گھانا میں طلبہ نے یونیورسٹی سے ’نسل پرست گاندھی‘ کا مجسمہ ہٹا دیا

،تصویر کا ذریعہEmmanuel Dzivenu/JoyNews
گھانا کی ایک یونیورسٹی میں انڈیا کی تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کے مجسمے کو نسل پرستانہ قرار دے کر ہٹا دیا گیا ہے۔
گھانا یونیورسٹی میں سنہ 2016 میں نصب کیے جانے والے اس مجسمے کے خلاف پٹیشن پیش کی گئی۔
اس پٹیشن میں کہا گیا کہ گاندھی ’نسل پرست‘ تھے اور ان کی جگہ افریقی ہیرو کو ہونا چاہیے۔
گھانا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ گاندھی کا مجسمہ دوبارہ نصب کرے گی۔
یونیورسٹی کہ لیکچررز اور طلبہ نے بتایا کہ اس مجسمے کو بدھ کے روز ہٹایا گیا۔ یونیورسٹی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے وزرات ِخارجہ ذمہ دار ہے۔
اسی بارے میں
قانون کے طالب علم نانا ایڈوما اساری نے بی بی سی کو بتایا ’گاندھی کا مجسمہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں اور اگر وہ نسل پرست ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ان کا مجسمہ رکھنا چاہیے۔ ‘
مہاتما گاندھی 20 ویں صدی کے مقبول رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ برطانوی راج کے خلاف عدم تشدد پر مبنی تحریک کے رہنما کے طور پر مشہور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم نوجوانی میں وہ جنوبی افریقہ میں رہے۔ اگرچہ انھوں نے ساری دنیا کو متاثر کیا لیکن سیاہ فاموں کے لیے ان کے بیانات متنازع ہیں۔
اپنی ابتدائی تحریریوں میں انھوں نے سیاہ فاموں کو ایک افریقی گالی سمجھے جانے والا لقب ’کافر‘ قرار دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈینز سیاہ فاموں سے بر تر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEmmanuel Dzivenu/JoyNews








