ڈپریشن: ہر 40 سیکنڈ میں ایک مرد خود کشی کرتا ہے مگر کیوں؟

سیگریٹ نوشی کرتا ایک شخص دور خلا میں دیکھ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہر 40 سیکنڈ میں دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک مرد خودکشی کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اپنے مسائل کے بارے میں کم بات کرتے ہیں یا کم ہی مدد کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ وہ کون سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں مردوں کو زیادہ بات کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے؟

سوشل میڈیا بمقابلہ حقیقت

سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کا اثر انسان کی ذہنی صحت پر ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوینیا کی ایک تحقیق کے مطابق جتنا زیادہ وقت ہم سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم تنہا محسوس کر سکتے ہیں اور اداسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

لیکن اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔

سیلفی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا انسان کے اصل احساسات کے بارے میں بھی بتا سکتا ہے

اس تحقیق کی مصنف ملیسا ہنٹ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا عام طور پر معمول سے کم استعمال آپ کو تنہائی اور ڈپریشن میں کمی کی طرف لے کر جائے گا۔

یہ نتائج اور اثرات بطور خاص ان لوگوں کے بارے میں بتائے گئے جو اس تحقیق کا حصہ بنے اور بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار تھے۔

لیکن سوشل میڈیا خطرناک بھی ہو سکتا ہے!

مشیگن یونیورسٹی میں علم نفسیات کے پروفیسر اوسکر یبارا کہتے ہیں کہ ’سوشل میڈیا پر جو ہوتا ہے وہ کم ہی اصل زندگی کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ ہم اس میں مدد نہیں کر سکتے لیکن موازنہ کر سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے کہ ایسا ہو رہا ہے لیکن یہ ہوتا ہے۔‘

اوسکر کہتے ہیں کہ ’آپ لاگ ان کرتے ہیں تو آپ بہت ہی مربوط مواد سے ڈیل کر رہے ہوتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ اس پلیٹ فارم کا استعمال کریں گے اتنا ہی زیادہ موازنہ بڑھے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کیا محسوس کرتے ہیں۔‘

تہنائی

تنہائی کے بارے میں بی بی سی اور ویلکم کولیکشن فنڈ کے تعاون سے ہونے والے اپنی نوعیت کے پہلے سروے کے مطابق 16 سے 24 برس کی عمر کے نوجوان تنہائی محسوس کرتے ہیں۔

چھپ پر بیٹھا ایک شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2017 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک سٹڈی میں یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے لیے تنہائی سے نمٹنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

جب تنہائی بیماری کی حد تک بڑھ گئی تو یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ تنہائی، ڈمینشیا یعنی بھولنے کا مرض، متعدی امراض وغیرہ آپ کے رویے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

رونا

ایک شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رونے کے عمل سے نہ صرف انسان ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں اور سماجی تعلقات میں مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ بھی لوگوں کے ذہن میں بیٹھ چکا ہے کہ ’مرد رویا نہیں کرتے۔‘

برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 18 سے 24 برس کی عمر کے لڑکے یہ سوچتے ہیں کہ رونا مردانگی کی کمی کا عکاس ہے۔

آسٹریلیا میں خودکشی کو روکنے اور ایسے رجحانات رکھنے والوں کی مدد کرنے کے لیے امدادی ادارے، لائف لائن کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کولمن او ڈرسکول کہتے ہیں کہ ’ہم لڑکوں کو بہت چھوٹی عمر سے سکھاتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا کمزوری کی علامت ہے۔‘

گھر کے سرپرست کی حیثیت سے

برطانیہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 42 فیصد مرد یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنی بیوی یا پارٹنر کی نسبت زیادہ کمانا چاہیے۔

اولمائڈ ڈیوروجیے ان میں سے ایک ہیں۔

اولمائڈ ڈیوروجیے

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

،تصویر کا کیپشناولمائڈ ڈیوروجیے

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنے والد کو گھر کے لیے کماتے، دن رات کام کرتے، ملک بھر میں سفر کرتے دیکھا۔ مجھے ویسا ہی بننا تھا۔‘

’مجھے پیسہ کمانا ہے کیونکہ مجھے اس ’مرد‘ جیسا کردار ادا کرنا ہے جس کی میرے خیال سے میرے ساتھی کو ضرورت ہے۔'

معاشی ذمہ داری کا بوجھ کسی کے لیے بھی ذہنی صحت کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

سنہ 2015 میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک فیصد بے روزگاری بڑھنے سے خودکشی کی شرح میں اعشاریہ سات نو فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں مردوں میں خودکشی کے رجحان کو روکنے کے لیے کام کرنے والے ادارے ’کالم‘ کے سی ای او سائمن گننگ کے مطابق ’ہم اپنی پوری زندگی اپنے ساتھ والوں کے ساتھ موازنہ کرنے میں اور معاشی طور پر کامیاب ہونے میں صرف کر دیتے ہیں۔‘

جسمانی ساخت

گذشتہ برس جاش برطانیہ کے معروف ریئلٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد سلیبریٹی بن گئے۔

جوش دینزل

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

،تصویر کا کیپشنریئلٹی ٹی وی شو کو اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ نوجوانوں میں جسمانی ساخت کے معاملے کو نشانہ بناتا ہے

’میں پورا وقت جم میں ہوتا تھا لیکن شو میں جانے سے پہلے میں نے خود کو شیشے میں دیکھا اور حالانکہ میں نے اچھی خاصی باڈی بنا رکھی تھی مگر پھر بھی میں شو میں نہیں جانا چاہتا تھا۔‘

جاش مزید کہتے ہیں ’اب بھی اگر ساحل پر جاؤں تو اس سے برا احساس کچھ نہیں ہوتا کہ ایک لڑکا اپنے سِکس پیک والا جسم لے کر آپ کے ساتھ چل رہا ہو اور آپ خود کو دیکھ کر کمتر محسوس کریں۔‘