چین کو ملزمان کی حوالگی کا متنازع قانون، ہانگ کانگ میں 20 لاکھ افراد کا تاریخی احتجاج

ہانگ کانگ احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناگر شرکا کی تعداد کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہو سکتا ہے

ہانگ کانگ میں لاکھوں افراد نے چین کو ملزمان کی حوالگی کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تقریبا 20 لاکھ افراد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔

اگر شرکا کی تعداد کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہو سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

مجوزہ قانون کے مطابق چین ہانگ کانگ سے سنگین جرائم میں ملوث مطلوب ملزمان کو اس کے حوالے کرنے کی درخواست کر سکتا ہے اور ان کے خلاف چین میں ہی مقدمات چلائے جا سکیں گے۔ ناقدین کے بقول یہ قانون سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے میں چین کی مدد کر سکتا ہے۔

ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام کی جانب سے بل کی معطلی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔

کیری لام نے اتوار کے روز بل پیش کرنے پر معذرت کر لی تھی۔ بہت سے مظاہرین جنھیں ہانگ کانگ پر چین کے اثر ورسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے، وہ کیری لام سے استعفی بھی مانگ رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو صرف معطل ہی نہیں بلکہ ختم بھی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

ہانگ کانگ احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

احتجاج میں کیا ہوا؟

بدھ کے روز ہونے والے مظاہرے کے مقابلے میں یہ احتجاج بنیادی طور پر پرامن تھا۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔

احتجاج دوپہر کو وکٹوریا سکوائر میں شروع ہوا جس میں زیادہ تو لوگوں نے سیاہ لباس زیب تن کر رکھے تھے۔

مارچ کی رفتار سست رہی کیونکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے گلیوں اور ٹرین سٹیشنوں کو بند کر رکھا تھا۔

مظاہرین

،تصویر کا ذریعہReuters

اندھیرا ہوتے ہی مظاہرین نے اہم شاہراؤں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور قانون ساز کونسل کی عمارت کا بھی گھیراؤ کر لیا۔

مظاہرین نے ’طالب علموں نے فساد نہیں کیا‘ کہ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ بدھ کو ہونے ولے احتجاج کو پولیس نے فساد کا نام دیا تھا، جس کی سزا دس سال تک قید ہے۔

چیف ایگزیکٹو کیری لام کی جانب سے بل کو معطل کرنے کے فیصلے پر بہت سے مظاہرین کو شکوک و شہبات تھے۔

ہانگ کانگ احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کے اپنے قوانین ہیں اور اس کے رہائشیوں کو وہ شہری آزادی حاصل ہے جو عام چینی باشندوں کو حاصل نہیں ہے

احتجاج میں شریک 67 سالہ ایک شخض نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ کیری لام نے ہانگ کانگ کے لوگوں کے جذبات کو نظر انداز کیا ہے۔‘ انھوں نے کہا ’ گذشتہ ہفتے ہوئے لاکھوں افراد کے مارچ کے بعد انھوں نے ایسے ظاہر کیا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔‘

’دوسری بات یہ کہ ہم ان طالب علموں کے لیے مارچ کر رہے ہیں جن سے پولیس بہت ظالمانہ انداز میں پیش آئی۔ ہمیں ان کے لیے انصاف چاہیے۔‘

تنازعہ کیا ہے؟

برطانیہ کی سابق نو آبادی، ہانگ کانگ سنہ 1997 میں چین کو واپس کیے جانے کے بعد 'ایک ملک، دو نظام' کے اصول کے تحت ایک نیم خود مختار ریاست بن گئی تھی۔

ہانگ کانگ کے اپنے قوانین ہیں اور اس کے رہائشیوں کو وہ شہری آزادی حاصل ہے جو عام چینی باشندوں کو حاصل نہیں ہے۔

ہانگ کانگ احتجاج

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشنناقدین کے مطابق ملزمان کی حوالگی کے قانون اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین کے حوالے کرنے سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے

ملزمان کی حوالگی کی تجویز اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ برس فروری میں ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے تائیوان میں مبینہ طور پر اپنی حاملہ گرل فرینڈ کو قتل کر دیا تھا۔ گزشتہ سال وہ شخص تائیوان سے فرار ہو کر ہانگ کانگ آ گیا تھا۔

ناقدین کے مطابق ملزمان کی حوالگی کے قانون اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین کے حوالے کرنے سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔

بہت سے لوگوں کا خدشہ ہے کہ اس قانون سے برطانیہ کی سابق نو آبادی کو چین کے انتہائی ناقص انصاف کے نظام کا سامنا

کرنا پڑے گا اور اس کی وجہ سے ہانگ کانگ کی عدلیہ کی آزادی مزید متاثر ہو گی۔

مظاہرین

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنناقدین کے مطابق ملزمان کی حوالگی کے قانون اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین کے حوالے کرنے سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے
مظاہرین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے 'طالب علموں نے فساد نہیں کیا' کہ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے
مظاہرین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے
مظاہرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبدھ کو ہونے ولے احتجاج کو پولیس نے فساد کا نام دیا تھا، جس کی سزا دس سال تک قید ہے
مظاہرین

،تصویر کا ذریعہAFP

۔