جنوبی کوریا میں ہم جنس پرستی کو تسلیم کروانے کی جنگ

ہم جنس پرستی

جنوبی کوریا میں بعض لوگ ہم جنس پرستی کو ایک معذوری یا ذہنی بیماری سمجھتے ہیں۔ قدامت پرست مذہبی حلقوں کے مطابق یہ ایک گناہ ہے جبکہ ملک میں ہم جنس پرستوں سے امتیازی سلوک کی روک تھام کے لیے بھی قانون موجود نہیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا بیکر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہم جنس پرستی کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے مطابق کوئی اقدامات نہ ہونے سے نوجوان زندگیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک نوجوان کم ووک سوک (نام تبدیل کیا گیا ہے) بتاتے ہیں کہ کمپنی کی جانب سے رات کے کھانے کی ایک دعوت نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

ان کے ایک ساتھی نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر سب کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے میز پر ہاتھ مارا اور 20 سالہ کم کے بارے میں سب اگل دیا۔

کم بتاتے ہیں کہ انھیں ایسا لگا کہ ’آسمان میرے اوپر گِر رہا ہے۔ مجھے دھچکا لگا اور میں ڈرا ہوا تھا۔ کسی کو اس کی توقع نہیں تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں مسیحی گروہ ہم جنس پرستی کے خلاف سرگرم ہیں

کم (فرضی نام) کو اسی وقت نوکری سے نکال دیا گیا اور ریستوران کے پروٹسٹنٹ فرقے کے مسیحی مالک نے بھی انھیں ریستوران سے باہر نکال دیا۔

کم نے بتایا کہ ’اس (ریستوران کے مالک) نے کہا ہم جنس پرستی گناہ ہے اور ايڈز کی وجہ بھی۔ مجھے کہا گیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ میں ہم جنس پرستی دوسرے ملازمین میں پھیلاؤں۔‘

لیکن ابھی ان کے ساتھ مزید برا ہونا تھا۔ ریستوران کے مالک کا بیٹا کم کی والدہ سے ملا اور انھیں بھی بتا دیا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔

’انھوں نے اسی وقت مجھے گھر چھوڑنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ مجھے تمہارے جیسا بیٹا نہیں چاہیے۔ تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔‘

’سب سے الگ اور اکیلا‘

جنوبی کوریا میں دوسرے ہم جنس پرست نوجوانوں کی طرح کم نے اپنی زندگی کے کئی برس سنبھل کر اور خاموشی سے گزارے تاکہ وہ اپنی جنسیت چھپا سکیں۔

انھیں ایک قدامت پسند مسیحی والدہ نے پالا تھا اور یہ سکھایا تھا کہ ہم جنس پرست جہنم کی آگ میں جلیں گے۔ وہ گرجا گھر میں خوف زدہ ہو کر پادری کی بات سنتے تھے جو بتاتے تھے کہ ہم جنس پرستی ایک گناہ ہے اور اس کی حمایت کرنے سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔

ہم جنس پرستی

یہ ایک ایسے ملک میں کوئی غیر معمولی خطبہ نہیں جہاں کی 20 فیصد آبادی قدامت پسند گرجا گھروں میں جاتی ہے۔ اپنے جنسی رحجان کی وجہ سے نوکری اور گھر سے نکالے جانے کے باوجود کم کو امید ہے کہ جنوبی کوریا بدل سکتا ہے۔

انھوں نے ہمیں اپنی ایک ٹی شرٹ فخر سے دکھائی جس پر ایک خاص قوس قزح بنی ہوئی ہے اور جو امتیازی سلوک کے خلاف قوانین بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انھیں یقین ہے کہ ایک دن اس قانون کی مدد سے ہم جنس پرست اپنی شناخت کروا کر باحفاظت رہ سکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے نوجوان زندگیاں بھی بچ سکتی ہیں۔‘

18 سال سے کم عمر ہم جنس پرست افراد کے ایک سروے کے مطابق ان میں سے تقریباً نصف افراد، 45 فیصد کے قریب، خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں۔ آدھے سے زیادہ (53 فیصد) خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکے ہیں۔

