امریکی ریاست کیلی فورنیا میں یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ، خاتون ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر پووے کی ایک یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک جبکہ راہب سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
واقعے کے بعد 19 سالہ ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سائناگاگ میں ’پاس اور` کی تقریب جاری تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ’نفرت پر مبنی جرم دکھائی دیتا ہے۔‘
واضح رہے کہ یہ واقعہ امریکی شہر پٹسبرگ کے سائناگاگ پر حملے کے چھ ماہ بعد پیش آیا ہے جس میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو حالیہ امریکی تاریخ کا بدترین یہود دشمن حملہ سمجا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
سین ڈیئگو کاؤنٹی پولیس سٹیشن کے اعلیٰ افسر بل گورے نے بتایا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پووے کے سائناگاگ پر صبح 11.30 بجے پیش آیا۔
ان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک زخمی جانبر نہیں ہو سکا تاہم باقی زخمیوں کی حالت بہتر ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مشتبہ شخص کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ آن لائن شائع کیے گئے ایک خط کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔
سین ڈیئگو کاؤنٹی کی پولیس کے مطابق ایک آف ڈیوٹی پٹرولنگ آفیسر نے مشتبہ شخص پر فائرنگ کی تاہم وہ گاڑی میں جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔
سین ڈیئگو کاؤنٹی کے پولیس سربراہ ڈیوڈ نسلیٹ کے مطابق مشتبہ شخص کو بعد میں ایک اور پولیس اہلکار نے گرفتار کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈیوڈ نسلیٹ نے بتایا ’اس نے واضح طور پر مشتبہ شخص کی گاڑی کو دیکھا، اس نے اپنے ہاتھ اوپر کیے ہوئے گاڑی سے باہر چھلانگ لگائی اور فوری طور پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔‘
’جب پولیس آفیسر 19 سالہ شخص کو حراست میں لے رہا تھا تو اس نے واضح طور مشتبہ گاڑی کی اگلی نشست پر ایک رائفل دیکھی۔‘
واقعے پر ردعمل
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’شیطانی اور بزدلانہ‘ قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے لیے ’گہری ہمدردی‘ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’ اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ یہ نفرت پر مبنی جرم ہے لیکن متاثرہ افراد کے لیے میری گہری ہمدردی ہے اور ہم اس کی تہہ تک جائیں گے۔‘








