’اے اللہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دے‘

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا ٹرمپ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر سعودی حکام کے پرجوش بیانات کے برعکس سوشل میڈیا پر عرب صارفین ٹرمپ کے دورے پر اپنے شکوک و شہبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سنیچر کے روز ایک موقعے پر عربی میں ٹرینڈ کرنے والا ہیش ٹیگ 'ٹرمپ ڈاٹر' عالمی طور پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔

کچھ صارفین نے اپنے خیالات کا اظہارکرنے کے لیے طنز و مزاح کا سہارا لیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی بیانات کو اپنے تبصروں کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا جانے لگا۔ دلچسپ امر یہ کہ ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں تبصرے ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام کے سےحوالے سے ممکنہ تقریر سے پہلے کے تھے۔

ٹوئٹر صارفین نے سعودی عرب کے ایک مذہبی رہنما سعد بن خونیم کی اس دعا کو شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں وہ مسلمانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی برائی سے بچانے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ اگرچہ سعد بن خونیم کی یہ دعا اب سوشل میڈیا سے ہٹائی جا چکی ہے لیکن بعض لوگوں نے اسے حذف کیے جانے سے پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔

@MAZN1161

،تصویر کا ذریعہ@MAZN1161

اس دعا میں مولوی صاحب کہتے ہیں: 'اے اللہ ٹرمپ تیرا ایک بندہ ہے، اس کا مقدر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں پر جبر کم کرنےاور ان کے مفادات کے تحفظ کے اسے (ٹرمپ) کو ہدایت دے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ ہمیں اس کی بدی سے بچا اور اسے اپنے راستے پر چلا۔'

بن خونیم نے سعودی عرب کے آن لائن اخبار 'سبق' کو بتایاکہ انھوں نے یہ دعا نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے مثبت بیانات کے بعد اپنے اکاونٹ پر لگائی تھی۔

@753_YAMEN_73

،تصویر کا ذریعہ@753_YAMEN_73

ایک کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں مشترکہ طور پر ملوث دیکھایا گیا ہے۔ اس کارٹوں میں سعودی بادشاہ اپنے ولی عہد اور یمن کے سعودی حمایت یافتہ صدر عبد الرب منصور ہادی ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر انتہائی فرمانبرداری سے ان کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین کے سات کچھ یمنی عورتیں بچوں کو گود میں لیے بھیک مانگ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک شخص کی خون میں لت پت لاش پڑی ہے۔

یہ کارٹون 87_yamen_753@ اکاونٹ سے شیئر کیا گیا جس میں عرب رہنماؤں سے اظہار نفرت کے ساتھ یہ تبصرہ تھا۔ 'جب ٹرمپ نے سات عرب ممالک کے مسلمانوں شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائدکی تو سعودی عرب نے اس کے جواب میں سترہ مسلمان رہنماؤں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کے لیے طلب کیا۔

ایک اور ٹوئٹر صارف 1Shamia@ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بگاڑی گئی ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں وہ سعودی عرب کے بادشاہ اور ان کے بیٹے کو اس انداز میں بلاتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ اس تصویر کے نیچے کیشن لکھا ہے" تمھارے پاس دولت کے علاوہ کیا ہے۔ تم ہمارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ۔ تم ہمیں رقم ادا کیوں نہیں کرتے ہو۔"

ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ آمد پر کچھ ٹوئٹر صارفین امریکہ میں قید سعودی طالبعلم خالد الداساری کی رہائی کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹوئٹر اکاونٹ 5haledaldosari@ پر لکھے جانے والے ایک پیغام میں کہا گیا 'اے قوم تمھارا ایک بیٹا ایک جیل میں دفن ہوا ہے ، اب وقت ہے اس کی کامیابی کی کوشش کرنے کا۔'

البتہ کچھ عرب سوشل میڈیا صارف ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب آمد کو اپنے لیے اعزاز کی بات سمجھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں" ساری دنیا کی نظریں ریاض پر لکھی ہوئی ہیں۔ اچھے مستقبل کی امید رکھنی چاہیے۔'