امریکہ: جو بائڈن 2020 کی صدارتی دوڑ میں شامل

Joe Biden

،تصویر کا ذریعہReuters

کئی ماہ کی قیاس آرائیوں کے بعد سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک کے اہم ترین عقائد، ہماری جمہوریت، ہر وہ چیز جو امریکہ کو امریکہ بناتی ہے، داؤ پر لگی ہوئی ہے۔‘

76 سالہ جو بائڈن اس سے پہلے دو مرتبہ صدارتی انتخاب لڑ چکے ہیں اور اس بار بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے متعدد امیدوار سامنے آ چکے ہیں۔ جو بائڈن کا پہلے مرحلے میں مقابلے انی ہی پارٹی کے 19 امیدواروں سے ہوگا۔

ان میں سینیٹر الیزبتھ وارن، کمالا ہیرس، اور برنی سینڈرز شامل ہیں۔

جو بائڈن امریکی صدر براک اوباما کے دو ادوار میں ان کے نائب رہے ہیں۔ اپنے اعلانیہ پیغام میں انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ 2017 میں شارلٹس ول میں ہونے والے سفید فام پرست مظاہروں میں ’دونوں جانب بہت اچھے لوگ ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

جو بائڈن کا کہنا تھا ’ان الفاظ کے ساتھ امریکہ کے صدر نے نقرت پھیلانے والوں اور نفرت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے درمیان اخلاقی برابری قائم کر دی۔‘

’میرا ماننا ہے کہ تاریخ اس صدر کے چار سالوں اور وہ سب جو وہ مانتے ہیں، کو ہمارے ایک گمراہ موقعے کے طور پر دیکھے گی۔ مگر اگر ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں آٹپ سال دے دیے تو وہ اس قوم کی بنیاد شخصیت کو بدل دے گا۔ میں ایسا ہوتے ہوئے دیکھ کر کچھ نہ کروں ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

Biden with wife Neilia in 1972

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جو بائڈن کے اعلان پر ردِعمل

صدر اوباما کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جو بائڈن کو اپنا نائب بنانا ان کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا اور ان دونوں کے درمیان ایک خاص دوستی پیدا ہوگئی۔ تاہم سابق صدر نے رسمی طور پر ان کی سیاسی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔

صدر اوباما کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی مشکل پرائمری نے 2007 اور 2008 میں نہ صرف انھوں ایک بہتر امیدوار بلکہ ایک بہتر صدر بھی بنایا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ادھر صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’اس دوڑ میں خوش آمدید سلیپی (سوئے ہوئے) جو۔ میں صرف یہ امید کرتا ہوں کہ تم میں اتنی ذہانت ہو، جس پر بہت عرصے سے شکوک ہیں، کہ تم ایک کامیاب پرائمری مہم چلا سکو۔‘

ڈیموکرٹک پارٹی کے امیدواروں میں وہ سب سے زیادہ تجربہ کار امیدوار ہیں۔ وہ چھ مرتبہ امریکی سینیٹ میں ایلکشن جیت کر آ چکے ہیں اور دو مرتبہ صدارتی امیدوار بھی بنے ہیں۔

یاد رہے کہ کہا جا رہا تھا کہ 2016 میں جو بائڈن نے ٹرمپ کے خلاف لڑنا تھا مگر ان کے 46 سالہ بیٹے کی انھی دنوں میں وفات کے بعد انھوں نے خود کو ایدوار بننے سے دستبردار کر دیا تھا۔

عوامی رائے شماری کے متعدد پولز میں وہ اپنی پارٹی کے مقبول ترین امیدوار ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تاہم حال ہی میں ان پر خواتین کے حوالے سے غیر مناسب رویے یا انھیں غیر مناسب انداز میں چھونے کے الزامات لگے ہیں جن کے لیے انھوں نے معافی مانگی ہے۔

جو بائڈن کو خارجہ امور اور واشنگٹن کی سیاست کا ماہر مانا جاتا ہے اور اس معاملے میں انہوں نے اوباما کو شروع سے تقویت دی ہے۔

جو بائڈن نے دو ہزار بارہ کے شروع میں ہی ایک بیان میں کہہ دیا کہ وہ ہم جنسوں کے مابین شادیوں کے حق میں ہیں جب کہ اس وقت اوباما کا موقف واضح نہیں تھا، اس لیے کہا جانے لگا کہ وائٹ ہاؤس کے معاونین اس پر ناخوش تھے۔ تاہم کچھ ہی دنوں میں صدر اوباما کا یہ موقف سامنے آ گیا کہ وہ ہم جنس پرست امریکیوں کو شادی کا حق دینے کو قانونی شکل دینے کے حق میں ہیں۔

بائڈن بعض اوقات مصلحت سے بالا زبان استعمال کر جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ صدر اوباما اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران صدر اوباما کے معاونین یہ دعائیں مانگتے رہے کہ وہ ایسا کم سے کم ہی کریں۔