انڈونیشیا: سونامی سے پہلے اور بعد کے مناظر

Aerial view of a collapsed mosque amid rubble in

،تصویر کا ذریعہReuters

Presentational white space

انڈونیشیا کے شہر پالو میں زلزلے کے بعد سونامی نے جو تباہی مچائی اس کی عکاسی ان تصاویر کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Before and after images of jetty in Palu
Presentational white space

ملک کے حادثات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق جمعے کو آنے والے زلزلے اور پھر سونامی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے۔ گذشتہ روز تک یہ تعداد 844 تھی۔

سات اعشاریہ پانچ کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد سونامی نے ساحلی شہر پالو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور اب ہر جانب تباہی کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 16 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ قوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔

یورپی یونین کی ایمرجنسی سروسز کی ضروریات کا اندازہ لگانے والے ادارے کوپرنکس کا کہنا ہے کہ 3000 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔

Map of Palu showing buildings damaged/destroyed in the tsunami
Presentational white space

انڈونیشیا میں بہت سے لوگ اس وقت تہوار کی تیاری کر رہے تھے جب زلزلہ آیا اور پھر اس کے آدھ گھنٹے کے بعد سونامی کی لہریں ساحلی علاقے سے ٹکرائیں۔

Debris litters the beach in Palu, Indonesia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Presentational white space

ملحقہ علاقوں جیسا کہ بالاروا کیچڑ میں ڈھک گئے۔

اندازوں کے مطابق اس علاقے میں1700 گھر تباہ ہوئے اور سینکڑوں دیگر ساتھ کے علاقے پیٹوبو میں تباہی کی زد میں آئے۔ کریسچن بائبل سٹڈی گروپ کے 30 طلبا بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

مٹی اور کیچڑ زلزلے کے پریشر کے باعث مائع کی مانند ہو گیا تھا اور اپنے ساتھ عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو بہا لے گیا۔

Images showing neighbourhood of Balaroa before and after mud inundation
Presentational white space

پہاڑی علاقہ اب مٹی میں ڈھکا دکھائی دے رہا ہے اور وہاں موجود رہائشی مکانات اور دیگر تعمیرات پانی کے ساتھ بہہ گئے ہیں۔

Aerial view of a collapsed hillside in Palu

،تصویر کا ذریعہReuters

پالو سٹی میں سونامی نے معمول کی سروسز کو متاثر کیا ہے۔

نکاسی آب کا مسئلہ صورتحال کو خراب کر رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے روٹس شدید متاثر ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مسئلہ درپیش آ رہا ہے۔

Jemalam bridge before the tsunami

یہ جیمالم پل ہے جو 126 میٹر لمبا ہے اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کو مشرقی شہر سے ملاتی تھی لیکن اب پل تباہ ہو گیا ہے اور رابطےک ختم۔

Jemalam bridge after the tsunami has been destroyed
Presentational white space

لوگ ملبے کے ڈھیر میں دیکھ رہے ہیں کہ شاید انھیں وہاں سے کچھ مل جائے جو ان کی زندگی آسان بنانے میں معاون ہو۔

Overhead view of people looking through debris in Palu

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Presentational white space

حتیٰ کہ بنیادی اشیا جن میں پلاسٹک شیٹس اور باورچی خانے کے برتن بھی شامل ہیں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

People on the roof of a collapsed building in Palu

،تصویر کا ذریعہAFP

Presentational white space

ہلاکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ کہا جا رہا ہے کہ زمین میں دب کر متاثرہ علاقوں میں اجتماعی قبریں بن گئی ہیں لیکن یہ بھی خدشہ ہے کہ بہت سی لاشیں ملبے تلے اب بھی دبی ہوئی ہیں۔

A man walks over the ruins of a building in Palu, Indonesia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Presentational white space

فوج نے ہوائی اڈے کا کنٹرول لے کر زخمیوں کی منتلقی کے لیے فضائی سہولیات فراہم کیں۔

پالو سے باہر ہزاروں لوگ کمرشل فلائٹس کے منتظر ہیں۔

Soldiers watch as people board a military plane at Palu airport

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تمام تصاویر کے کاپی رائٹس محفوظ ہیں۔ اے میکسر کمپنی، سیٹلائٹ امیجز 2018 ڈیجیٹل گلوب