لبنان میں مظاہرے: وزیرِ اعظم سعد حریری نے عوامی دباؤ پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری ملک گیر عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم سعد حریری نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے لبنان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لبنان جمود کا شکار ہو چکا ہے اور جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے اس اقدام کی ضرورت تھی۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں موجود ہزاروں مظاہرین کی جانب سے سعد حریری کے اس اعلان پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
سیاستدانوں کی کرپشن اور بڑھتی معاشی بدحالی سے تنگ لبنانی عوام نے مظاہروں کا سلسلہ دو ہفتے قبل اس وقت شروع کیا تھا جب حکومت نے واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لبنان دنیا بھر میں بڑے مقروض ممالک میں سرِفہرست ہے۔
ملک گیر مظاہروں کے باعث ملک میں بڑی تعداد میں بینک، تعلیمی ادارے اور آفس گذشتہ دس روز سے بند تھے۔
سعد حریری نے کیا کہا؟
ٹی وی پر اپنی تقریر میں وزیر اعظم حریری کا کہنا تھا کہ وہ ایک 'بند گلی' میں پہنچ چکے ہیں جس نے باعث اب وہ اپنا اور اپنی کابینہ کا استعفی لبنان کے صدر مائیکل عون کو پیش کر دیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'گذشتہ 13 روز سے لبنان کے لوگوں نے اس سیاسی حل کے فیصلے کا انتظار کیا ہے جو مزید تنزلی کو روک سکے۔ اس دوران کسی مناسب حل کی تلاش کے لیے میں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا 'اب ہمارے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھائیں۔ بڑے عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، جو چیز ضروری ہے وہ عوام کی حفاظت اور ان کا وقار ہے۔'
لبنان کے صدر عون نے ابھی تک اس معاملے پر اپنا ردِعمل نہیں دیا ہے۔ اگر وزیر اعظم کا استعفی منظور ہو جاتا ہے تو لبنان کے آئین کے مطابق سعد حریری کو اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی پڑیں گی جب تک نئی ایڈمنسٹریشن عنان حکومت سنبھال نہیں لیتی۔
مظاہروں کی صورتحال
وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں صورتحال انتہائی پرتشدد ہے۔ یہ صورتحال لبنانی معاشرے میں موجود گہری تفرقہ بازی کی عکاس ہے۔
عسکریت پسند شیعہ گروپ حزب اللہ لبنان میں سعد حریری کی مخلوط حکومت کا اہم حصہ ہے۔ سعد حریری خود سنی ہیں۔ حزب اللہ نے ملک میں جاری مظاہروں کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔
منگل کے روز حزب اللہ سے وابستہ چند افراد نے مرکزی بیروت میں مظاہرین کے ایک کیمپ میں توڑ پھوڑ کی، نعرے لگائے، مظاہرین سے مار پیٹ کی اور کیمپ کو آگ لگا دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مظاہرین کی جانب سے سڑک پر لگائی گئی ایک رکاوٹ پر بھی حملہ کیا گیا۔
اس موقع پر پولیس کی جانب سے دونوں گروہوں کے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
مظاہرین میں شامل ایک خاتون تیما سمیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'صرف استعفی کافی نہیں ہے۔۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورا نظام تبدیل ہو۔ ہم اس وقت تک سڑکوں پر موجود رہیں گے جب تک ہمارے تمام مطالبات منظور نہیں ہوتے۔'

اب کیا ہو گا؟
بیروت سے نمائندہ بی بی سی رامی روہایم کا تجزیہ
یہاں بیروت میں مظاہرین نے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یہ اعلان آگے کے لائحہ عمل میں وضاحت کا باعث بنے گا۔
سعد حریری کا کہنا تھا کہ وہ بند گلی میں پہنچ چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ اپنے حکومتی اتحادیوں کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
سعد حریری کی جانب سے یہ کہنا کہ ہمیں ملک اور معیشت کی بہتری کے لیے نئے راستے کی ضرورت ہے اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ اب آئندہ لبنان کے سیاسی اور معاشی محاذ پر جو بھی ہونے جا رہا ہے حریری اس کا حصہ ہوں گے۔
اب لبنان کے صدر مستقبل کی حکومت کی تشکیل کے لیے پارلیمان سے رجوع کریں گے لیکن پارلیمان میں بھی وہ تمام سیاسی دھڑے موجود ہیں جو حریری کی مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔

لبنان میں مظاہرے شروع کیوں ہوئے؟
مشرقِ وسطیٰ کے اس ملک میں حالیہ برسوں کے دوران سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے دو ہفتے قبل شروع ہوئے تھے۔
حکومت مخالف مظاہروں میں لاکھوں شہری سڑکوں پر موجود رہے۔
احتجاج شروع ہونے کی ایک وجہ واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا حکومتی منصوبہ بھی تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ بعد ازاں حکومت نے یہ ٹیکس منسوخ کر دیا تھا مگر بعد میں مظاہرے وسیع تر اصلاحات کے مطالبوں میں تبدیل ہو گئے۔
لبنان کی معیشت سست شرحِ نمو اور بے تحاشہ قرضوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ اخراجات میں کٹوتی کے اقدامات نے عوام میں اشتعال کو جنم دیا ہے جبکہ انفراسٹرکچر کی دگرگوں صورتحال کی وجہ سے بجلی کی معطلی اور سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر روز مرّہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
قرضوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ لبنانی حکومت اقتصادی اصلاحات کے نفاذ کے کوشش کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی ڈونرز سے 11 ارب ڈالر (8.5 ارب پاؤنڈ) کا امدادی پیکج حاصل کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اقتصادی اصلاحات کے بغیر لبنان کا قرضہ اس سال کے اختتام تک مجموعی قومی پیداوار کا 150 فیصد ہو جانے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
اقتصادی بحران اور اس سے نمٹنے کی لبنانی حکومت کی حکمتِ عملی نے وسیع پیمانے پر اشتعال کو جنم دیا ہے اور کئی لوگ سیاسی تبدیلی کے مطالبات کر رہے ہیں۔
اچانک پھوٹ پڑنے والے ان مظاہروں نے دارالحکومت بیروت سمیت بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں مظاہرین ’انقلاب‘ کے نعرے لگاتے دکھائی دے رہے ہیں۔













