ہانگ کانگ کی آزادی کے حامیوں کو چین کی تنبیہ

،تصویر کا ذریعہ ISAAC LAWRENCE AFP Getty Images
چین کی حکومت نے ہانگ کانگ کی آزادی کی بات کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں ایسا کرنے پر سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے چین کی حکومت کی طرف سے یہ تنبیہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل میں جمہوریت پسند نوجوانوں کے منتخب ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
چین کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر ہانگ کانگ کی علیحدگی کی سوچ سے ہانگ کانگ کی کونسل کے اندر اور اس قانون ساز ادارے کے باہر سختی سے نمٹنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔
ہانگ کانگ میں اکثر لوگ بیجنگ کی طرف سے ہانگ کانگ کی اندرونی سیاست میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ہانگ کانگ کے قانون ساز ادارے کے لیے گذشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 30 جمہوریت پسند نوجوان امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ستر رکنی ایوان میں اس سے قبل 27 نمائندے ایسے تھے جو جمہوری آزادیوں کے حامی تھے۔
کونسل میں 30 جمہوریت نواز نمائندوں کے منتخب ہونے سے عددی طور پر انھیں یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری کو ویٹو یا روک سکتے ہیں۔
منتخب اراکین میں کم از کم چھ ایسے نمائندے شامل ہیں جو ہانگ کانگ کے حق خودارادیت کے حامی ہیں۔
ان میں 23 سالہ ناتھن لا بھی شامل ہیں جنھوں نے سنہ 2014 میں ’چھتری احتجاج‘ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ’ڈومنسٹو پارٹی‘ کے شریک بانی بھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان انتخابات میں بہت سے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے اس لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کی آزادی کے بارے میں اپنی سوچ میں تبدیلی کو ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
چینی کی حکومت ہانگ کانگ کو مزید سیاسی اور جمہوری آزادیاں دینے کی سوچ کی سخت مخالف ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Chinese
چین کے ہانگ کانگ اور ماکاو امور کے دفتر سے جاری ہونے والے ا یک بیان میں کہا گیا کہ انتخابی مہم میں کچھ امیدوار کھلم کھلا آزادی کی بات کرتے رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کی حکومت ہانگ کانگ کے ’خصوصی انتظامی خطے‘ کی قانونی حیثیت پر سختی سے کاربند ہے اور حکومت قانون کے مطابق اس کی مخالفت کرنے والوں کو سزائیں دے سکتی ہے۔
ہانگ کانگ کو چین کے خصوصی انتظامی خطے یا ’ایس آر اے‘ کی حیثیت حاصل ہے اور اسے ایک ملک دو نظام کے اصول کے تحت چلایا جاتا ہے۔
اس اصول کے تحت سابق برطانوی کالونی کوسنہ 2047 تک بڑی حد تک اپنی معیشت اور سماجی نظام کے بارے میں خود مختاری حاصل ہے۔
اتوار کو ہونے والے انتخابات سنہ 2014 کے عوامی احتجاج کے بعد پہلے الیکشن ہیں۔ سنہ 2014 کے احتجاج کئی ہفتوں تک جاری رہے تھے اور ہانگ کانگ کی آزادی کے حامیوں نے ہانگ کانگ کے مرکزی علاقوں کو مکمل طور پر بند رکھا تھا۔







