گرین لینڈ کی فروخت: ٹرمپ کی ناراضی کے بعد پومپیو نے ڈنمارک کی تعریف کر دی

گرین لینڈ

،تصویر کا ذریعہReuters

گرین لینڈ کے جزیرے کے تنازعے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کی وزیراعظم پر کڑی تنقید کے بعد اب امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو حالات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ڈنمارک کی جانب سے امریکہ کو گرین لینڈ کا جزیرے فروخت کرنے سے انکار کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دورۂ ڈنمارک منسوخ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

مائیک پومپیو نے ڈنمارک کے وزیر خارجہ یاپے کوفول سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بطور ’امریکی اتحادی‘ ڈنمارک کے تعاون کو سراہا ہے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بھی مائیک پومپیو سے ہونے والی بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے 'دوستانہ، بے تکلف اور تعمیری' کہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو اور یاپے کوفول کے درمیان بدھ کو فون پر امریکی صدر کا دورہ منسوخ ہونے کے معاملے پر دوستانہ بات چیت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارگن اورٹاگس نے ایک بیان میں کہا 'سیکریٹری (پومپیو) نے مشترکہ عالمی سلامتی کی ترجیحات کو حل کرنے میں ڈنمارک کی شراکت اور بطور امریکی اتحادی (ڈنمارک کے) تعاون کو سراہا ہے۔'

'سیکریٹری اور وزیر خارجہ کوفول نے ڈنمارک کی بادشاہت، بشمول گرین لینڈ، کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔'

ڈنمارک کی وزیر اعظم ’بدتمیز‘ قرار

اس سے قبل گرین لینڈ جزیرے کو امریکہ کو فروخت کرنے سے انکار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن کو 'بدتمیز' قرار دے دیا تھا۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صدر ٹرمپ کا یہ ردعمل وزیرِ اعظم فریڈرکسن کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جلد بازی میں دورہ گرین لینڈ منسوخ کرنے پر وہ 'رنجیدہ' ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ڈنمارک کے زیر انتظام گرین لینڈ کے خود مختار جزیرے کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی تجویز کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ بات سنجیدگی سے نہیں کہی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈنمارک کی ملکہ مارگریتھ دوئم کی دعوت پر دو ستمبر کو ڈنمارک کا دورہ کرنے والے تھے۔

صدر ٹرمپ نے کیا کہا؟

صدر ٹرمپ نے بدھ کی سہ پہر وائٹ ہاؤس کے لان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈنمارک کی وزیر اعظم کے بیان پر خاصے غصے کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا 'میرے خیال میں وزیرِ اعظم کا یہ بیان کہ امریکی تجویز مضحکہ خیز ہے بدتمیزی پر مبنی ہے۔'

'میرے خیال میں یہ بہت ہی نامناسب بیان تھا۔ ان (وزیر اعظم ڈنمارک) کا یہ کہنا ہی بہت ہوتا کہ نہیں ہماری اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔'

صدر ٹرمپ نے مزید کہا 'وہ (وزیر اعظم ڈنمارک) صرف مجھ سے بات نہیں کر رہی تھیں۔ وہ امریکہ سے بات کر رہی تھیں۔ کم از کم میرے ہوتے ہوئے آپ امریکہ سے اس طرح بات نہیں کر سکتے۔'

صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز سابق امریکی صدر ہیری ٹرومین کے زیر غور بھی رہی تھی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

صدر ٹرمپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈنمارک پر اپنی تنقید بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم کا کیا کہنا ہے؟

اس سے قبل ڈنمارک کی وزیر اعظم نے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ گرین لینڈ کو خریدا نہیں جا سکتا۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ وسائل سے مالا مال اور خود مختار جزیرے کو بیچنے کا خیال گرین لینڈ کے سربراہ کِم کیلسن نے بھی سختی سے مسترد کیا ہے اور 'اس مسئلے پر میرا خیال بھی یہی ہے۔'

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کا دورہ ڈنمارک دونوں ممالک کے درمیان 'قریبی تعلقات کی تجدید اور انھیں منانے کا ایک بہترین موقع ہو سکتا تھا۔'

'(دورے کی منسوخی) ہمارے اچھے تعلقات کی نوعیت کو تبدیل نہیں کرے گی اور دونوں ممالک درپیش مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔'

ڈنمارک کی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دورے کی منسوخی ان کے لیے باعث شرمندگی ہے کیونکہ 'اس حوالے سے ہماری تیاریاں جاری تھیں'۔

دورے کی منسوخی

ڈنمارک کی تعریفیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے منگل کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ان کا ڈنمارک کا پہلے سے طے شدہ دورہ اب نہیں ہو سکے گا کیونکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے گرین لینڈ کی فروخت کے بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس دورے کی منسوخی کی تصدیق امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی طرف سے بھی کر دی گئی تھی۔

ڈنمارک کے شاہی خاندان کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورے کی منسوخی کے بارے میں انھیں امریکی حکام کی طرف سے مطلع کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرٹپ

،تصویر کا ذریعہAFP

ڈنمارک کے شاہی خاندان کے مواصلات کے سربراہ لینی بالبیبی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دورے کا منسوخ کیا جانا ان کے لیے ایک ’حیران کن‘ خبر ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے دورے کی منسوخی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ڈنمارک میں امریکی سفیر کارلا سینڈ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ڈنمارک امریکی صدر کے دورے کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ان خبروں کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

گذشتہ اتوار کو جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ گرین لینڈ کے بدلے امریکہ کا کوئی علاقہ ڈنمارک کو دینے کو تیار ہیں تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ بہت سی چیزیں کی جا سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا 'بنیادی طور پر یہ جائیداد کی خرید و فروخت کا ایک بڑا سودا ہے۔'

