودی عرب کی توجیہہ یہ تھی کہ وہ یمن میں اس حکومت کو بحال کرنا چاہتا ہے جسے اقوام متحدہ بھی تسلیم کر چکی تھی، تاہم اپنے جس مقصد کا سعودی عرب نے اقرار نہیں کیا وہ ایران کو یہ واضح پیغام پہنچانا تھا کہ سعودی عرب اپنی شمالی سرحد پر ایسے کسی گروہ کا قبضہ برداشت نہیں کرے گا جسے ایران کی پشت پناہی حاصل ہو۔
سعودی عرب کا خیال تھا کہ یمن میں فوجی کارروائی سوویت یونین کے زمانے کے چھوٹے موٹے ہتھیار رکھنے والے بے سرو سامان جنگجوؤں کے ایک گروہ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی سے زیادہ نہیں ہوگی۔
لیکن ہوا اس کے برعکس، یمن کی لڑائی ایک ایسا دلدل ثابت ہو رہی ہے جہاں نہ صرف سعودی خون اور سرمایہ ضائع ہو رہا ہے بلکہ اس سے یمن بھی تباہ ہو رہا ہے۔
زمینی حالات کو دیکھا جائے تو ابھی تک سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کو یمن میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔ آج تقریباً پانچ سال گزر جانے کے بعد یمن جنگ کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے اور ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ وہاں غذائی قلت، ہیضہ اور دیگر امراض وبائی شکل اختیار کر چکے ہیں اور تقریباً دو کروڑ لوگ، یعنی ملکی آبادی کا دو تہائی حصہ، عالمی امداد کا طلبگار بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن سرحد کی دوسری طرف، سعودی عرب کے اندر محمد بن سلمان کی مقبولیت میں اس وقت تیزی سے اضافہ ہوگیا جب انھوں نے یمن پر چڑھائی کا آغاز کیا۔ ایم بی ایس کے پاس کسی قسم کا کوئی فوجی تجربہ نہیں تھا، لیکن سعودی ٹی وی پر انھیں ایک ایسے ’مجاہد شہزادے‘ کے طور پر دکھایا گیا جو فیصلہ سازی کی قوت سے مالا مال ہے اور ہر قدم ملکی مفاد میں اٹھا رہا ہے۔
شروع شروع میں مغربی ممالک بھی ایم بی ایس کے اقدامات کے زبردست حامی تھے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو خفیہ معلومات کے ساتھ ساتھ عسکری ساز و سامان بھی فراہم کیا جبکہ برطانیہ نے تکنیکی مدد کے علاوہ سعودی افواج کو ان آلات اور عسکری ساز و سامان کو استعمال کرنے کی تربیت اور معاونت بھی فراہم کی جو برطانوی اسلحہ ساز کمپنی بی اے ای سسٹمز نے سعودی عرب کو فروخت کیے تھے۔
اس کے علاوہ برطانیہ کی رائل ایئر فورس کے دو سکواڈرن لیڈر بھی ریاض میں قائم اتحادی فضائی آپریشنز کے مرکز میں تعینات کیے گئے جن کا کام سعودیوں کے نشانے کرنے کے طریقہ کار کی نگرانی کرنا تھا، اگرچہ برطانوی وزارتِ دفاع کا اصرار ہے کہ انھوں نے اہداف منتخب نہیں کیے۔
سعودی فضائیہ کی بمباری اکثر و بیشتر خامیوں سے بھرپور پائی گئی ہے۔
ان حملوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ، کئی ہسپتالوں، جنازوں، رہائشی علاقوں اور سکول کی بسوں کو اڑا کر رکھ دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق یمن میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سعودی اتحاد کی فضائی بمباری میں مارے گئے۔ سعودی عرب پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے غیر فوجی علاقوں پر کلسٹر بم بھی پھینکے ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں پر بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات ہیں جن میں بغیر سوچے سمجھے بارودی سرنگیں بچھانا، کم عمر لڑکوں کو سپاہی بھرتی کرنا، گھروں پر بمباری اور متاثرین کے لیے آنے والی امداد کو اپنے قبضے میں لینا شامل ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ستمبر 2019 تک حوثی سرحد پار سے نہ صرف 260 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغ چکے ہیں بلکہ 50 دھماکہ خیز ڈرونز بھی بھیج چکے ہیں۔ تاہم یہ حملے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی فضائی طاقت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک میں لوگ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں جو یمن میں ہونے والی ہلاکتوں کو منظر عام پر لا رہی ہیں۔
