فیشن ایبل کپڑوں کی سستے دام دستیابی کیسے ممکن ہوتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ کو وہ وقت یاد ہے جب صرف خاندان میں شادی یا پھر عید کے لیے ہی نئے کپڑے بنائے جاتے تھے۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اب کسی خصوصی موقعے کا انتظار کیے بغیر کپڑے خرید لیتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ کئی کپڑوں کی قیمت میں حیرت انگیز کمی ہے۔
مثال کے طور پر بی بی سی کے اقتصادی رپورٹر دھرشنی ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ اب برطانوی لوگ 1980 کی دہائی کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کپڑے خریدتے ہیں۔
گلوبلائزیشن کی وجہ سے اب دور دراز علاقوں میں کم قیمت پر کپڑے تیار ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں کم اور ورائٹی میں اضافہ ہوتا ہے۔
مگر ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے؟ اور ہماری خریداری کی عادات کی ہمارے ماحول کو کیا قیمت ادا کرنی پڑتی ہے؟
بی بی سی ریڈیو 4 کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے سپین سے لے کر ایتھیوپیا تک کا سفر کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کس طرح ہماری زمین اور محدود وسائل رکھنے والے لوگ فیشن کے لیے ہماری نہ بجھنے والی پیاس کی قیمت چکاتے ہیں اور ہم اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
برینڈز پر فیشن رجحانات کو کیٹ واک سے عام لوگوں تک لانے اور اس دوران سرمایہ کاروں کے درمیان منافعے کی تقسیم کے دباؤ کی وجہ سے سستے ترین ذرائع کی تلاش کے لیے ایک تجارتی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔
اس عمل کو تنقید کرنے والے 'سوئی کا پیچھا' کرنا کہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمارے کپڑے تیار کرنے والے کچھ مزدوروں کی مشکلات دنیا کے سامنے اس وقت آئیں جب گارمنٹس کے 1138 مزدوروں نے بنگلہ دیش کے رانا پلازا ٹیکسٹائل کمپلیکس کے انہدام میں اپنی جانیں گنوا دیں۔
ان لوگوں کے کام کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا اور اس کے بہتر نتائج بھی ملے۔
شفافیت کی بڑھتی ہوئی عالمی درخواستوں کے پیشِ نظر کئی بڑے ریٹیلرز مثلاً ایچ اینڈ ایم اور کنورس نے اپنے سپلائرز اور کچھ معاملات میں اپنے ذیلی ٹھیکیداروں (جو کہ ہزاروں ہوسکتے ہیں) تک کی فہرستیں جاری کرنی شروع کیں۔
کیا استحصالی فیکٹریاں ماضی کا قصہ بن چکی ہیں؟
مگر تازہ ترین تبدیلیوں کے ایسے بھی نتائج تھے جن کی پیشگوئی نہیں کی گئی تھی۔ جب بنگلہ دیش میں مزدوروں کی اجرت بڑھی تو کئی کمپنیاں اپنے اخراجات کم رکھنے کے لیے دوسرے ممالک چلی گئیں۔
مثال کے طور پر ایتھیوپیا میں بنگلہ دیش کے مقابلے میں اجرتیں اوسطاً ایک تہائی کے برابر ہیں۔ ہفتہ وار 7 ڈالر سے بھی کم تنخواہیں نہایت عام ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عدیس ابابا شہر کے قریب واقع ایک فیکٹری کے مزدوروں نے بتایا کہ تنخواہیں زندگی گزارنے کے لیے بہت کم تھیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کام کے حالات، بشمول غلیظ ٹوائلٹس اور گالم گلوچ ناقابلِ برداشت ہیں۔
مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ورکرز رائٹس کنسورشیم نے اس صورتحال کی مذمت کی۔ رپورٹ تحریر کرنے والے پینے لوپے کیریٹسس کہتے ہیں کہ کئی مزدوروں کو اوور ٹائم کی ادائیگی نہیں کی جاتی اور کچھ کیسز میں مالکان خواتین مزدوروں کے پیٹ چھو کر دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ حاملہ تو نہیں۔
کیریٹسس کہتے ہیں کہ کچھ ماہ قبل رپورٹ جاری ہونے سے اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
دوسرے ملکوں سے مسابقت سے نمٹنے کے لیے ایتھیوپیائی حکومت کم اجرتوں کو ایک مثبت چیز بنا کر پیش کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر کیریٹسس کہتے ہیں کہ ملک کی کپڑا ساز صنعت ملازمت فراہم کرنے کا جواز پیش کر کے اپنی ذمہ داریوں سے مبرّا نہیں ہوسکتی۔
