جرمنی میں اسلام پر کانفرنس میں سور کے گوشت کا کھانا دینے پر معافی مانگنا پڑی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی کے شہر برلن میں اسلام کے بارے میں کانفرنس میں دیے گئے کھانے میں سور کے گوشت سے تیار کردہ ڈش پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
اسلامک کونفرنس کے دوران کھانے میں سوسیج رکھے گئے تھے جس پر جرمنی کے وزارتِ داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق برلن میں منعقدہ جرمن اسلامک کانفرنس میں کھانے کا انتخاب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
وزارتِ داخلہ نے اس واقعے کہا ہے کہ’ اگر کسی شخص کے مذہبی جذبات مجروع ہوئے ہیں تو اس پر معافی مانگتے ہیں۔
اس کانفرنس کا انعقاد وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے کیا تھا اور انھوں نے مارچ میں کہا تھا کہ’ اسلام کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کانفرنس کے شرکا میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی کے صحافی ٹینسی اوژدمر نے ٹویٹ میں کہا کہ’ وزیر داخلہ زیہوفر کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ مسلمان کی تھوڑی عزت کرنے کی ضرورت ہے جو سور نہیں کھاتے۔‘
اطلاعات کے مطابق کانفرنس کے آغاز پر وزیر داخلہ زیہوفر نے کہا تھا کہ’ وہ جرمن اسلام چاہتے ہیں۔‘
تاہم ٹینسی اوژدمر نے کہا کہ وزیر داخلہ زیہوفر کا رویہ ایسا کہ جیسے’چائینہ شاپ میں ہاتھی‘ اور وہ جرمنی کے مسلمانوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں کر پائیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس کے جواب میں وزارتِ داخلہ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے کھانے میں کل 13 پکوان تھے اور ان میں سبزیاں، گوشت اور مچھلی شامل تھی جبکہ بوفے میں رکھے گئے پکوانوں کے بارے میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ 2006 میں منعقدہ پہلی اسلامک کانفرنس میں دیے گئے کھانے میں سور کا گوشت رکھا گیا تھا۔
وزیر داخلہ زیہوفر نے مارچ میں کہا تھا کہ اسلام کا کسی طور پر بھی تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے ساتھ رہنے والوں مسلمان قدرتی طور پر جرمنی کی ملکیت ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے رسم و رواج کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیں۔‘