ان اعداد و شمار کی بنیاد پر ہم جنس پرستوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ایک تنظیم چنگوسائی (دوستوں کے درمیان) نامی ایک تنظیم نے ایک ہیلپ لائن متعارف کروائی ہے۔

اس ہیلپ لائن کو چلانے والے ڈاکٹر پارک جے وان کا کہنا ہے کہ ’ہم جنس پرست افراد اس پر اکثر تنہائی کا شکار ہونے، معاشرے سے الگ ہونے اور خود کو کسی پر بوجھ تصور کرنے سے متعلق بات کرتے ہیں۔‘

دلوں کو جوڑنے کے نام سے قائم اس ہیلپ لائن کو ڈاکٹر پارک رضاکارانہ طور پر رات کے وقت چلاتے ہیں جبکہ صبح وہ ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔

’وہ خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے اساتذہ، دوست اور رشتے دار اس بات کو نہیں سمجھتے، یا اتنے ناواقف ہیں کہ ایل جی بی ٹی کیو کا مطلب بھی نہیں جانتے۔‘

ڈاکٹر پارک کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو درپیش ان خطرات کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیے اور ایک نئے قانون کے لیے لڑنا بھی اس کا حصہ ہے۔

’ہمیں جنسی اقلیتوں کو تسلیم کرنے اور ان کی ضروریات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضروت ہے۔‘

جنوبی کوریا میں ہم جنس پرستی غیر قانونی نہیں۔ سنہ 2003 کے بعد اب یہ ’نقصان دہ اور فحش‘ نہیں مانی جاتی۔ لیکن امتیازی سلوک اب بھی عام ہے۔ ’دی کورین سوشل انٹیگریشن‘ نامی ادارے کے ایک سروے کے مطابق جنوبی کوریا کے تقریباً نصف سے کچھ کم لوگ ہم جنس پرست دوست، ہمسایہ یا ساتھ کام کرنے والا نہیں چاہتے۔

ایسے ہم جنس پرست ٹین ایج لڑکوں اور لڑکیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جنھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنوبی کوریا کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق 92 فیصد ہم جنس پرست افراد ڈرتے ہیں کہ انھیں نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنایا جائے گا۔

کم بھی یہ بات سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ’انھیں بچانے‘ کی کوششیں کرتی رہیں۔ لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے وہ ہر وقت اپنے ہی خاندان سے ڈرتے رہے۔

’اپنے گرجا گھر کے لوگوں کی مدد سے انھوں نے کئی مرتبہ مجھے اغوا کر کے جنسیت کی تبدیلی کے پروگرام میں بھیجنے کی کوشش کی۔ مجھے کئی مرتبہ ایسے علاج کے لیے جانا پڑا لیکن ایسے مواقع بھی آئے جب میں ان سے بچنے اور بھاگنے میں کامیاب رہا۔‘

کم ہمیشہ سنبھل کر رہتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ آدھی رات کو وہ پارک میں اکیلے تھے جب ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ہم جنس پرستی ایسا گناہ ہے جس کی معافی نہیں اور کہنے لگا کہ انھیں اپنے والدین کے پاس لوٹ جانا چاہیے۔ یہ کہنے کے بعد اس نے ایک بانس سے ان کی پٹائی کی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اپنی والدہ نے ’شاک تھراپی‘ کے طور پر اس تشدد کا حکم دیا ہو گا۔

جب میں نے ہم جنس پرستی کا دفاع کرنے والی وکیل جو ہائین، جو ’ہوپ اینڈ لا‘ نامی تنظیم سے وابستہ ہیں کو کم کی کہانی سنائی تو انھوں نے کہا کہ کہ ’امتیازی سلوک کے خلاف قانون سے معاشرے میں پیغام جائے گا کہ کسی کی جنسیت کی وجہ سے ان سے امتیازی برتاؤ نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

