سٹوڈنٹ ویزوں میں فراڈ کے دعوؤں پر برطانیہ میں ہوم آفس کی تحقیقات

برطانوی حکومت کی جانب سے انگریزی زبان کے امتحانات میں فراڈ کے الزامات کے بعد 36,000 طالب علموں کے ویزے منسوخ کرنے کے فیصلے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سنہ 2014 میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں فراڈ کے بارے میں کی جانے والی اپنی تحقیق کے بعد برطانیہ میں ہوم آفس نے ایک ہزار سے زیادہ طالب علموں کو ملک سے نکال دیا تھا۔
نیشنل آڈٹ آفس (این اے او) نے کہا ہے کہ ہوم آفس کے اقدامات پر ’عوامی تنقید‘ سامنے آنے کے بعد ہوم آفس کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ہوم آفس کا کہنا ہے کہ وہ ’ان تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں‘۔
این اے او کا کہنا ہے کہ وہ ’ہوم آفس کے پاس موجود مبیبہ طور پر فراڈ میں ملوث لوگوں کی معلومات اور ہوم آفس کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس ٹیسٹ میں فراڈ کا سکینڈل اس وقت سامنے آیا تھا جب بی بی سی پینوراما نے دو سینٹروں میں انگلش زبان کے لازمی امتحان میں فراڈ کی تحقیقات کی تھیں۔
اس وقت کی برطانوی حکومت نے ’ٹیسٹ آف انگلش فار انٹرنیشنل کمیونیکشین‘ (ٹی او ای ائی سی) کی منظوری دی تھی جس میں تحریری اور زبانی ٹیسٹ شامل ہوتا ہے۔
اس رپورٹ کے بعد اس وقت کی ہوم سکریٹری ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ شواہد ’حیران کن‘ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے نتیجے میں ہوم آفس نے امتحان فراہم کرنے والی امریکہ کمپنی ایجوکینشل ٹیسٹ سروس (ای ٹی ایس) کو حکم دیا تھا کہ وہ سنہ 2011 سے 2014 کے دوران لیے جانے والے 58,000 سے زیادہ امتحانات کو چیک کرے۔
امریکی کمپنی کا کہنا تھا کہ آواز کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر سے معلوم ہوا کہ 30,000 سے زیادہ کیسز میں کسی اور شخص نے اصل ٹیسٹ دینے والے کی جگہ ٹیسٹ دیا۔

ہوم آفس کا کہنا ہے اب تک 25 افراد کو اس ٹیسٹ میں فراڈ میں ’معاونت‘ کرنے پر سزا دی گئی ہے۔
لیکن لیبر پارٹی کے ایم پی سٹیفن ٹمز نے کہا ہے کہ متعدد طالب علموں پر غلط الزامات عائد کیے گئے اور انھیں اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ایسٹ ہیم سے تعلق رکھنے والے سٹیفن ٹمز نے جمعرات کو وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام میں بتایا کہ طالب علموں کے ساتھ ’ہتک آمیز‘ رویہ رکھا گیا۔
انھوں نے کہا ’طالب علم ہم پر بھروسہ کرتے ہیں کہ ہم انھیں اچھی تعلیم فراہم کریں گے۔ بجائے اس کے ان پر غلط الزامات عائد کیے گئے اور انھیں اپیل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔‘
فاطمہ چوہدری بنگلہ دیش سے سنہ 2010 میں برطانیہ آئیں۔ انھوں نے سنہ 2014 میں یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی ڈگری مکمل کی۔
انھوں نے جمعرات کو وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر فراڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ایک ہفتے تک حراست میں رکھا گیا۔ فاطمہ چوہدری ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔
اگرچہ فاطمہ چوہدری کو برطانیہ چھوڑنے کا نہیں کہا گیا تاہم وہاں رہتے ہوئے انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ نیشل ہیلتھ سروس مفت میں استعمال نہیں کر سکتیں۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال ان کی ڈلیوری کے موقع پر ان سے 14,000 برطانوی پاؤنڈ لیے گئے۔
فاطمہ چوہدری نے کہا کہ ان کے ’خواب اور امیدیں‘ ختم ہو چکی ہیں اور وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ہوم آفس میں کسی سے بات کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ چار سال کی کوششوں کے بعد ’کوئی امید نہیں ہے۔‘
سکاٹ لینڈ میں رہنے والی ایک انڈین خاتون نیدہن چاند نے بی بی سی سکاٹ لینڈ کو خود پر عائد الزامات کے خلاف لڑائی میں اپنا نام کلیئر کرنے کے بارے میں بتایا۔
’میں ہر روز روتی ہوں‘
نیدین چاند پر ان کے ویزے کی درخواست میں ان کی جگہ کسی اور کے بیٹھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا ’میں ہر روز رو رہی ہوں۔ جب آپ کو کوئئ دھوکے باز کہتا ہے اور عوام کے سامنے گرفتار کرتا ہے اور آپ کی بے عزتی کرتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘
دوسری جانب برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ وہ ’اصلی بین الااقومی طالب علموں‘ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
نیشنل آڈٹ آفس کی نئی نگرانی کی تحقیقات کے جواب میں ہوم آفس کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا ہے ’ہم اس سال کے آغاز سے نیشنل آڈٹ آفس کی تحقیق کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد اس کی نتائج پر غور کریں گے۔‘










