تیاننمن سکوائر:برسی پرسکیورٹی سخت

چینی کے دارالحکومت بیجنگ میں انیس سو اناسی میں تیاننمین سکوائر میں عوامی احتجاج کے کچلے جانے کی بیسویں برسی پر شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
بیجنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس غیر ملکی صحافیوں کو شہر کے مرکز میں واقع ٹیاننمین سکوائر جانے سے روک رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی سیاسی منحرفین نے بتایا ہے کہ حکام نے ان کو بیجنگ سے نکل جانے یا پھر گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات دی ہیں، جبکہ کئی منحرفین کو ہانگ کانگ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
چینی حکام نے کئی روز سے انٹرنیٹ پر ’ٹوِیٹر، اور ’فلکر‘ جیسی ویب سائٹس بلاک کر رکھی ہیں۔
1989 میں تیاننمین سکوائر کے عوامی احتجاج کے خلاف حکومتی کارروائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چینی حکومت نے اس احتجاج کو کچلنے کے لیے انتہائی جارحانہ کارروائی کی تھی اور اس کے بعد بھی اس واقعہ پر بات کرنا تک منع رہا۔
اس واقعہ کی برسی کے موقع پر کئی مغربی ممالک نے چین سے کہا ہے کہ اس کو اس بارے میں اپنے رویہ میں نرمی لانی چاہیے۔
امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چینی حکومت کو اس احتجاج کے سلسلے میں اب تک قید افراد کو رہا کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کو ماضی کے اس تاریک باب پر غور کر کے اس سے مستقبل کے لیے سبق سیکھنا چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’چین کو اس دن کی یاد میں قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے فروغ کی طرف بڑھنا چاہیے، اور ان معاملات کو اسی طرح ترجیح دینی چاہیے جیسے اس نے اقتصادی اصلاحات اور ترقی کو دی ہے۔‘
برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ تیاننمین سکوائر کے واقعہ کے بعد چین اقتصادی اور سماجی شعبوں میں تو بہت ترقی کر سکا ہے لیکن سیاسی اور شہری حقوق پر پیش رفت اس کہیں سست رہی ہے۔