’معاشرے میں جب اس طرح کے اصول بنائے جائیں گے تو مثال کے طور پر اس سے سکولوں میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بچوں کو ہراساں نہ کیا جا سکے۔ جنوبی کوریا میں فی الحال ایسے ادارہ جاتی اقدامات موجود نہیں جن سے امتیازی سلوک روکا جائے۔‘

ہم جنس پرستی

یہ بھی پڑھیے

’ہمیں انھیں دوزخ میں جانے سے روکنا ہوگا‘

ہم جنس پرست سنہ 2007 سے اس تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اب ان کی آوازیں مزید اونچی ہو گئی ہیں۔

لیکن ان کے حریفوں کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ مسیحی برادری کو جنوبی کوریا میں ہم جنس پرستی کی قبولیت پر اتنی تشویش ہے کہ انھوں نے بسان میں ’حقیقی محبت‘ نامی ایک تقریب کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ہم جنس پرستوں کے ’کوویر فیسٹیول‘ کی جبری منسوخی کے صرف ایک ماہ بعد کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ہم جنس پرست ’غیر اخلاقی اور خراب‘ ہوتے ہیں اس لیے ان سے امتیازی سلوک ’ایک درست امتیازی سلوک ہوتا ہے۔‘

ستمبر میں یہ بااثر مسیحی گروہ جنوبی کوریا کے دوسرے بڑے شہر انچون میں ہم جنس پرست فیسٹیول میں ہزاروں کی تعداد میں داخل ہو گیا تھا۔

انھوں نے ہم جنس پرستی کی مخالفت اور ’حقیقی محبت‘ کی حمایت میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ فیسٹیول کے قریب ہی ایک بڑی سکرین پر چلائی جانے والی ایک ویڈیو میں بتایا جا رہا تھا کہ ہم جنس پرستی سے ایڈز پھیلتا ہے اور ٹیکس دینے والوں کو لاکھوں کا نقصان ہوتا ہے۔

کویر فیسٹیول میں جانے کا مطلب تھا گالیاں دیتے ہوئے مظاہرین کی طویل قطاروں سے دھکے کھاتے ہوئے گزرنا۔

ایک شخص نے وہاں ہمیں بتایا کہ ’ہم جنس پرستی ملک تباہ کرنے والی بیماری ہے۔ اگر آپ ہم جنس پرستی کرتے ہیں تو ملک برباد ہوجائے گا۔‘

پروٹسٹنٹ مسیحی مظاہرین میں مینورہ بھی تھیں۔ وہ پورا دن اندھیرا ہونے تک انچون کے مختلف مقامات سے لاؤڈ سپیکر پر اعلانات کرتی رہتی ہیں۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ ہم جنس پرست فیسٹیول میں جانے والوں پر کیوں چلا رہی ہیں؟

تو ان کا کہنا تھا ’کیونکہ ہم مسیحی ہیں۔ ہم کسی کو قصور وار ٹھہرانے نہیں آئے کیونکہ ہم اپنے ہمسایوں سے واقعی محبت کرتے ہیں۔ انھیں دوزخ میں جاتے دیکھنا حقیقی محبت نہیں۔ اگر ہم ان سے حقیقی محبت کرتے ہیں تو ہمیں انھیں اچھی خبر سنانی چاہیے اور دوزخ میں جانے سے روکنا چاہیے۔‘

میں نے ان سے کہا کہ شاید انھیں ان پر چیخنے کے بجائے ان کی بات سن لینی چاہیے، لیکن وہ اپنی بات پر قائم رہیں۔

’اگر ہم یسوع مسیح سے اپنی محبت کا اظہار نرم انداز سے کریں گے تو اس سے کام نہیں چلے گا۔‘

’سچی محبت یہ ہے کہ ہم انھیں دوزخ میں جانے سے روکیں۔ ہمیں چیخنا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ یہ ایک ہنگامی مسئلہ ہے۔‘

ہم جنس پرستی
،تصویر کا کیپشنمینورہ کہتی ہیں کہ انھیں ہم جنس پرستوں کو ’دوزخ میں جانے سے روکنا‘ اپنی ذمہ داری لگتی ہے