اس کے بعد پیر کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک کثیر المنزلہ سنہری عمارت کی تصویر جاری کی جو کہ گرین لینڈ کے چھوٹے چھوٹے گھروں کے درمیان دکھائی گئی اور اس کے اوپر ٹرمپ لکھا ہوا تھا۔ اس پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ وہ گینڈ لینڈ کے لوگوں سے اس کا وعدہ کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کے لوگوں اور ڈنمارک کے حکام کی طرف سے اس سودے کو رد کر دیا گیا ہے۔

اس خود مختار علاقے کے وزیر اعظم کم کیلسن نے کہا کہ گرین لینڈ قابل فروخت نہیں ہے لیکن گرین لینڈ امریکہ سمیت دوسرے ملک سے تعاون اور تجارت کے لیے تیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ڈنمارک کے سابق وزیر اعظم لارس لوک راسمون نے بھی اس بارے میں ٹوئٹر پیغام دیا جس میں انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضرور اپریل فول ڈے کا کوئی لطیفہ ہو گا۔

ڈنمارک کی پیپلز پارٹی کے خارجہ امور کے ترجمان سورن ایسپرسن نے ڈنمارک کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا 'اگر وہ (صدر ٹرمپ) واقعی ہی یہ سوچ رہے ہیں تو یہ آخری ثبوت ہے کہ وہ پاگل ہو چکے ہیں۔'

ڈنمارک کی قدامت پسند پارٹی کے رکن پارلیمان راسموسن ہارلو جنھوں نے کہا تھا کہ ان سب چیزوں میں جو کے نہیں ہو سکتیں یہ سب سے مشکل ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پیغام پر صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ ان کی نظر میں دوسرے ملکوں کی کوئی عزت نہیں۔

امریکہ گرین لینڈ کیوں خریدنا چاہتا ہے؟

صدر ٹرمپ گرین لینڈ میں پائے جانے والے معدنی ذخائر جن میں کوئلہ، تانبا اور زنک شامل ہیں۔

گرین لینڈ معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود اپنے دو تھائی مالی اخراجات پورے کرنے کے لیے ڈنمارک پر انحصار کرتا ہے۔ ڈنمارک میں خود کشیوں، شراب نوشی اور بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

امریکہ میں گرین لینڈ کی خریداری کے بارے میں اعلیٰ سطحی مشاورت میں شامل دو افراد نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کی دفاعی اہمیت کی وجہ سے بھی اس اہم جزیرے کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یورپ اور شمالی امریکہ کے راستے میں واقع گرین لینڈ پر امریکہ کی اس جزیرے کے اہم دفاعی محل وقوع کی وجہ سے نظر تھی۔

گرین لینڈ

امریکہ نے سرد جنگ کے آغاز پر اس جزیرے پر ایک فضائی اور راڈار اڈہ قائم کیا تھا جو اب خلا پر نظر رکھنے کے لیے اور اس کے علاوہ امریکہ کے انتہائی شمالی حصوں پر ممکنہ بلاسٹک میزائلوں کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافے سے قطب شمالی کا منجمد سمندر جہاز رانی کے لیے قابل ہوتا جا رہا ہے اور یہ سمندری راستہ بھی کھل رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ تجویز ایک ایسے و قت سامنے آئی ہے جب چین بھی اس خطے میں بہت دلچسپی لے رہا ہے۔ گزشتہ برس چین سے تعلق رکھنے والی ایک سرکاری کمپنی نے گرین لینڈ میں نئے ہوائی اڈے قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس سال جون کو یہ اعلان واپس لے لیا گیا۔

رپبلکن جماعت کے رکن مائیک گلاگر نے صدر ٹرمپ کی اس تجویز کو دفاعی اعتبار سے ایک بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا۔

انھوں نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ دفاعی لحاظ سے گرین لینڈ امریکہ کے لیے بہت اہم ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ یہ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے جو شمالی بحیرہ اوقیانوس اور قطب شمالی کے درمیان واقع ہے۔

اس کی آبادی چھپن ہزار کے قریب ہے جس کی اکثریت ساحلِ سمندر پر آباد ہے۔ گرین لینڈ کی نوے فیصد آبادی مقامی گرین لینڈک انیوٹ لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس کی اپنی پارلیمان ہے اور اس کی حکومت کو محدود اختیارات حاصل ہیں۔

اس جزیرے کا اسی فیصد حصہ سال کے بارہ مہینے برف کی دبیز تہہ سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہ برف اب عالمی حدت کی وجہ سے پگھل رہی ہے۔ اس سے ایک ِخطرہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہاں کئی امریکی فوجی علاقوں میں سرد جنگ کے درمیان دفن کیے گئے جوہری فضلے کو آشکار نہ کر دے۔

اس جزیرے کو خریدنے کی امریکہ خواہش بہت پرانی ہے اور سنہ 1860 میں پہلی بار یہ بات زیر غور آئی تھی۔

سنہ1867۔میں امریکی وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ تھا گرین لینڈ کی معدنیات اور اس کی دفاعی اہمیت کی وجہ سے اس کو حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔

لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر سنہ 1946 تک کچھ نہیں کیا گیا جب ہینری ٹرومن کی صدرات کے دوران ڈنمارک کو دس کروڑ ڈالر کی پیش کش کی گئی۔ اس سے قبل وہ گرین لینڈ کے بدلے میں ڈنمارک کو الاسکا کے کچھ علاقے دینے کو بھی تیار تھے۔