جاپان: والد کی تخت سے کنارہ کشی کے بعد نئے شہنشاہ ناروہیتو کی رونمائی، ملک میں ’ریوا‘ دور کا آغاز

جاپان کے ولی عہد ناروہیتو نے اپنے والد اکیہیتو کی دراز عمری کے باعث تخت سے کنارہ کشی کے بعد بطور شہنشاہ تخت سنبھال لیا ہے۔

شہنشاہ ناروہیتو نے بدھ کے روز ایک سادہ لیکن علامتوں سے بھرپور تقریب میں 'امپیریئل ٹریژرز' یعنی شاہی خزانوں پر مشتمل ورثے کو وصول کیا جس سے ان کے شہنشاہ بننے کی تصدیق ہوئی۔

شاہ ناروہیتو کے دور کو ’ریوا‘ کے نام سے پکارا جائے گا جس کا مطلب 'نظم و ضبط اور ہم آہنگی' ہے اور اب ان کے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

جاپان میں شہنشاہ کا عہدہ علامتی ہے اور ان کے پاس حکومت کرنے کے لیے کوئی سیاسی طاقت نہیں ہوتی لیکن وہ قومی ہم آہنگی کی علامت ہوتے ہیں۔

شہنشاہ ناروہیتو کے والد اور سابق شہنشاہ، 85 سالہ اکیہیتو نے بگڑتی ہوئی صحت اور بڑھتی ہوئی عمر کے باعث تاج سے دشتبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اور منگل کو عہدے سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد وہ دو سو سالوں میں پہلے جاپانی شہنشاہ تھے جنھوں نے شہنشاہ کے عہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

تقریب میں کیا ہوا؟

جاپانی زبان میں 'کینجی تو شوکی نو گی' کے نام سے معروف تقریب میں نئے آنے والے شہنشاہ کو روایتی شاہی ساز و سامان سے نوازا جاتا ہے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح سوا دس بجے یہ تقریب شروع ہوئی جس میں شاہی خاندان سے منسلک خواتین کی شرکت کرنے پر پابندی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے شہنشاہ کی اہلیہ ماساکو عودہ اپنے شوہر کی تخت سنبھالنے کی تقریب میں موجود نہیں تھیں۔

جاپان کے نئے شہنشاہ، 59 سالہ ناروہیتو کو پہلے ایک تلوار پیش کی گئی اور اس کے ساتھ ایک ہیرا دیا گیا۔ یہ دونوں اشیا جاپان کے شہنشاہوں کے خاندان میں نسلوں سے منتقل ہوتی رہی ہیں اور شاہی طاقت کی علامت ہیں۔

ان اشیا میں تیسرا اور سب سے اہم حصہ ایک شاہی آئینہ ہے اور ان تینوں کو ملا کر 'امپیرئیل ٹریژر' یعنی شاہی خزانہ کہا جاتا ہے۔

لیکن شہنشاہ ناروہتیو کو آئینہ پیش نہیں کیا گیا کیونکہ وہ ان تینوں میں سب سے قیمتی تصور کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جاپان کے 'ایس گرینڈ مزار' میں رکھا گیا ہے اور اسے وہاں سے کبھی نہیں نکالا جاتا۔

امریکہ کی پورٹ لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی میں سینٹر فار جیپنیز سٹڈیز کے ڈائریکٹر کین روف نے بی بی سی کو بتایا کہ 1989 میں جب سابق شہنشاہ اکیہیتو نے تاج سنبھالا تھا تو انھوں نے سماجی بہبود اور امن قائم کرنے کی بات کی تھی۔

اپنے دور میں انھوں نے انھی دو مقاصد کے لیے کام کیا تھا اور اس دور کو 'ہائیس سئی' کہا جاتا ہے اور اس عرصے میں ان کی بیمار افراد اور قدرتی آفات سے متاثر افراد سے ملاقات نے انھیں جاپانی عوام میں بہت مقبول بنا دیا تھا۔

پروفیسر روف کہتے ہیں کہ نئے آنے والے شہنشاہ کے پہلے چند الفاظ اس بات کی عکاسی کریں گے کہ ان کا منصوبہ کیا ہے اور وہ نئے دور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا اچھا ذریعہ ہوں گے۔

شہنشاہ اکیہیتو نے اپنے دور میں ایک سفیر کا کردار نبھایا تھا اور انھوں نے بےشمار غیر ملکی دورے کیے اور توقع ہے کہ ان کے جانشین بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے۔

نئے شہنشاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ناروہیتو ملک کے 126ویں شہنشاہ ہیں اور انھوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔

صرف 28 سال کی عمر میں ولی عہد بن جانے والے ناروہیتو نے 1986 میں ایک دعوت میں ماساکو عودہ سے ملاقت کی اور 1993 میں ان سے شادی کر لی۔

بعد میں ماساکو عودہ نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناروہیتو نے ان سے شادی کرنے کے لیے ہاتھ مانگتے ہوئے کہا کہ 'تم شاید ایک شاہی خاندان کا حصہ بننے سے پریشان ہوگی اور تمہیں کچھ خدشات ہوں گے لیکن میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ میں ساری عمر تمہاری حفاظت کروں گا۔'

جاپان کے نئے شہنشاہ اور ان کی اہلیہ کی صرف ایک اولاد شہزادی آئیکو ہے جو 2001 میں پیدا ہوئی۔

