شہزادی حیا: ’دبئی کے امیر شیخ محمد المکتوم کی اہلیہ ’زندگی کو لاحق خطرات‘ کے پیشِ نظر لندن پہنچ گئیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دبئی کے امیر شیخ محمد المکتوم کی اہلیہ شہزادی حیا بنت الحسین دبئی سے فرار ہو کر لندن پہنچ گئیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شوہر کو چھوڑنے کے بعد ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
اردن میں پیدا ہونے والی اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والی 45 سالہ شہزادی حیا سنہ 2004 میں شیخ محمد سے شادی کر کے ان کی چھٹی اور ’چھوٹی بیوی‘ بن گئیں۔ شہزادی حیا اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ کی سوتیلی بہن بھی ہیں۔
شیخ محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی مختلف بیویوں میں سے 23 بچے ہیں۔
69 سالہ شیخ محمد المکتوم مشہور گھوڑوں گڈولفن کے اصطبل کے مالک اور ایک ارب پتی انسان ہیں، انھوں نے حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک نامعلوم عورت پر ’بے وفائی اور دھوکے‘ کے الزامات لگاتے ہوئے ایک عضب ناک نظم بھی پوسٹ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شہزادی حیا ابتدائی طور پر پناہ لینے جرمنی چلی گئیں تھیں۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اب وہ سینٹرل لندن کے کینسنگٹن پیلس گارڈن میں آٹھ کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈز مالیت کے گھر میں رہ رہی ہیں اور ہائی کورٹ میں قانونی جنگ کی لڑائی کی تیاری کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو ایسا کیا ہوا کہ انھیں دبئی کی پر آسائش زندگی چھوڑنا پڑی اور وہ ’اپنی زندگی کے بارے میں خوفزدہ‘ کیوں ہیں؟
شہزادی حیا کے قریبی ذرائع کے مطابق انھیں حال ہی میں گزشتہ سال شیخ محمد المکتوم کی بیٹی شیخہ لطیفہ کی دبئی میں پرسرار واپسی کے بارے میں کچھ پریشان کن حقائق کا علم ہوا ہے۔
شیخہ لطیفہ نے گزشتہ سال مارچ میں ملک سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن عینی شاہدین کے مطابق وہ جس کشتی میں بھاگ رہی تھیں سکیورٹی اہلکار اسے روک کر انھیں زبردستی واپس دبئی لے آئے تھے۔
اس واقعے نے بین الاقوامی ہیومن رائٹس تنظیموں میں کافی تشویش پیدا کر دی تھی اور انھوں نے اماراتی حکومت سے کہا تھا کہ وہ شہزادی کے محفوظ ہونے کو ثابت کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعے کے بعد یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ شہزادی حیا کو اس کیس سے جڑے کچھ نئے حقائق کا علم ہوا ہے جس کے بعد وہ اپنے شوہر کے خاندان کی جانب سے دباؤ کا شکار ہیں یہاں تک کے وہ خود کو بھی وہاں محفوظ نہیں سمجھتی۔
شہزادی حیا کے قریبی ذرائع کے مطابق انھیں خوف ہے کہ اب انھیں بھی اغوا کر کے دبئی کے حوالے کر دیا جائے گا۔
لندن میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے نے اسے نجی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
لیکن اس کہانی میں ایک وسیع اور بین الاقوامی عنصر شامل ہے۔ ڈورسیٹ کے برینسٹن سکول اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ شہزادی حیا کے بارے میں خیال ہے کہ وہ برطانیہ میں رہنا چاہتی ہیں۔
تاہم ان کے شوہر کی جانب سے ان کی واپسی کے مطالبے کی صورت میں یہ معاملہ برطانیہ کے لیے سفارتی سطح پر درد سر بن سکتا ہے کیونکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے آپس میں گہری تعلقات ہیں۔