پانچ برس کے اندر اندر یمن کی صورت حال دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طاقت اور اس کا اظہار
20 جون 2017 کو مکہ میں شاہی محل کے سنہری در و دیوار کے پیچھے کچھ ایسا ہوا جس نے سعودی تاریخ کے دھارے کو تبدیل کر دیا۔ شاہ سلمان نے اس وقت کے ولی عہد محمد بن نائف کو طلب کر کے حکم دیا کہ وہ اپنے کہیں کم عمر کزن ایم بی ایس کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔
تجربہ کار برسوں تک محمد بن نائف معاملات کو نہایت مہارت سے چلاتے رہے تھے۔ 2000 کے عشرے میں جب وہ انسداد دہشتگردی (کے محکمے) کے سربراہ تھے تو انھوں نے نہایت کامیاب حکمت عملی اپنائی جس کی بدولت ملک میں القاعدہ کی خطرناک شورش کو شکست دی گئی۔ امریکیوں کو بھی ان پر اعتبار تھا اور وہ محمد بن نائف کو پسند بھی کرتے تھے۔ اگرچہ وہ کبھی بھی متحرک شخصیت کے مالک نہیں تھے، تاہم سب لوگ یہی سمجھتے تھے کہ شاہ سلمان کے بعد محمد بن نائف ہی تخت نشین ہوں گے۔
لیکن سننے میں یہ آتا تھا کہ وہ ابھی تک اس ناکام قاتلانہ حملے کے اثرات سے باہر نہیں نکل پائے جب 2009 میں القاعدہ کا ایک خود کش بمبار اس کمرے کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا جہاں محمد بن نائف موجود تھے۔
سعودی عرب میں بادشاہ کا حکم حرف آخر ہوتا ہے اور اس پر کسی قسم کی نہ بحث کی جا سکتی ہے نہ مزاحمت۔ چنانچہ تب سے محمد بن نائف عوامی زندگی سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوں محمد بن سلمان اور ان کے والد ایک سینیئر شہزادے کو اتنے زبردست طریقے سے راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے کہ نہ کسی کو آنچ آئی نہ کوئی خون بہا۔
ملک کو نئے خطوط پر استوار کرنے کے خواہشمند محمد بن سلمان نے فوراً ہی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کام شروع کر دیا۔
سنیچر 4 نومبر 2017 کی شام تقریباً 200 نمایاں شہزادوں، کاروباری شخصیات اور دیگر اہم لوگوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ ان لوگوں پر نہ کوئی الزامات عائد کیے گئے، نہ جیل بھیجا گیا، بلکہ ان سب کو ریاض کے پرتعیش رٹز کارلٹن ہوٹل میں محصور کر دیا گیا۔ کچھ افراد کو تو یہاں کئی ماہ تک محصور رکھا گیا۔
اس ساری کارروائی کا مقصد بدعنوانی کی بیخ کنی بتایا گیا، اور ہوٹل کے ان نئے ’مہمانوں‘ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی آزادی کی قیمت کے طور پر مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے کمائے گئے اربوں ریال واپس کریں۔
لیکن ایم بی ایس کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو حراست میں لینے کی وجہ بدعنوانی نہیں تھی، بلکہ ایم بی ایس طاقت کے اس برہنہ اظہار کے ذریعے ہر اس شخص کو خاموش کر دینا چاہتے تھے جو انھیں چیلنج کرنے کا سوچ سکتا تھا۔
اس کارروائی کے ساتھ ساتھ ایم بی ایس نے وفات پا چکے شاہ عبداللہ کے کبھی طاقتور رہ چکے خاندان کی شاخ سے تعلق رکھنے والے سینیئر شہزادوں کے خلاف بھی اقدامات کیے۔
تب سے وہ ملکی دفاع اور سکیورٹی کے تینوں محکمے یعنی نیشنل گارڈ، وزارت داخلہ اور فوج کو اپنے کنٹرول میں لا چکے ہیں۔ بظاہر ایم بی ایس اب فیصلہ کن قوت رکھتے ہیں۔
