جمال خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ ’خوفناک ہے‘، نہیں سنوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے صوتی ریکارڈنگ کے بارے میں انہیں آگاہ کیا گیا ہے، لیکن وہ ریکارڈنگ خود نہیں سنیں گے۔
اتوار کو فاکس نیوز کے ساتھ بات چیت میں، انھوں نے کہا، ’یہ ایک زبردست ٹیپ ہے، ایک خوفناک ٹیپ۔‘
سی آئی اے نے مبینہ طور پر اس کے قتل کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر اس سے اتفاق نہیں کیا۔
اسی بارے میں
سعودی عرب نے اس دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ اس قتل کا شہزادہ محمد بن سلمان سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی پارلیمنٹ میں، صدر ٹرمپ کے اس حوالے سے سخت ردِ عمل کے لیے دباؤ بھی جاری ہے، لیکن سعودی عرب مشرق وسطی میں ایک اہم اتحادی ہے اور شاید ٹرمپ اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ آڈیو ٹیپ کیوں نہیں سنیں گے؟
امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ٹیپ کو سننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہیں اس ٹیپ کے بارے میں مکمل معلومات دی گئی ہیں۔
انھوں نے فاکس چینل کو بتایا، ’میں ٹیپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں، اگر میں یہ نہیں سنتا، تو یہ بہت سخت، ظالمانہ اور خوفناک تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ترکی نے مبینہ طور پر یہ ریکارڈ امریکی اور دیگر مغربی اتحادیوں کو فراہم کیا ہے۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ محمد بن سلمان نے انہیں بتایا کہ انہیں قتل کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ قاتل کون ہے اور جو بھی ہو قتل کے مشتبہ افراد پر امریکہ پابندیاں چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انہوں نے کہا، ’لیکن ہمارے سامنے ایک حلیف موجود ہے اور میں اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں جو بہت سے طریقوں سے بہت اچھا ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے انھیں امید ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کے بارے میں رپورٹ منگل تک مکمل ہو جائے گی۔
انھوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی رپورٹس کو 'قبل از وقت' یا 'نامکمل' قرار دیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔
جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی کہ آیا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟
اس سے پہلے میڈیا میں آنے والی خبروں میں کہا جا رہا تھا کہ سی آئی اے کو لگتا ہے کہ اس قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ جبکہ سعودی عرب نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے منسوب اس دعوے کو رد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ہیتھر نورٹ کا کہنا تھا کہ اب بھی سعودی صحافی کے استنبول میں ہونے والے قتل سے متعلق لاتعداد سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملے۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کو گذشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا تھا اور سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں۔
مبینہ طور پر 15 سعودی ایجنٹس اکتوبر میں ایک سرکاری طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور انھوں نے سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہے، جہاں وہ کچھ دستاویزات لینے آئے تھے۔ خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک تھے۔











