جرمنی میں اسلام اور امیگریشن مخالف جماعت کے خلاف مظاہرہ

جرمنی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس کا خیال ہے کہ اس مظاہرے میں پچاس ہزار تک افراد شریک ہوں گے

جرمنی کے شہر کلون میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اے ایف ڈی‘ کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں ممکنہ تشدد کے پیشِ نظر سکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

اے ایف ڈی اسلام اور تارکینِ وطن مخالف جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے اور آج کلون میں اس جماعت کی کانفرنس ہو رہی ہے۔

کلون شہر میں سنیچر کو ہونے والے اس مظاہرے کی کال بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے کارکنوں نے دی تھی۔

مظاہرے میں شامل افراد نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر درج ہے کہ ’ نازیوں کو روکا جائے۔‘

کلون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکچھ مظاہرین نے ہوٹل کے داخلی راستے کو بلاک کرنے کی کوشش بھی کی

پولیس کا خیال ہے کہ اس مظاہرے میں پچاس ہزار تک افراد شریک ہوں گے جس کی وجہ سے سکیورٹی کے لیے چار ہزار پولیس افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق شہر کا ماحول تناؤ کا شکار ہے۔

کلون پولیس کے سربراہ کے بقول ان کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس مظاہرے میں کئی ہزار بائیں بازو کے انتہا پسند اور کئی پر تشدد افراد بھی شریک ہوں گے۔

جس ہوٹل میں اے ایف ڈی کی کانفرنس ہو رہی ہے اس میں مظاہرین کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے مسلح پولیس افسران تعینات ہیں۔

کلون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس اے ایف ڈی کی جرمن شہر سٹوٹ گارڈ میں ہونے والی کانفرنس کے دوران بھی سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا

ہوٹل کے باہر ہونے والی جھڑپوں میں پولیس سمیت لوگوں کے زخمی ہونے اور گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

مقامی اخبار ’ڈی ولٹ‘ کے مطابق سنیچر کی صبح تقریباً ایک سو افراد نے پولیس کا گھیرا توڑ کر ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

کچھ مظاہرین نے ہوٹل کے داخلی راستے کو بلاک کرنے کی کوشش بھی کی جس کے باعث پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اے ایف ڈی کی جرمن شہر سٹڈ گارڈ میں ہونے والی کانفرنس کے دوران بھی سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