چین میں تیانانمن سکوائر کے واقعے کو 30 برس مکمل، ہانگ کانگ میں شمعوں کا سیلاب

بیجنگ کے تیانانمن سکوائر میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے 30 برس مکمل ہونے پر ہزاروں افراد ہانگ کانگ میں جمع ہوئے۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہانگ کانگ اور میکاؤ چینی علاقے میں وہ واحد مقامات ہیں جہاں سنہ 1989 میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کو یاد کیا جا سکتا ہے۔

چین نے مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کبھی بھی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے لیکن اندازے کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہReuters

منتظمین کے مطابق شہر کے وکٹوریا پارک میں مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار افراد جمع ہوئے لیکن پولیس کے مطابق یہ تعداد چالیس ہزار سے کم تھی۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مرکزی چین میں حکام نے مظاہرین پر ہوئے اس کریک ڈاؤن کا حوالہ دینے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ کریک ڈاؤن ہفتوں کے جاری احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا۔

منگل کے روز سیکورٹی اور پولیس کے ہزاروں اہلکار بیجنگ میں موجود اس سکوائر کی نگرانی کر رہے تھے۔

بی بی سی کی نامہ نگار گریس ٹسوئی کے مطابق ہانگ کانگ کا وکٹورہہ پارک ایک بار پھر شمعوں کا سمندر لگ رہا تھا۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مجمعے میں کئی لوگوں نے سیاہ لباس زیب تن کر رکھے تھے اور زیادہ تر خاموشی سے موم بتیوں تھامے شریک تھے۔

کچھ رو رہے تھے اور کچھ نعرے لگا رہے تھے ’ لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1989 کے مظاہروں میں شریک ہونے والی لیان لی نے جب آواز بلند کی کہ ’ہم بھولنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم جھوٹ پر یقین کرنے سے انکار کرتے ہیں‘ تو مظاہرین نے تالیاں بجائیں۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وکٹوریہ پارک کے اجتماع میں ٹریزا چن بھی شریک تھیں۔ وہ سنہ 1990 سے لے کر اب تک ہر یادگار میں شریک ہوئی ہیں ماسوائے ایک کے، جب وہ بیمار تھیں۔

انھوں نے کہا ’میں بیجنگ جا کر اس مہم کا حصہ بننا چاہتی تھی لیکن میں ںہیں جا سکی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سب ایسے ختم ہو گا یہ بھولنا بہت مشکل ہے۔‘

احتجاج

،تصویر کا ذریعہReuters

لیکن اس سال یادگار میں کچھ نئے لوگ بھی شامل تھے۔

30 سالہ مس لیونگ نے کہا کہ وہ پہلی بار یہاں آئی ہیں کیونکہ وہ ہانگ کانگ کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔

انھوں نے کہا ’چینی حکومت یہاں جو کر رہی ہے مجھے اس پر غصہ ہے۔‘

احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP

چین کے رہائشی زینگ بھی اپنی اہلیہ اور 11 سالہ بیٹی کے ساتھ اس یادگار میں شریک تھے۔ ان کی بیٹی نے کہا یہ آنکھیں کھول دینے والا تجربہ ہے۔ ’میں یہاں چین کی اصل تاریخ جاننے آئی ہوں۔ اب میں محسوس کر رہی ہوا کہ چین دوسرے ملکوں سے بہتر نہیں۔‘

اس یادگار میں پھولوں اور موم بتیوں کے علاوہ چین میں بدعنوانی کے قوانین میں ترامیم کےحوالے سے اجتجاجی پوسٹرز بھی شامل تھے۔

بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ نیی تبدیلیاں ہانگ کانگ میں سول آزادی میں مزید کمی کا باعث بنیں گی۔

تیانانمن سکوائر میں 30 برس پہلے کیا ہوا تھا؟

،ویڈیو کیپشنKate Adie reports as Chinese troops fire on protesters

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