لیکن جس وقت مظاہرین چلا رہے تھے، تو اس وقت فیسٹیول کے باہر دو غیر ملکیوں نے سب کے سامنے ایک دوسرے کا بوسہ لے کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

لیکن گذشتہ برس یہ تقریب کافی پرتشدد ہوگئی تھی۔ کئی مظاہرین نے پریڈ پر حملہ کیا تھا اور ہم جنس پرستوں کو سڑک پر مارچ کرنے سے روکا تھا۔

رواں برس پولیس نے فیسٹیول میں شرکت کی ہمت کرنے والے صرف چند سو ہم جنس پرستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تین ہزار سپاہی بھرتی کیے تھے۔ کئی سفارتخانوں کے عملے کی موجودگی کی وجہ سے پولیس کو تقریب کی حفاظت یقینی بنائے رکھنی تھی۔

’نفرت شدید ہے‘

جنوبی کوریا کے لوگ بظاہر اپنے دیگر مشرقی ایشیائی ہمسائیوں کے مقابلے میں ہم جنس پرستی کے لیے بہت کم برداشت رکھتے ہیں۔

گذشتہ برس تائیوان ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی قرار دینے والا پہلا ایشیائی ملک بنا۔ جاپان نے اپنا پہلا ہم جنس پرست قانون ساز منتخب کیا ہے اور سیاسی مخالفت کے باوجود ایک سروے میں پایا گیا کہ 20 سے 60 سال کی عمر کے 78 فیصد افراد ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی قرار دینے کے حامی ہیں۔

جنوبی کوریا میں فرق یہ ہے کہ یہاں طاقتور پروٹسٹنٹ گروہوں کی ایک بڑی تعداد ہے بھلے ہی ان میں سے تمام ملک کے ہم جنس پرستوں کے حقوق بڑھانے کے خلاف نہیں۔

جنوبی کوریا میں ایسے پروٹسٹنٹ مسیحی گروہ بھی ہیں جو ہم جنس پرست لوگوں کے حقوق قبول کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پادری لم بورا کہتی ہیں کہ امتیازی سلوک کے خلاف قانون کی مخالفت کا مقصد لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے کیونکہ گرجا گھروں میں آنے والے پہلے ہی کم ہو رہے ہیں۔

’گرجا گھروں نے اسے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاریخ میں آپ دیکھتے ہیں کہ اگر آپ ایک مضبوط دشمن سامنے لائیں تو لوگ جمع ہو کر متحد ہو جاتے ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت عروج پر ہے۔‘

اپنے ان خیالات کی وجہ سے ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے ہیں۔

ہم جنس پرستی

،تصویر کا ذریعہPARK KIM HYUNG-JOON

،تصویر کا کیپشنلِم بورا کہتی ہیں کہ قدامت پرست چرچ ہم جنس پرست مخالف جذبات صرف اپنی حمایت میں اضافے کے لیے بھڑکا رہے ہیں

وہ کہتی ہیں کہ ’مذہب سے قطع نظر، میرے خیال میں امتیازی سلوک کے خلاف قانون انسانی حقوق کی بنیادی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے یہ جلد حقیقت بن جائے گا۔‘

اس سے شاید کم کو بھی عام زندگی مل سکے۔ 20 سال سے زائد عمر کا ان کا ایک ساتھی بھی ہے اور انھیں امید ہے کہ جنوبی کوریا میں ایک دن انھیں ایک جوڑے کے طور پر قبول کیا جائے گا۔

ان کی اپنی والدہ سے دوبارہ بات چیت شروع ہو چکی ہے لیکن انھیں گفتگو کے موضوعات محدود رکھنے ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں اب بھی میری یہ شخصیت قبول نہیں۔ انھیں اب بھی ایک آدمی کی دوسرے آدمی سے محبت غلط لگتی ہے۔ لیکن اب میں اس بارے میں اپنی والدہ سے بحث نہیں کرتا۔‘