صدر ٹرمپ کی سعودی عرب کو تنبیہ، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جہاں بادشاہت ہو وہاں شاہی خاندان میں دشمنیاں بھی ہوتی ہیں اور اگر سلطنت علاقائی تنازعات میں گھری ہو تو صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
سعودی عرب میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہے جہاں اس کے ایک طرف یمن کی جنگ ہے تو دوسری جانب شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف محاذ میں حالیہ دنوں میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان حالات میں اگر سلطنت کے اندرونی معاملات کو دیکھا جائے تو کچھ عرصہ قبل شہزادوں کی گرفتاریوں نے قدامت پسند سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا جہاں پہلے ہی خطے میں عرب بہار کی لہر کے بعد سے نوجوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
ان حالت میں عالمی طاقتوں کی حمایت درکار ہوتی ہے جو کہ سعودی عرب کو ایک عرصے سے حاصل ہے لیکن موجودہ حالات میں جب اس کا اہم اتحادی ایسا بیان دے تو پریشانی کی بات تو ہو گی۔
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادی سعودی عرب کے بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر 'دو ہفتے' بھی اقتدار میں نہیں سکتے ہیں۔
کیا شاہی خاندان کے اقتدار کی بقا کے لیے امریکی فوج کی حمایت ضروری؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیل کی دولتِ سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کا ملک سعودی عرب 90 سال قبل وجود میں آنے کے بعد ہمیشہ سے مغربی ممالک کے لیے اہم رہا ہے اور یہاں کے بادشاہوں کا امریکی صدور سے قریبی تعلقات رہا ہے جس کے سبب امریکہ نے تیل کی بلا تعطل ترسیل کے لیے سعودی عرب کی سکیورٹی کی ضمانت دے رکھی ہے۔
اس وقت سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی فورسز کی تربیت اور معاونت کے لیے اس وقت 850 سے چار ہزار کے قریب امریکی فوجی وہاں تعینات ہیں جن میں سے کچھ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف تکنیکی مدد بھی کر رہے ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن امریکی فوجی شاہی خاندان کے اقتدار کو کس طرح سے تحفظ دے رہے ہیں؟
اس پر سعودی عرب کے اندرونی حالات سے واقف ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’ صدر ٹرمپ نے وہ بات کہی ہے جو ساری دنیا جانتی ہے کہ شاہی خاندان کا اقتدار امریکی بیساکھیوں پر کھڑا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس وقت یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ابھی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودیوں کو موجودہ صورتحال میں امریکہ کی بہت ضرورت ہے۔
’خطے کی مجموعی صورتحال میں سعودی عرب اہم اتحادیوں کی طرف دیکھ رہا ہے جس میں سرفہرست امریکہ ہے۔ اس وقت شام اور عراق کی صورتحال کے علاوہ اسے یمن کی جنگ کا سامنا ہے جہاں اس نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے حملہ کیا لیکن انھیں اس کی توقع نہیں تھی کہ یہ اتنی طویل طویل چلے گی اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال نے واضح الفاظ میں اسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جس پوزیشن پر سعودی عرب کھڑا ہے اسے امریکہ کا سہارا چاہیے۔‘
کیا شاہی خاندان کو اندرونی طور پر بھی خطرات لاحق ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پر سعودی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے ایک صحافی کے مطابق جس طرح سے محمد بن سلمان روایات کے برعکس اوپر آئے ہیں اور اس کے بعد جس تیزی سے ملک میں اصلاحات کر رہے ہیں اس سے شاہی خاندان کے لیے سکیورٹی کے مسائل تو ہیں کیونکہ قدامت پسند قبائلی معاشرہ ان تبدیلیوں کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کرے گا۔
’چند ماہ پہلے ولی عہد نے بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران اہم افراد کو پکڑا تھا لیکن اس میں حقیقت یہ تھی کہ انھوں نے اپنے مخالفین کو قابو کیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ سعودی شاہی خاندان اپنی سکیورٹی کے انتظامات خود کر سکتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ دنوں ریاض میں شاہی محل کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد غیر مصدقہ اطلاعات کے بعد شاہی خاندان کی دو اہم شخصیات کو فوری طور پر امریکی سفارت خانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔‘
خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کافی عرصہ منظرعام پر نہیں آئے تھے اور ان کے بارے میں مختلف افواہیں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی رہیں۔
تاہم مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر احمد قریشی کے مطابق شاہی خاندان کو اپنی حفاظت کے لیے امریکہ پر اب زیادہ انحصار نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ گذشتہ دس برس کے دوران اس نے اپنی فوج کی تربیت پر کافی توجہ دیتے ہوئے اس کی صلاحیتوں میں قابل ذکر اضافہ کیا ہے اور یہ روایتی تاثر اب نہیں رہا کہ ان کے پاس ایک کمزور فوج ہے۔‘
کیا سعودی بادشاہت کے لیے امریکی حمایت ضروری؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ہے جس کے بدلے میں امریکہ سعودی بادشاہت کی حمایت کرتا ہے اور صدر ٹرمپ نے جو کچھ کہا اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب سمیت خطے میں موجود دیگر ممالک کو امریکہ حمایت حاصل نہ ہو تو وہاں بادشاہت زیادہ عرصہ ٹھہر نہیں سکتی کیونکہ عوام جمہوری نظام کی جانب راغب ہو جائیں گے۔
’امریکہ کے مفاد میں بھی یہ ہی ہے کہ وہ یہاں بادشاہت کو سپورٹ کرتا رہے اور اس کے بدلے میں ان سے خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے معاوضے کے بارے میں زیادہ نہیں بتایا لیکن ہو سکتا ہے کہ خطے میں سعودی عرب کی حمایت کے عوض معاوضہ مانگ رہے ہوں گے۔
تاہم سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر شاہد امین کے مطابق اس میں صداقت نہیں کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر سعودی شاہی خاندان اقتدار میں نہیں رہ سکتا لیکن صدر ٹرمپ کا ایک بنیادی نکتہ نظر رہا ہے کہ دوسرے ممالک امریکہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور امریکہ ضرورت کے وقت ان کی حفاظت کے لیے فوج بھی بھیجتا ہے لیکن اس کے بدلے میں وہ پیسے ادا نہیں کرتے۔
شاہد امین کے مطابق ’امریکی صدر کے اس بیانیے کو امریکی عوام کا ایک طبقہ پسند کرتا ہے لیکن یہ کہنا کہ امریکی فوج کے بغیر شاہی خاندان دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتا جو کہ بالکل غلط ہے اور ایک قسم کی دھمکی ہے اور اگر سعودی عرب میں کسی قسم کا کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو سعودی عرب امریکہ کی بجائے پاکستان سے رجوع کرے گا۔‘
کیا معاوضے کا مطلب مزید ہتھیاروں کی فروخت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب سے معاوضے کے بارے میں بیان کی زیادہ وضاحت نہیں کی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس وقت امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن اب اس کے ساتھ امریکہ کے روایتی حریف روس سے بھی اسلحے کی خریداری کی بات چیت کر رہا ہے اور اس حوالے سے چند معاہدے بھی ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا سعودی شاہی خاندان پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطے میں درکار حمایت اسی اسلحے کی خریداری سے مشروط ہو سکتی ہے۔









