سعودی عرب کا خاشقجی قتل کے ملزمان ترکی کے حوالے کرنے سے انکار

عادل الجبیر

،تصویر کا ذریعہAFP

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مشتبہ افراد کو ترکی کے حوالے کرنے کی بات کو مسترد کر دیا ہے۔

عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ’ہم اپنے شہریوں کو کسی کے حوالے نہیں کرتے۔‘

ابھی ایک ہفتہ قبل ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے مشتبہ افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ بدھ کو ترک عدالت نے گرفتاری ورانٹ جاری کیے تھے۔

جمال خاشقجی کے قتل اور سعودی ولی عہد کے بارے میں مزید پڑھیے

CCTV pictures made available through the Turkish newspaper Sabah allegedly showing Saudi citizens who Turkish police suspect of involvement in the disappearance of Jamal Khashoggi (2 October 2018)

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوہ 15 سعودی باشندے جن کے نام ترکی نے جاری کیے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مبینہ قتل میں ملوث تھے

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل میں 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ترکی کی جانب سے جن افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں سابق سعودی انٹیلیجنس چیف احمد الاسیری اور سابق شاہی مشیر سعود القحطانی بھی شامل ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ترکی کی جانب سے معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔

خاشقجی قتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترک صدر کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم سعودی حکومت کے اعلیٰ افراد کی جانب سے آیا

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ان کے حوالے سے لکھا: ’ترک انتظامیہ معلومات کا تبادلہ اتنی جلدی نہیں کر سکی جتنی ہم ان سے امید کر رہے تھے۔‘

’ہم نے ترکی میں اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ ہمیں شواہد مہیا کریں جو ہم عدالت میں استمعال کر سکیں۔ ہمیں یہ معلومات اس طرح سے حاصل نہیں ہوئیں جس طرح سے ہونی چاہیے تھی۔‘

دوسری جانب ترک صدر کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم سعودی حکومت کے اعلیٰ افراد کی جانب سے آیا لیکن انھوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