بڑی بڑی شخصیات کو پکڑ کر رٹز کارلٹن میں بند کر دینے نے کاروباری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پریشان کر دیا۔ اب لوگوں کو کیسے معلوم ہو کہ سعودی عرب میں کس شخص کے ساتھ کاروبار کرنا محفوظ ہے؟ اگلا گرفتار کیے جانے والا شخص کون ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بے یقینی کے باوجود سعودی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ایم بی ایس کی ان کارروائیوں کو بہت سراہا۔ سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہوسکتا ہے لیکن اس کی ایک بڑی آبادی، خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے کے شہری غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی لیے جب لوگوں نے یہ مناظر دیکھے کہ محمد بن سلمان نے کس طرح ان تاجروں اور شہزادوں کو ’ہلا کر‘ رکھ دیا جنھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا، تو ملک کے اندر ایم بی ایس کے حامیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔
ایک اور چیز جس سے ملک کے اندر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، وہ ایم بی ایس کی وہ کوششیں ہیں جن کے تحت وہ تیل سے آمدن کے علاوہ دیگر معاشی شعبوں کو بھی ترقی دے رہے ہیں۔ ایم بی ایس نے معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے لیے سعودی عرب کو ایک ایسا ملک بنانے کی کوشش کی ہے جہاں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہو اور کم تنخواہ پر کام کرنے والے لاکھوں سعودی نوجوانوں کو روزگار کے اچھے مواقع ملیں۔
ایم بی ایس کا ’وژن 2030‘ منصوبہ نہایت پرعزم ہے۔ اس پروگرام میں مستقبل قریب کا ایک ایسا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں سعودی عرب یورپ، ایشیا اور افریقہ کو جوڑنے والا عالمی مرکز بن جائے گا۔
وژن 2030 میں تفریح کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے 64 ارب ڈالر کا ایک منصوبہ بھی شامل ہے جبکہ سیاحت کے شعبے میں روزگار کے دس لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن باقی چیزوں کی طرح وژن 2030 کے اہداف پر بھی جمال خاشقجی کے قتل کے سائے لہرا رہے ہیں۔ مثلاً، کچھ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سعودی عرب میں اپنی سرمایہ کاری اس خوف سے کم یا منسوخ کر دی ہے کہ کہیں ان کا نام اس شخص کے ساتھ نہ منسلک ہوجائے جو اب بھی اس قتل کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر مشکوک ہے۔
لیکن اس کے باوجود وژن 2030 پر عمل جاری ہے اور اس میں ایک شاندار معاشی مستقبل کا منصوبہ بھی شامل ہے جسے ’نیوم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نیو-مستقبل کا مخفف ہے جس کے معنی ہیں ایک ’جدید مستقبل۔‘
سعودی عرب کے شمال مشرقی کونے میں جہاں بحیرہ احمر کا نیم گرم پانی مصر، اردن اور اسرائیل کے ساحلوں کو چھوتا ہے، وہاں 21 ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک بہت بڑا شہر بسانے کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں آج تیز صحرائی ہواؤں سے بکھرتی ریت اور سیاہ چٹانیں ہیں، جہاں پہلی عالمی جنگ کے دوران تھامس ایڈورڈ لارنس (لارنس آف عریبیہ) اور عرب فوج اپنے اس وقت کے ترک دشمنوں سے نبرد آزما تھی، عین اس جگہ پر 500 ارب ڈالر کے تعمیراتی منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا جو سرحد کے آر پار 26 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوگا۔
نیوم نامی یہ شہر اتنا جدید ہوگا کہ وہاں ہر طرف ڈرونز اڑ رہے ہوں گے، ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کاریں ہوں گی، آپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے قسم قسم کے روبوٹ ہوں گے، مصنوعی ذہانت کا دور دورہ ہوگا، شمسی توانائی سے لیس ماحول دوست مکان ہوں، بائیوٹیکنالوجی ہوگی اور ’انٹرنیٹ آف تھنگز‘ یعنی چیزوں کا انٹرنیٹ بھی ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کے مطابق یہ شہر 2025 تک معرض وجود میں آ چکا ہوگا، لیکن کچھ ماہرینِ معاشیات کو ان اندازوں پر شک ہے۔
