پولیس کی ماسک اتارنے کی کوشش، ہانگ کانگ کی احتجاجی مارچ پرتشدد ہو گئی

،تصویر کا ذریعہReuters
ہانگ میں حکومت مخالف مظاہرین نے سرکاری عمارتوں، ایک میٹرو سٹیشن اور ان کاروباری دفاتر پر حملے کیے ہیں جن کے چین سے تعلقات ہیں۔
پولیس نے گرفتار ہونے والے مظاہرین کے ماسک اتارنے کے لیے پانی پھینکنے والی توپ، آنسو گیس اور ڈنڈوں کا استعمال کیا۔ اس دوران کئی افراد زخمی بھی ہو گئے۔
ماسک پر متنازع پابندی کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے دسیوں ہزارسڑکوں پر نکل آئے۔ اتوار کو ہائی کورٹ نے پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ پابندی چیف ایگزیکیٹیو کیری لیم نے نافذ کی تھی۔ برطانوی دور میں بھی پولیس کو اس طرح کے اختیار دیے جاتے تھے۔
اتوار کو مظاہرین ماسک پر پابندی اور گذشتہ ہفتے پولیس کے مظاہرین پر گولیاں چلانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے
جمعہ کو پرتشدد واقعات کی وجہ سے شہر میں میٹرو سروس بند کر دی گئی تھی لیکن اتوار کو اسے جزوی طور پر کھول دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کو خدشہ ہے کہ چین کی حکمرانی والے اس نیم خود مختار علاقے میں جمہوری حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
اتوار کو کیا ہوا؟
بی بی سی کے رابن برانٹ کے مطابق مظاہرین ماسک پر پابندی کے خلاف اپنا غصہ دکھا رہے تھے اور تقریباً سبھی نے اپنے چہروں پر ماسک پہنے ہوئے تھے۔
پولیس پہلے مظاہرین کو دیکھتی رہی جو پرامن طور پر مظاہرہ کر رہے تھے لیکن جب وہ ’ہانگ کانگ مزاحمت کرتا ہے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے مرکز میں پہنچ گئے تو کچھ گھنٹوں کے بعد پولیس نے انھیں منتشر کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سنیچر کو بھی جمعہ کے مظاہرے کے دوران تشدد کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کے ساتھ یک جہتی کے طور پر ریلیاں نکالی گئیں جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تشدد کے ڈر سے دوکانیں جلد بند کر دی گئیں اور کئی تو سرے سے کھلی ہی نہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
18 سالہ ہیزل چین جنھوں نے سرجیکل ماسک پہنا ہوا تھا بی بی سی کو بتایا کہ ’پتہ نہیں ہمیں آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے اور کتنے چانس ملیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے سمجھتی کہ اس کا حکومت پر کوئی بڑا اثر ہو گا لیکن میں امید کرتی ہوں کہ ہمیں بین الاقوامی توجہ ملے گی اور ہم دنیا کو دکھا سکیں گے کہ ہم اس برے قانون کے آگے نہیں جھکے گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مظاہرے میں شامل ایک اور خاتون 19 سالہ ریلی فنگ کا کہنا تھا: ’مجھے مظاہروں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے کیونکہ جب لاکھوں لوگ بھی سڑکوں پر نکلے تو حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مظاہروں میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آتی رہیں گی۔
بارش میں نافرمانی
بی بی سی نیوزی ہیلیئر چوئنگ کہتی ہیں کہ بارش کے باوجود لوگوں کے حوصلے متزلزل نہیں تھے۔ بلا اجازت مارچ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ایمرجنسی قانون کے باوجود لوگوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کینٹونیس اور انگریزی میں ’ہانگ کانگ بغاوت کرتا ہے‘ اور ’ہانگ کانگ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کر رہے تھے۔
قانونی کی خلاف ورزی کے باوجود ابتدائی کچھ گھنٹوں تک سڑکوں پر پولیس نہیں تھی۔ مظاہرین نے ایک سڑک بلاک کر دی، اینٹیں کھودیں اور حکومت کے مذمت کے بینرز فلائی اوورز پر لگا دیے۔
پھر ایک دم کسی مقام سے آنسو گیس کے کئی شیل پھینکے گئے۔ تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک دم پولیس کی کئی گاڑیاں وہاں پہنچ گیئں۔ مظاہرین نے کہا کہ پانی کی توپیں آ رہی ہیں اور وہ وہاں سے بھاگنے لگے۔ ایک گھنٹے کے اندر ہی سڑکیں دوبارہ کھل گئیں اور زیادہ تر مظاہرین تتبر بتتر ہو گئے۔
انتظامیہ کا کیا ردِ عمل ہے؟
مس لام نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ تشدد کو روکیں گے۔ ’ہم فسادیوں کو اپنا قیمتی ہانگ کانگ مزید تباہ نہیں کرنے دیں گے۔‘
انھوں نے ماسک کے خلاف قانون کی توجیح پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ مظاہرین ’انتہائی تشدد‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی وجہ ہانگ کانگ کے عوام کے تحفظ کو خطرہ ہے۔
ہائی کورٹ نے ماسک کے خلاف پابندی کا دوسری درخواست بھی رد کر دی ہے۔ یہ درخواست حزبِ مخالف کے رہنماؤں نے دی تھی۔
ان کا موقف تھا کہ پابندی غیر آئینی ہے کیونکہ یہ آزادانہ رائے کے اظہار اور آزادنہ اکٹھے ہونے جیسے بنیادی حقوق سلب کرتی ہے۔
حالات کتنے کشیدہ ہیں؟
گزشتہ کچھ ماہ سے پولیس اور سرگرم کارکنوں کے درمیان جھڑپیں زیادہ پرتشدد ہوتی جا رہی ہیں۔
منگل کو پولیس نے ایک مظاہرہ کرنے والے پر پہلی مرتبہ سیدھی گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک پولیس والے پر مبینہ طور پر حملہ کر رہا تھا۔
جمعے کو شہر کے مغرب میں واقع یوئن لانگ ٹاؤن میں ایک 14 سالہ بچے کی ٹانگ پر بھی گولی ماری گئی۔
اسی علاقے میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس آفیسر کی کار کو بھی مظاہرین نے نذر آتش کر دیا۔ لیکن اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق حکام ان دونوں واقعات کو جوڑ نہیں رہے ہیں۔
ہانگ کانگ کی حیثیت کیا ہے؟
ہانگ کانگ ایک سابق برطانوی آبادی ہے جسے 1997 میں چین کو واپس دے دیا گیا تھا۔
اس میں ’ایک ملک دو نظام‘ ہیں جو اس کو خود مختار حیثیت، اور اس کے شہریوں کو کچھ آزادی دیتے ہیں، جس میں اکٹھے ہونے کی آزادی اور رائے کے اظہار کی آزادی شامل ہے۔
لیکن ان دونوں قوانین کی معیاد 2047 میں پوری ہو جائے گی اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے بعد ہانگ کانگ کی حیثیت کیا ہو گی۔








