مارشے جونز: گولی لگنے سے پیٹ میں موجود بچہ کھونے والی خاتون پر قتل کا الزام خارج

مارشے جونز

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمارشے جونز نے خود گولی نہیں چلائی تھی لیکن اس کے باوجود پولیس نے انھیں اپنے نوزائیدہ بچے کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا

امریکی ریاست الاباما میں حکام نے فائرنگ کے ایک واقعے میں اپنے پیٹ میں موجود بچہ کھو دینے والی 27 سالہ خاتون پر عائد اس بچے کے قتل کا الزام واپس لے لیا ہے۔

مارشے جونز کو مبینہ طور پر ان کے ساتھی ملازم نے اس وقت پیٹ میں گولی مار دی تھی جب وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔

مارشے جونز نے خود گولی نہیں چلائی تھی لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے انھیں لڑائی شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے، ان پر اپنے نوزائیدہ بچے کے قتل اور اسے خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کر کے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔

مارشے پر عائد قتل کا الزام واپس لیے جانے کا فیصلہ جیفرسن کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی نے بدھ کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران سنایا۔

پراسیکیوٹر لنیس واشنگٹن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا 'اس مقدمے میں کوئی نہیں جیتا۔ افسوس ناک واقعے میں صرف ہارنے والے لوگ ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

مارشے جونز پر لگنے والے الزامات پر خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

مارشے کے وکلا کا کہنا ہے کہ ’ہم شکرگزار ہیں کہ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے معاملے کا جائزہ لیا اور اس مقدمے کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جو ناقابلِ فہم اور غیرمنصفانہ تھا۔‘

مارشے پر گولی چلانے والی خاتون ایبنی جیمِسن پر لگنے والا قتل کا الزام پہلے ہی خارج ہو چکا ہے کیونکہ گرینڈ جیوری ان پر فردِ جرم عائد نہیں کر سکی تھی۔

بچوں کی پیدائش سے متعلق خواتین کے حقِ خود ارادیت کا دفاع کرنے والے گروہوں کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ریاست الاباما میں اسقاط حمل یا ابارشن کے سخت قوانین دوسرے مقدمات پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔

واقعے میں ہوا کیا تھا؟

4 دسمبر کو مارشے جونز حمل کے پانچویں مہینے میں تھیں جب ڈالر جنرل سٹور کے باہر ان کی لڑائی اپنی ساتھی ملازمہ 23 سالہ ایبنی جیمِسن سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑائی نوزائیدہ بچے کے والد سے شروع ہوئی اور اس کا اختتام ایبنی جیمِسن کے مارشے جونز پر گولی چلانے سے ہوا۔ پیٹ میں لگنے والی گولی کی وجہ سے مارشے جونز نے اپنا نوزائیدہ بچہ کھو دیا تھا۔

اس مقدمے میں پولیس کا موقف یہ تھا کہ مارشے جونز نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر لڑائی شروع کی تھی جس سے انھوں نے اپنے بچے کی جان خطرے میں ڈالی، اس لیے ان پر بھی قتل کا الزام عائد ہوتا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ایبنی جیمِسن نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔

دسمبر میں پلیزنٹ گرو پولیس کے لیفٹیننٹ ڈینی ریڈ نے کہا تھا 'اس لڑائی کا واحد شکار نوزائیدہ بچہ تھا۔ یہ لڑائی بچے کی والدہ نے شروع کی اور وہ لڑتی رہیں جس کا انجام نوزائیدہ بچے کی موت تھا۔'

لیفٹیننٹ ریڈ نے مزید کہا تھا کہ 'بچے کی مرضی کے بغیر اسے غیر ضروری طور پر اس لڑائی میں دھکیلا گیا حالانکہ وہ اپنی ماں کی حفاظت کا منتظر تھا۔'

مارشے جونز کی گرفتاری کے بعد انھیں جیفرسن کاؤنٹی جیل لے جایا گیا تھا تاہم پچاس ہزار ڈالر کے مچلکے جمع کرانے پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایبنی جیمِسن نے خود مارشے جونس پر لگے الزامات کو نااصافی قرار دیا تھا۔

امریکہ میں اسقاطِ حمل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اسقاط حمل کے خلاف نئے قوانین کی وجہ سے دوسرے مقدمات متاثر ہوتے ہیں

بز فیڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال ان پر قتل کا الزام لگنا چاہیے کیونکہ انھوں نے خود اپنے بچے کا قتل نہیں کیا۔'

'لیکن ان پر اپنے بچے کو خطرے میں ڈالنے، تشدد کرنے یا اس سے ملتے جلتے کسی الزام میں فرد جرم عائد کی جانی چاہیے۔'

فیصلے پر ردعمل

فیصلہ سننے کے بعد مارشے جونز کے وکلا کا کہنا تھا 'ہم ڈسٹرک اٹارنی کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد مقدمے کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ یہ مقدمہ نہ ہی مناسب تھا اور نہ انصاف کے (اصولوں کے) مطابق'۔

امریکن سول لبرٹیز یونین نے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا: 'یہ فیصلہ ان باتوں کی عکاسی کرتا ہے جو ہم ان مشکل حالات میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ایک ایسا پرسیکیوٹر جو قانون اور انصاف کا تقاضوں کے مطابق الزامات خارج کرنے کے لیے اپنی طاقت استعمال کرنے سے نہ ڈرے۔'

امریکہ میں ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ الاباما میں اسقاط حمل کے خلاف نئے قوانین کی وجہ سے دوسرے مقدمات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی جا سکی تھی کہ آیا اس مقدمے میں بھی اسقاط حمل کے خلاف کسی قانون کا استعمال کیا گیا تھا۔

حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے مارشے جونس پر عائد ریاستی الزامات اور گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یلو ہیمر فنڈ نامی ایک تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر امینڈا ریس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'آج مارشے جونز کو حمل میں ہوتے ہوئے ایک شخص سے لڑائی مول لینے اور گولی کا نشانہ بننے پر ملزم قرار دیا جارہا ہے۔

'کل کسی دوسری سیاہ فام خاتون کو حمل کے دوران شراب پینے پر سزا دی جائے گی۔ اس کے بعد کسی اور کو بچے کی پیدائش سے قبل صحیح دیکھ بھال نہ کرنے پر سزا ہوگی۔'

نیرل پرو چوائس امریکہ کی صدر اور اسقاط حمل کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی کارکن الیس ہوگ نے ٹوئٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سال 2019 (امریکہ کی) سرخ (ریپبلکن) ریاست میں وسائل سے محروم سیاہ فام حاملہ خواتین کے لیے کچھ ایسا نظر آتا ہے۔'