ان میں سے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ’نہیں، یہ بالکل بھی حقیقی نہیں ہے۔ نیوم ہمیشہ سے ایک خواب رہا ہے اور یہ خواہشات اور حقیقت کے درمیان فاصلہ کا عکاس ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود محمد بن سلمان دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔‘
لیکن اس کے باوجود ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ایم بی ایس اتنے زیادہ پراعتماد ہیں کہ ان کے خیال میں یہ شہر ٹیکنالوجی کی دنیا میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پالو آلٹو کا ہم پلہ ہوگا جو ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔
جہاں تک کسی منصوبے کے تحت نئے شہر بسانے کا تعلق ہے، تو سعودی عرب کا اس حوالے سے کوئی شاندار ریکارڈ نہیں رہا ہے۔
خلیج میں مقیم ایک ماہر معاشیات کے بقول ’آپ کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کی ہی مثال لے لیں۔ منصوبے کے مطابق 2020 تک اس شہر کی آبادی 20 لاکھ ہونا تھی، لیکن ابھی تک یہاں صرف آٹھ ہزار لوگ آباد ہوئے ہیں۔ اس لیے میرا جواب نفی میں ہوگا، وہ اپنے اس اقتصادی خواب کو عملی شکل نہیں دے سکتے۔‘
اس کے باجود نیوم کا شہر ممکنہ طور پر تعمیر ہوگا، لیکن اس پر کام کی رفتار سست رہے گی۔ اس حوالے سے ابھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کیا یہ شہر غیر ملکی سرمائے کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے اور کیا یہاں روزگار کے بہت زیادہ موقع پیدا ہو جائیں گے، ان اندازوں پر ابھی بہت بڑے سوالات موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سب کا نتیجہ
ستمبر 2018 میں برطانیہ کے موجودہ وزیر اعظم بورس جانسن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس پر خرچ ہونے والے 14 ہزار پاؤنڈ ان کے سعودی میزبانوں نے ادا کیے تھے۔ یہ تمام اخراجات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔ جانسن کو اس دورے کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی، لیکن یہ دورہ جمال خاشقجی کے قتل سے صرف دو ہفتے پہلے ہوا تھا۔
ان سے پہلے سعودی عرب میں حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں خبریں کم ہی دکھائی دیتی تھیں اور مغربی رہنماؤں میں ایم بی ایس کی شہرت بہت اچھی تھی۔
اس کے بعد کے حالات میں، بورس جانسن کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں شاید سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
اور اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ مغربی ممالک جہاں ایم بی ایس کو سعودی عرب میں معاشرتی تبدیلیوں کا بہت بڑا علمبردار سمجھا جاتا تھا، اب وہاں کم از کم عوامی سطح پر تو ایم بی ایس کو کافی برا سمجھا جاتا ہے۔
کئی دیگر مبصرین کی طرح نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک خلیجی مبصر کا کہنا تھا کہ خاشقجی کے قتل نے سعوی عرب کو ’قاتلوں کے کلب‘ میں شامل کر دیا ہے۔ بظاہر اس واقعے نے ایم بی ایس کو قذافی، صدام حسین اور بشارالاسد کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ اور یہ وہ کلب ہے جس میں سعودی عرب کو اس سے پہلے کبھی بھی شامل نہیں کیا جاتا تھا۔‘
نجی سطح پر سعودی عرب کے ساتھ بہت سے لوگ کاروبار کر رہے ہیں کیونکہ سعودی عرب کی معیشت بہت بڑی ہے اور یہ ملک اتنے پرکشش ٹھیکے دیتا ہے کہ مغربی تاجر ان سے انکار نہیں کر سکتے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک سعودی عرب کے پکے اتحادی ہیں۔
امریکی کانگریس سعودی عرب کو کئی ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے کو روکنے کی ناکام کوشش کر چکی ہے لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملی۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اس کوشش کو معاشی اور سٹریٹیجک بنیادوں پر رد کر دیا تھا۔
