العلا: سعودی عرب کا صدیوں پرانا قصبہ

سعودی عرب کے شمال مغرب میں مدینہ اور تبوک شہر کے نزدیک موجود العلا نامی قصبہ ہے جس کی تاریخ چھٹی صدی قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔

العلا نے مختلف تہزیبوں جیسے انڈین، شام، مصر اور عراق کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا تھا۔ دائدان کے نام سے بھی معروف اس قصبے کی خاص بات وہاں پہاڑوں اور چٹانوں پر کی جانے والی نقش کاری ہے۔

العلا میں ال موسیٰ نامی پہاڑی پر مسلمان جرنیل موسی بن نصیر سے منسوب قلعہ بھی موجود ہے۔

یہ تاریخی مقام ایک طویل عرصے تک عام عوام اور سیاحوں سے چھپا ہوا تھا لیکن اب سعودی حکومت نے ملک میں سیاحت کو فروخ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور العلا کا قصبہ اس منصوبے کا اہم جزو ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت یونیسکو کے مطابق العلا کے قصبے میں 111 مزار ہیں اور جن میں سے اکثریت پر نقشکاری کی گئی ہوئی ہے اور چند چٹانوں پر چھٹی صدی قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی قبل مسیح تک عرب خطے میں موجود نباتیان بادشاہت کے دور کی کندہ کاری بھی موجود ہے۔

چند مورخین کے مطابق العلا کی مسلمانوں میں بھی اہمیت ہے کیونکہ آخری پیغمبر اسلام نے غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے اسی علاقے سے گزرے تھے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے فرانس کے ساتھ اس سال معاہدہ کیا ہے جس کے تحت العلا کے مقام کو سیاحوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔

العلا کی چٹانوں پر مختلف نوعیت کی نقشکاری کی گئی ہے جن میں سے کئی جانوروں کی تصاویر ہیں۔

العلا کے مشہور مقامات میں سے ایک جبل ال فیل، یعنی ہاتھی کی چٹان ہے کیونکہ اس کی شکل ایک ہاتھی سے ملتی ہے۔

13ویں صدی میں العلا دوبارہ آباد ہوا تھا لیکن جب 1980 کی دہائی میں یہاں جدید طرز زندگی کی آسائشیں فراہم نہیں کی گئیں تو یہ مقام خالی کر دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ العلا میں آخری خاندان نے یہ قصبہ 1983 میں چھوڑ دیا تھا۔

العلا کا مکمل رقبہ 22000 مربع کلو میٹر ہے اور سعودی حکومت کا ارادہ ہے کہ یہاں سالانہ 15 سے 20 لاکھ سیاح دورے کے لیے آئیں۔

اگر سعودی حکومت اپنے منصوبے پر عمل درآمد کرانے میں کامیاب ہو گئی تو چھٹی صدی قبل مسیح میں نباتیان بادشاہت کی قیادت میں قائم کیے جانے والا العلا کا قصبہ اب ایک بار پھر سیاحوں کا مرکز بن سکتا ہے۔