وہ کہتے ہیں کہ 'کام چھوڑنے کی شرح بہت زیادہ ہے اور لوگ اکثر سرکاری ملازمتیں چھوڑ کر زراعت یا دیگر غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے لگتے ہیں۔'
اورسولا ڈی کاسٹرو نے رانا پلازا کے سانحے کے بعد فیشن ریولوشن نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم پوسٹ کارڈ مہم کے ذریعے خریداروں کی سوالات پوچھنے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'پائیدار نظام اور اخلاقیات کے بارے میں دو بڑی غلط فہمیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ 'تیز فیشن' کو الزام جاتا ہے، جس کی وجہ سے لگژری سیکٹر کو چھوٹ مل جاتی ہے جبکہ پوری ایتھیوپیائی فیشن انڈسٹری پر سوالات اٹھنے چاہیئں۔'
'دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مقامی طور پر تیار شدہ کپڑے اخلاقی اور ماحول دوست ہوتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔'
اس کی ماحولیاتی قیمت کیا ہے؟
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت ہوابازی اور جہازرانی کی صنعت سے مجموعی طور پر زیادہ آلودگی پیدا کرتی ہے اور نتیجتاً موسمیاتی تبدیلی میں زیادہ کردار ادا کرتی ہے۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی پہناوے کی تیاری، سپلائی، ترسیل، فروخت، استعمال اور پھینکے جانے، ہر مرحلے ہی کے اپنے اپنے منفی نتائج ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے تو بات گارمنٹس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کپڑے کی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کاٹن اور مصنوعی کپڑے میں سے کون سا بہتر ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کپاس پانی کی شدید طلب رکھنے والی فصل ہے۔ برطانیہ کے دار العوام کی ماحولیاتی آڈٹ کمیٹی نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پایا ہے کہ ایک شرٹ اور جینز کی پینٹ کی تیاری میں 20 ہزار لیٹر تک پانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ 'ہم بغیر جانے وسطی ایشیا کے تازہ پانی کے ذخیرے استعمال کر رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر دوسری جانب بالکل نئے پلاسٹک سے تیار ہونے والی ایک پولیسٹر کی شرٹ کی تیاری میں زیادہ کاربن خارج ہوتا ہے۔ مصنوعات کی ترسیل میں بھی کاربن کا اخراج ہوتا ہے اور کپڑوں کو رنگنے سے مزید آلودگی پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ پانی کے اندر پلاسٹک کے خوردبینی دھاگوں کا علیحدہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک بھری ہوئی واشنگ مشین کی ایک دھلائی میں ایسے لاکھوں دھاگے خارج ہوسکتے ہیں۔
مزید یہ کہ ہر سال برطانیہ میں کم از کم 10 لاکھ ٹن کپڑے پھینکے جاتے ہیں اور ان میں سے 20 فیصد کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مخصوص لینڈ فِل سائٹس تک پہنچتے ہیں۔
مگر اس مسئلے کا حل آخر کس کی ذمہ داری ہے؟
حکام کیا کر رہے ہیں؟
برطانیہ میں دارالعوام کی ماحولیاتی آڈٹ کمیٹی نے اس مسئلے پر 18 سفارشات کی ہیں جن میں: مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا تاکہ ری سائیکلنگ سینٹر چلائے جا سکیں، یا پھر یہ کہ کپڑوں کی مرمت پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کی شرح کم کرنا، اور سکولوں میں سلائی کی تعلیم دینا شامل ہیں۔
مگر ان میں سے اب تک کسی بھی سفارش پر عمل نہیں ہوا ہے۔
نقادوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم فیشن کی پائیدار صنعت کو سنجیدگی سے لیں تو پالیسی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں کم خریدنے پر قائل کیا جائے۔ اس کے لیے بہت سخت اقدامات کی ضرورت ہوگی جس میں کپڑوں پر ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مگر ریٹیل صنعت کی کمزور حالت اور خریداروں کے خرچ کرنے کی معیشت کے لیے اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ مشکل ہے کہ کوئی سیاستدان اس کام کی تجویز دے۔
