بی بی سی کی پہلی ٹی وی نیوز کاسٹر نین ونٹن کی راہ میں کیا مشکلات تھیں؟

ونٹن

بی بی سی ٹیلی ویژن کی پہلی خاتون نیوز کاسٹر نینسی وگینٹن کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی عمر 93 برس تھی۔

نینسی وگینٹن نے جو نین ونٹن کے نام سے جانی جاتی تھیں، 20 جون 1960 کو بی بی سی کی پہلی خاتون نیوز ریڈر بنیں۔

ونٹن نے ٹی وی پر خبریں پڑھنے سے پہلے جرنلزم کے شعبے میں کافی تجربہ حاصل کر رکھا تھا۔ انھوں نے ٹی وی اور ریڈیو پر کام کیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بریڈپورٹ، ڈورسیٹ میں رہائش پزیر تھیں۔

ان کا انتقال گیارہ مئی کو ہوا۔

مزید پڑھیے

ونٹن بی بی سی کی پہلی خاتون نیوز ریڈر تھیں لیکن ان سے پہلے باربرا مینڈل سنہ 1955 سے آئی ٹی این پر باقاعدگی سے خبریں پڑھ رہی تھیں۔

اس وقت اس فیصلے کو بی بی سی نے ایک ’تجربہ‘ قرار دیا تھا لیکن یہ فیصلہ کمرشل ٹیلی وژن کی جانب سے درپیش چیلنج کی وجہ سے کیا گیا تھا اور اس پر بہت بحث بھی ہوئی تھی۔

تجربے کے طور پر بی بی سی کی جانب سے خبروں کو ریکارڈ کیا جاتا تھا لیکن یہ کچھ حد تک کمرشل بنیادوں پر چلنے والے ٹی وی کو بطور رد عمل چیلینج کرنے کا حصہ بھی تھا۔ اس پر بہت بحث بھی ہوئی۔

نان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1961 میں نینسی سیاست دان بابرا کاسل کا انٹرویو کرتے ہوئے

ٹی وی پر موجود افسر یہ سمجھتے تھے کہ ونٹن کا سنجیدہ انداز میڈیا میں موجود اس تعصب کو دور کر سکتا ہے کہ ’خواتین سنجیدہ نوعیت کی خبروں کے لیے بہت غیر سنجیدہ ہیں۔‘

بی بی سی آڈیئنس ریسرچ کے مطابق ونٹن نے کم عرصہ ہی سکرین پر کام کیا کیوں کہ ناظرین کا یہ کہنا تھا کہ رات کا بلیٹن عورت کی جانب سے پڑھا جانا 'قابل قبول نہیں'۔

بی بی کی جانب سے سنہ 1997 میں بنائی گئی ایک ڈاکیومنٹری میں ونٹن نے کہا کہ انھیں ’اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ یہ کتنا انقلابی قدم تھا‘۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ ضرور محسوس ہوا کہ ہر کوئی اس بارے میں پرجوش ہے۔

'مجھے کبھی پریس یا پبلک سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ یہ ادارتی سٹاف تھا جو قابل اعتبار نہیں تھا۔'

بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1960 کی دہائی میں بی بی سی سے وابستہ اناؤنسرز کی ٹیم

اپنے ایڈیٹوریل سٹاف کے بارے میں بتاتے ہوئے ونٹن نے بتایا کہ کیسے قومی اخبارات میں کام کر کے آنے والے ان کے افسران ان کے بارے میں ابہام کا شکار رہتے تھے۔

1960 میں ہی اکتوبر کے مہینے میں نو بجے کے نیوز پروگرام سے ہٹائے جانے سے پہلے انھوں نے سات مرتبہ لیٹ بلیٹن پڑھا۔

بی بی سی ٹیلی ویژن کے سربراہ مائیکل پیکاک نے ونٹن کو اپنے دفتر میں بلایا اور نوکری سے نکال دیا۔

'انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیوں۔۔۔ اور میں غصے میں تھی۔'

پھر سنہ 1975 میں جب تک انگیلا ریپن نو بجے کے خبرنامے کی ٹیم میں شامل نہیں ہوئیں تب تک خبریں پڑھنے کے لیے کوئی مستقل خاتون نیوز کاسٹر نہیں تھیں۔

ونٹن نے ریٹائرمنٹ سے پہلے آئی ٹی وی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

بی بی سی کی ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز فرین اینزورتھ نے ونٹن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایک ایسے وقت میں جب ہمارے پاس بہترین خواتین موجود ہیں جو بی بی سی کی خبریں پیش، ایڈٹ، فلم اور رپورٹ کر رہی ہیں، ہمیں ماضی میں دیکھ کر اس کام کی ابتدا کرنے والی خواتین جیسا کہ نین کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو بی بی سی کی پہلی خاتون نیوز ریڈر تھیں۔'