یوتھنیزیا: خودکشی میں مدد کیا ہے اور کہاں کہاں اس کی اجازت ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عارف شمیم
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن
حال ہی میں اٹلی سے ایک خبر آئی کہ وہاں کی اعلیٰ عدالت نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے ’ناقابلِ برداشت تکلیف‘ میں ہے تو اس کی ’خودکشی میں مدد کرنا جرم نہیں ہے‘۔
یہ اہم فیصلہ اطالوی شخص ڈی جے فیبیو انٹونیانی (ڈی جے فیبو) کے کیس میں دیا گیا جنھوں نے 2017 میں سوئٹزرلینڈ کے ایک یوتھنیزیا کلینک میں آسان موت کو ترجیح دی تھی۔
ڈی جے فیبیو سنہ 2014 میں ایک کار حادثے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد ان کی بینائی جاتی رہی اور ہاتھ پیر بھی مفلوج ہو گئے۔
جب انھوں نے اپنی بیماری سے تنگ آ کر ڈاکٹروں کی مدد سے خود کشی کا فیصلہ کیا تو اس پر اٹلی جیسے کیتھولک ملک میں ایک بڑی بحث شروع ہو گئی۔
40 سالہ انٹونیانی کی موت 27 ستمبر 2017 کو سوئٹزرلینڈ کی ڈگنیٹاس فیسیلیٹی میں واقع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رومن کیتھولک چرچ نے ان کی اس طرح موت کی کھلی مخالفت کی۔ چرچ نے عدالت کے فیصلے کے بعد بھی کہا کہ اس نے عدالت کے اس فیصلے سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے اور اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اس سے کچھ عرصہ قبل ہی عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے ویٹیکن میں ہیلتھ پروفیشنلز کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بیمار آدمی کی مرنے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اسے مارنے والی دوائی کے استعمال کی لالچ کو رد کریں۔
انھوں نے کہا کہ دوائی کی تعریف ہے کہ یہ انسانی زندگی کی خدمت کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے پیشرو پوپ سینٹ جان پال دوئم کا ایک جملہ دہراتے ہوئے کہا ’ہر ڈاکٹر کو کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کے تقدس کا مکمل احترام کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام کیا کہتا ہے؟
اسلام میں خود کشی کی اجازت نہیں اور علماء ایسی کوئی مثال نہیں دیتے جہاں کہا گیا ہو کہ ایسی حالت میں کسی کی مدد سے مرنے کی اجازت ہے۔
برطانیہ کے ڈربی شہر میں مقیم مرکزی جماعت اہل سنت یوکے کے ترجمان مفتی فضل احمد کہتے ہیں ’اسلامی نقطۂ نظر سے کسی بھی مرض کا علاج کرانا جائز ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اگر کوئی مریض کسی ایسی حالت میں چلا جائے کہ اسے لگے کہ اس مرض سے چھٹکارے کے لیے اسے خودکشی کی اجازت دی جائے تو یہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔ جائز یہ ہے کہ آخری وقت تک جہاں تک ممکن ہو مریض کا علاج کرایا جائے اور اگر مرض لاعلاج ہے تو مریض کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔‘
مفتی فضل احمد نے کہا کہ جو مریض لائف سپورٹ پر ہوتے ہیں اور ڈاکٹر بعد میں ان کی لائف سپورٹ منقطع کر دیتے ہیں تو یہ دوسرا معاملہ ہے۔
’جب مریض کومے میں ہوتا ہے تو وہ تو مشینوں کے ذریعے سانس لے رہا ہوتا ہے، اصل میں اس کی زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ جب مشینیں ہٹائی جاتی ہیں تو اس کی سانس بند ہو جاتی ہے اور اسے خود کشی نہیں کہا جا سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ جب کوئی مریض کہتا ہے کہ میں بہت اذیت سے گزر رہا ہوں، اس لیے میں مرنا چاہتا ہوں تو ’یہ ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں‘۔