سعودی مارکیٹ کی وسعت، اور ایران کے توسیع پسندانہ اقدامات کے خلاف اسے ایک مضبوط بند سمجھے جانے کا مطلب ہے کہ مغربی رہنما سعودی عرب پر تنقید ہمیشہ نرم الفاظ میں ہی کریں گے۔
لیکن اس کے باوجود مغربی ممالک کی طرف سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تنقید کی وجہ سے ریاض میں اضطراب پیدا ہو چکا ہے۔
اسی لیے سعودی عرب نے صورت حال پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ مثلاً شہزادی ریما بنت بندر السعود کو امریکہ میں سعودی عرب کا سفیر تعینات کیا گیا ہے، جو نہ صرف ملک کی پہلی خاتون سفیر ہیں بلکہ ایک ایسی نفیس کاروباری شخصیت ہیں جو کئی سال تک امریکہ میں مقیم رہی ہیں۔
یوں اس دارالحکومت میں جہاں ارکان کانگریس اور دیگر لوگ امریکہ اور سعودی عرب کی شراکت داری کے جواز پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہاں عوامی سطح پر سعودی سفارت کاری کی شناخت ایک تجربہ کار اور پراعتماد خاتون کو بنا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن سعودی عرب روس، چین اور پاکستان کے ساتھ شراکت کے امکانات کا بھی بڑی مستعدی سے جائزہ لے رہا ہے۔ یہ ممالک سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے کبھی ایسے سوالات نہیں اٹھاتے جن پر اسے خفت کا سامنا کرنا پڑے۔
گذشتہ 12 ماہ کے دوران امریکی انٹیلیجنس حکام اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایگنس کیلامارڈ سمیت کئی سخت بیانات اور الزامات منظر عام پر آ چکے ہیں جن سے یاد دہانی ہوتی ہے کہ مغربی دنیا کے نزدیک جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ذاتی طور پر ایم بی ایس نے ہی دیا تھا۔ ایگنس کا اصرار ہے کہ آخر کار اس قتل کا ذمہ ایم بی ایس کو ہی ٹھہرایا جانا چاہیے۔
لیکن ملک کے اندر محمد بن سلمان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ایک مبصر کے بقول ’آپ 16 سے 25 سال کے درمیان کے کسی شخص سے بات کر کے دیکھ لیں، یہ سب انھیں ایک ہیرو سمجھتے ہیں۔ ایم بی ایس نے جو معاشرتی تبدیلیاں کی ہیں اور جس طرح مذہبی بنیاد پرستوں کی طاقت کو ختم کر رہے ہیں، یہ چیزیں نوجوانوں کو بہت اچھی لگ رہی ہیں۔‘
اس بات کے اشارے بہت کم ہیں کہ ایم بی ایس کی قیادت میں سعودی عرب میں جمہوریت کے حوالے سے کوئی حقیقی اقدامات کیے جائیں گے۔ تنقید تو دور کی بات ہے، اگر آپ حکمران خاندان اور اس کی پالیسی کے بارے میں کھلے بندوں بات بھی کریں تو آپ کو جیل میں ڈال دیے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
کئی برسوں سے ایم بی ایس کو اپنے والد، شاہ سلمان کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل رہی ہے، اور محمد بن سلمان کی حکمرانی کو بظاہر کسی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ایم بی ایس کے اپنے دربار کے حلقے میں بھی یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ مغرب میں جمال خاشقجی کے قتل میں ایم بی ایس کے مبینہ کردار کے حوالے سے جو ہنگامہ برپا ہے، ایک دن وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ شاید ان لوگوں کا خیال درست ہی ہے۔
دیکھا جائے تو کئی اعتبار سے سعودی عرب ایم بی ایس کی ذات ہی ہے۔ وہ کوئی جمہوری شخص نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مصلح، بلکہ اکثر لوگوں کے خیال میں وہ ایک ڈکٹیٹر ہیں۔ اور 34 سالہ ایم بی ایس یہ بات جانتے ہیں کہ جب موجودہ بادشاہ کا انتقال ہو گا تو مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آ جائے گی، ایک آدھ عشرے کے لیے نہیں، بلکہ اگلے 50 برس کے لیے۔
۔