واضح رہے کہ جاپانی قوانین اور روایات کے مطابق خواتین تخت کی جان نشین نہیں ہو سکتیں۔

شہنشاہ ناروہیتو کے سر پر تاج پہنائے جانے کے بعد ان کے بھائی شہزادہ فومیہیتو ولی عہد کے منصب پر فائز ہوں گے اور اس کے بعد ان کے بھتیجے، 12 سالہ شہزادے ہیشا ہیتو کا نمبر ہے۔

شہنشاہ نے تخت چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

85 سالہ شہنشاہ کو تخت چھوڑنے کی قانونی اجازت اس وقت ملی جب انھوں نے کہا کہ وہ اپنی عمر اور گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اپنا کردار نبھانے کے قابل نہیں رہے۔

اکیہیتو سنہ 1817 کے بعد پہلے جاپانی شہنشاہ ہیں جو اپنی مرضی سے تخت چھوڑ رہے ہیں۔

85 سالہ شہنشاہ نے سنہ 2016 میں اپنے ایک خطاب میں کہا کہ انھیں یہ خوف ہے کہ ان کی عمر انھیں ان کے فرائض منصبی کو نبھانے میں مشکلات پیدا کرے گی اور انھوں نے قوی عندیہ دیا کہ وہ دست بردار ہونا چاہتے ہیں۔

اس وقت انھوں نے کہا تھا: 'جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری صحت گر رہی ہے تو میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ ریاست کی علامت کے طور پر مجھے اپنے فرائض منصبی کو نبھانے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔'

رائے عامہ کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ جاپان کی اکثریت نے شہنشاہ کی ریٹائر ہونے کی خواہشات کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ایک سال بعد پارلیمان نے ایک قانون بنایا جس کی وجہ سے ان کا عہدے سے دست بردار ہونا ممکن ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے

جاپانی تخت نشینی کی اس تبدیلی کو کیسے منا رہے ہیں؟

ملک کے گولڈن ویک یعنی سنہرے ہفتے کی چھٹی کو رواں سال بڑھا کر دس دن کر دیا گیا تاکہ نئے شہنشاہ کی تخت نشینی کے جشن کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ ویسے یہ سالانہ موسم بہار کی چھٹی ہوتی ہے۔

تخت سے دست برداری کو جشن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور یہ شہنشاہ اکیہیتو کی 30 سال قبل تخت نشینی سے بالکل مختلف ہے جب وہ اپنے والد کے انتقال پر تخت نشین ہوئے تھے اور ملک ان کے والد کی موت کا سوگ منا رہا تھا۔

لیکن اس بار لوگ چھٹیوں پر باہر نکلیں گے، سنیما گھروں کا رخ کریں یا پھر گھر پر رہ کر تخت سے سبکدوشی اور تخت نشینی کی تقاریب دیکھیں گے اور ان دونوں کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی بھی زندہ شخص تخت سے سبکدوشی کی تقریب دیکھ رہا ہو گا۔

اور یہ تاج پوشی کا دوسرا واقعہ ہو گا جو ٹی پر براہ راست نشر ہو رہا ہو گا۔ اس سے قبل شہنشاہ اکیہیتو کی تاج پوشی کی 30 سال قبل لائیو سٹریمنگ ہوئی تھی۔

جاپان کی شہنشاہت اتنی اہمیت کی حامل کیوں ہے؟

یہ دنیا کی قدیم ترین موروثی شہنشاہت ہے جو آج تک جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ 600 قبل مسیح سے جاری ہے۔

در حقیقت جاپانی بادشاہوں کو خدا کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن شہنشاہ اکیہیتو کے والد شہنشاہ ہیروہیتو نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر جب جاپان کو ہتھیار ڈالنا پڑا تھا اس وقت عوامی طور پر اپنی خدائیت کو ترک کر دیا تھا۔

لیکن پھر شہنشاہ اکیہیتو نے جنگ کے بعد جاپان کے وقار کو ہونے والے نقصان کی تلافی میں تعاون کیا تھا۔

انھیں شہنشاہ اور عوام کے بیچ کو دوری کو پاٹنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

شہنشاہ شاذ و نادر ہی عوام سے کبھی ملے ہوں لیکن اکیہیتو نے اپنے کردار کی نئی تعریف کی اور وہ آفات میں بچ رہنے والوں کے لیے اپنی ہمدردانہ رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

تاج پوشی کے دو سال بعد سنہ 1991 میں اکیہیتو اور ان کی رانی نے روایت کو توڑتے ہوئے ناگاساکی میں پھٹنے والے آتش فشاں سے متاثرہ افراد سے اظہار ہمدردی کے لیے عوام کے سامنے جھکے اور اس کے بعد وہ اکثر ایسا کرتے رہے۔

جذام جیسے مہلک امراض کے شکار افراد سے ان کا ملنا جلنا بھی ماضی کے شہنشاہوں کے طریقے کے بالکل مختلف تھا۔

اخیر میں اکیہیتو نے سفارت کار کا کردار اپنا لیا اور جاپان کے غیر سرکاری سفیر کے طور پر وہ دوسرے ممالک کا وسیع طور پر سفر کیا اور نئے شہنشاہ ناروہیتو سے اسے جاری رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