یہ صنعت درحقیقت کتنا کما رہی ہے؟
جیسے جیسے صارفین کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، ویسے ویسے کچھ ریٹیلر اس چیلنج کو پورا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سپین کے ساحلی شہر آ کورونیا سے تھوڑا باہر ہی انڈیٹیکس نامی کمپنی کا بین الاقوامی ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ شاید سب کے لیے کوئی مانوس نام نہ ہو مگر اس کی مرکزی فیشن برینڈ 'زارا' ایک جانا پہچانا نام ہے۔
ایک ٹیکسٹائل کی تیاری کے ایک چھوٹے سے کاروبار کے طور پر شروع ہونے والی یہ کمپنی اب زمین پر موجود سب سے بڑے ریٹیلرز میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ زارا نے ہمارے طرزِ خریداری کو تبدیل کر دیا اور فیشن شوز میں دکھائے جانے والے فیشن کو صرف تین ہفتوں کے اندر اور قابلِ استطاعت قیمتوں پر متعارف کروانا شروع کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زارا نے حال ہی میں عزم کیا ہے کہ وہ 2025 تک 100 فیصد ماحول دوست کپڑے استعمال کرے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف انڈیٹیکس نہیں بلکہ دیگر کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو کہ اپنے صنعتی اور ترسیل کے مراحل کو بہتر بنانا چاہتی ہیں۔
کچھ بڑے ریٹیلر واقعی اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے ایکشن لے رہے ہیں مگر اس کاروباری ماڈل کی بنیاد ہی 'اچھوتے پن' پر ہے، یعنی ہمیں مسلسل خریداری کے لیے قائل کرتے رہنا۔
تو کیا یہ کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں کم خریدنے پر قائل کریں؟
زارا کے پابلو ایسلا کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایک ریٹیلر صرف صارفین کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتا ہے اور ان خریداروں کے پاس انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے۔
خریداروں کا کیا ہوگا؟
اپنے دروازوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد لندن کالج آف فیشن کے ابھرتے ہوئے فیشن ڈیزائنرز کہتے ہیں کہ وہ بھی 'فیشن ہڑتال' پر جائیں گے، اور یہ عزم کیا کہ کئی ماہ یا ایک سال تک بھی فیشن پر پیسے خرچ نہیں کریں گے۔
یہ طرزِ عمل مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور بہتر کپڑوں کی خریداری اور پرانے کپڑوں کی مرمت پر اب پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
مثال کے طور ایک ڈیزائنر نے کئی میوزک فیسٹیولز میں استعمال ہونے والے شامیانوں سے کپڑے تیار کیے ہیں۔
مگر یہ شاید کافی نہ ہو۔ اب جبکہ سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی مقبولیت سوشل میڈیا پر بڑھ رہی ہے تو ان کے ہماری خریداری پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
عوام پر اثرانداز ہونے والی ایسی ہر چھے شخصیات میں سے ایک نے تسلیم کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ کسی کپڑے کی نمائش کر دیں تو اسے دوبارہ نہیں پہنتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماحولیاتی کارکن لیویا فرتھ اپنے شوہر کولن کے ساتھ مل کر ریڈ کارپٹ پر ماحول دوست کپڑے بشمول مچھلی کی کھال سے بنے چمڑے کے بیگز کی نمائش کرتی ہیں۔
انھوں نے اپنے شوہر کو ری سائیکل شدہ بوتلوں سے بنا ٹکسیڈو پہننے پر بھی آمادہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ بااثر شخصیات کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہوگی، اور کہتی ہیں کہ 'اگر کِم کارڈیشیئن ماحول دوست فیشن کو پروان چڑھائیں تو میں ریٹائر ہوسکتی ہوں۔'
وہ فیشن کے ساتھ ہمارے تعلق کو ایک نشے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ درست بھی ہوں کیونکہ یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اگلی دہائی میں دنیا بھر میںشرٹس کی طلب میں 500 ارب کا اضافہ ہوگا۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ کسی کو بھی اب تک کوئی حل نہیں ملا ہے۔