’کوئی مریض کہے کہ مجھے مار ڈالو میں بہت اذیت سے گزر رہا ہوں، جب ایسا ہو گا تو اس کو ایک نئی اذیت ملے گی روحانی طور پر کیونکہ اس نے خود کشی کا ارتکاب کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج سے تین چار سو سال پہلے کسی بھی مذہب کا ایسا نقطۂ نظر نہیں تھا لیکن اب یورپ کے اندر یہ نیا نقطۂ نظر آ رہا ہے کہ آدمی کو اذیت سے نجات دلائی جائے۔
ان کے نزدیک ’یہ ظاہری اذیت ہے لیکن اس سے مرنے کے بعد اذیت مزید بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ جان اللہ کی دی ہوئی ہے، یہ میری نہیں ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جب کوئی امانت میں خیانت کرتا ہے تو اسے اس کی سزا ملتی ہے‘۔

یوتھنیزیا اور اسسٹڈ سوسائیڈ (خودکشی میں مدد) میں کیا فرق ہے؟
ویسے تو دونوں طریقوں میں ہی کوئی دوسرا شخص ہی کسی مریض کو مرنے میں مدد کرتا ہے لیکن قانونی طور پر ان میں تھوڑا سا فرق ہے۔
یوتھنیزیا زندگی کی اذیت ختم کرنے کے لیے اسے جان بوجھ کر ختم کرنا، جیسا کہ کوئی ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا دیتا ہے جبکہ اسسٹڈ سوسائیڈ میں عام شخص جانتے بوجھتے ہوئے کسی دوسرے شخص کی خود کشی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
اس میں آپ کسی کو بہت زیادہ طاقتور نیند کی گولیاں دے دیتے ہیں یا پھر اسے زندگی ختم کرنے کے لیے کسی ایسے ملک کا سفر کرنے کی سہولیات جیسا کہ ٹکٹ وغیرہ لے دیتے ہیں جہاں اسسٹڈ سوسائیڈ قانونی ہے۔
برطانیہ کے قانون کے تحت یہ دونوں غیر قانونی ہیں اور یوتھنیزیا کو قتل ہی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خود کشی کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کے گھر والوں سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔
برطانیہ کی سپریم کورٹ نے گذشتہ سال اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کسی ایسے مریض کا علاج منقطع کرنے کے لیے جو مستقل طور پر بے ہوش ہے یعنی اس کے جسم کو تو طبی تدابیر سے زندہ رکھا گیا ہے لیکن اس کے دماغ کی اعلیٰ صلاحیتیں کام نہیں کر رہیں، کسی قسم کی قانونی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
کن کن ممالک میں یوتھنیزیا کی اجازت ہے؟
ابھی تک جن ممالک میں یوتھنیزیا یا ڈاکٹر اسسٹڈ سوسائیڈ غیر قانونی نہیں ان میں بیلجیئم، کینیڈا، کولمبیا، لگزمبرگ، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کی چھ ریاستیں (کیلیفورنیا، کولوراڈو، مونٹانا، اوریگون، ورمونٹ اور واشنگٹن) شامل ہیں۔
بیلجیئم ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جہاں یوتھنیزیا کی کھلی اجازت ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال وہاں ڈاکٹروں کی مدد سے 2357 مریضوں نے جان دی تھی۔

مرنے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر
بی بی سی سٹوریز کی ایک رپورٹ میں بیلجیئم کے ایک ڈاکٹر ڈی لوشٹ کہتے ہیں ’ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم ہر چیز کا علاج نہیں کر سکتے اور جب ہم علاج نہیں کر سکتے تو ہمارا کردار ہے کہ ہم مریض کی اذیت کم کرنے کی کوشش کریں، اس کا درد کم کریں۔ اس لیے جب میں آخری حد تک جاتا ہوں تو میں بطور ایک ڈاکٹر وہی کر رہا ہوں۔
’یہ ایک اہم عمل ہے، ایک مشکل عمل جس کا جذباتی طور پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔
’میں اسے مریض کو مارنا نہیں کہتا۔ میں اس کی اذیت اور تکلیف (کی عمر) کو کم کر دیتا ہوں۔ میں حتمی کیئر مہیا کرتا ہوں لیکن میں یہ بالکل محسوس نہیں کرتا کہ میں مریض کو مار رہا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں ’کسی کو بھی انکار کرنا مشکل ہے۔ لوگ اتنی زیادہ تعداد میں درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں مجبوراً انھیں منتخب کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے میں ہمیشہ وہ مریض لیتا ہوں جو بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ نہ بھی کہا ہے اور وہ صرف طبی وجوہات کی بنا پر نہیں کہا بلکہ وجوہات بالکل صاف تھیں جیسے میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا تھا، اور اگر کوئی خاندان کا فرد ہوگا تو میں کبھی بھی خود یہ کام نہیں کروں گا۔‘
ہر یوتھنیزیا سے ایک رات پہلے ڈاکٹر لوشٹ مریض سے ملنے جاتے ہیں۔ وہ مریض کو ہیلو کرنے جاتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس نے اپنا ارادہ تو نہیں بدل لیا۔
ڈاکٹر لوشٹ نے اب تک 100 سے زیادہ افراد کی زندگی ختم کی ہے۔
بی بی سی کی ڈاکیومنٹری میں ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جن کی وہ زندگی کی آخری رات تھی۔ 82 سالہ مائیکل ایک سابق پولیس افسر تھے جن کو آخری درجے کا جبڑے کا کینسر تھا۔ مائیکل کا درد اتنا شدید تھا کہ انھوں نے کئی مرتبہ خود کشی کا سوچا۔
ان کا کہنا تھا ’میں ابھی تک برداشت کر رہا تھا کیونکہ انسانی وقار بہت اہمیت رکھتا ہے، میں ایسا وقار کے ساتھ ہی کرنا چاہتا ہوں۔‘
ان کی بیوی کا کہنا تھا کہ انھیں ایک سال سے زیادہ عرصے سے ٹیوب سے کھانا کھلایا جا رہا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ’میں ایک زنجیر پہنے کتے کی طرح محسوس کر رہا ہوں جو کہ غیر انسانی ہے۔‘
جب ڈاکٹر نے انھیں کہا کہ یہ آپ کی زندگی کی آخری رات ہے تو مائیکل کا کہنا تھا ’ہاں کل صبح سب ختم ہو جائے گا۔ یہ کینسر نہیں ہے جو مجھے لے کے جا رہا ہے، یہ میرا فیصلہ ہے۔‘
ڈاکٹر لوشٹ کہتے ہیں کہ جب مائیکل مرنے جا رہے تھے تو انھوں نے ہم سب کا شکریہ ادا کیا۔

’مرنے کا حق ہونا چاہیے‘
79 سالہ لوئس کی صحت ابھی ٹھیک ہے۔ لیکن وہ چاہتی ہیں کہ جب ان کا وقت آئے تو ان کو یوتھنیزیا کی سہولت میسر ہو۔
’میں سمجھتی ہوں کہ ہر کسی کو موت کا سامنا کرنا ہے، اس لیے جب یہ ہو تو آپ کھڑے ہو کر اس کا انتظار کریں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہم سب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ ہم سب نے مرنا ہے۔ اور یہ میرا حق ہے کہ میں اپنی زندگی کے ایک اچھے اختتام کا مطالبہ کروں۔ میں کسی ایسی جگہ نہیں مرنا چاہتی جہاں ہر طرف سے پیشاب کی بو آئے۔‘
لوئس ڈاکٹر ڈی لوشٹ کی ہی مریضہ ہیں۔
یوتھنیزیا کے عمل میں ہوتا کیا ہے؟
جب کوئی مریض اپنی بیماری سے تنگ آ کر مرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو سب سے پہلے ڈاکٹر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آیا مریض کی بیماری قابلِ علاج ہے یا نہیں۔
اس کے بعد اگر مریض چاہے تو اس کے قریبی خاندان والوں سے بھی بات کرتا ہے۔ جب یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ مریض بہت کرب میں ہے اور اس کی بیماری لاعلاج ہے یا مریض مزید تکلیف نہیں برداشت کرنا چاہتا تو ’مرنے کا ایک دن طے کیا جاتا ہے۔‘
آخری رات کو بھی ڈاکٹر مریض کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اگر اس نے ارادہ بدلنا ہے تو وہ بدل سکتا ہے۔
مریض کے حتمی فیصلے کے بعد اسے کمرے میں لے جایا جاتا ہے جہاں اسے گہری نیند میں سلانے کے لیے ٹیکہ لگا دیا جاتا ہے۔ اسی گہری نیند میں مریض کو زہر یا ایسا ٹیکہ جس سے موت واقع ہو جائے لگا دیا جاتا ہے۔
گہری نیند میں ہونے کی وجہ سے مریض کو اس کا بالکل پتہ نہیں چلتا۔











