آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'وہ مجھے چاند کی طرح خاموشی سے تکتی رہتی تھی'
جاپان کی شہزادی ماکو نے ایک عام جاپانی شہری سے شادی کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے جاپانی بادشاہ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد یہ اعلان کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد اب شادی کا طویل عمل شروع ہوگا اور اس کے ساتھ ہی شہزادی کی شاہی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
جاپان کے متنازع شاہی قانون کے مطابق، شاہی خاندان کوئی خاتون اگر کسی عام شہری سے شادی کرتی ہیں تو انھیں اپنی شاہی حیثیت سے محروم ہونا پڑتا ہے جبکہ اگر شاہی خاندان کے مرد ایسا کریں تو ان کی شاہی حیثیت برقرار رہتی ہے۔
اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں، شہزادی ماکو نے کہا کہ وہ کیئی کومورو کی 'سورج جیسی مسکراہٹ' سے پہلے پہل ان کی طرف متوجہ ہوئيں۔
ماکو کہتی ہیں: 'مجھے بچپن ہی سے اس بات کا علم تھا کہ اگر میں کسی عام شخص سے شادی کرتی ہوں تو مجھے اپنی شاہی حیثیت گنوانی پڑ جائے گی۔'
اس کے ساتھ ماکو نے کہا: 'میں شاہی خاندان کے رکن کے طور پر اپنی بساط بھر شاہی کاموں کو انجام دینے کی کوشش کرتی رہی اور بادشاہ کا ہاتھ بٹاتی رہی لیکن اس کے ساتھ میں اپنی زندگی سے لطف اندوز بھی ہوتی رہی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی میڈیا میں منگنی کی مجوزہ خبر آنے کے بعد جاپان کی شاہی گھرانے کی ایجنسی سے باضابطہ طور پر یہ اعلان ہوا۔
شہزادی کے منگیتر 25 سالہ کیئی کومورو ایک لا کمپنی میں کام کرتے ہیں اور دونوں کی پانچ سال قبل یونیورسٹی میں دوران تعلیم ملاقات ہوئی تھی۔
ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کومورو نے بتایا کہ راجکماری خاموشی سے ان کو ایسے دیکھتی تھیں جیسے چاند انھیں دیکھ رہا ہو۔
25 سالہ راجکماری ماکو پرنس فومی ہیتو یعنی پرنس اکیشینو کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ وہ ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں اور ایک میوزیم میں محقق کے طور پر کام کرتی ہیں۔
شہزادی کی شادی کا اعلان جولائی میں ہونا تھا لیکن مغربی جاپان میں بارش کی تباہ کاریوں کے سبب اسے ملتوی کر دیا گیا۔ سرکاری میڈیا این ایچ کے کے مطابق ان کی شادی آئندہ سال ہوگی۔