امریکی پابندیوں پر چین برہم: ’پابندیاں واپس لیں یا نتائج کے لیے تیار ہو جائیں‘

سخوئی Su-35 جنگی طیارے

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنسخوئی Su-35 جنگی طیارے

چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں چین پر لگائی جانے والی پابندیاں واپس لے یا پھر نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین نے روس سے طیارے خرید کر روس پر عائد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے جو اس پر امریکی انتخابات میں مداخلت اور یوکرین میں فوج کشی کے بعد لگائی گئی تھیں۔

چین نے حال ہی میں روس سے دس سخوئی Su-35 جنگی طیارے اور S-400 طیارہ شکن میزائل خریدے ہیں۔

چین امریکہ کی تجارتی جنگ پر بی بی سی سے مزید

اس ماہ چینی فوج نے روس کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ہونے والی جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا۔

چین خود جدید ترین جنگی ساز و سامان بنا رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روسی فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

چین میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون میکڈونل نے کہا ہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سخت الفاظ استعمال کیے تو ہیں لیکن عملی اقدامات ہی سے واضح ہو سکے گا کہ چین دراصل کتنا برہم ہے۔

روس نے بھی چینی فوج پر عائد پابندیوں کی مخالفت کی ہے، اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’آگ سے کھیل رہا ہے۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا نشانہ روس ہے اور امریکہ دوسرے ملکوں کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا نہیں چاہتا۔

S-40 طیارہ شکن دفاعی نظام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنS-40 طیارہ شکن دفاعی نظام

بی بی سی کے دفاعی امور کے تجزیہ کار جوناتھن مارکس کہتے ہیں کہ ان پابندیوں سے روس اور چین کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا، کیوں کہ دنیا میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف دونوں ملکوں کے نظریات ملتے جلتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اب دنیا بدل رہی ہے اور امریکہ معاشی طور پر پہلے جتنا طاقتور نہیں رہا اس لیے اس کی معاشی پابندیاں بھی پہلے جتنی موثر نہیں رہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق پابندیوں کے بےدریغ استعمال سے امریکہ خود اپنی کمزوروں کو نشان زد کر رہا ہے۔

امریکہ نے چین کے فوجی ساز و سامان کے ادارے ای ڈی ڈی اور اس کے سربراہ لی شانگفرو پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ان کے امریکہ میں اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

اس کے علاوہ ای ڈی ڈی کا ایکسپورٹ لائسنس بھی معطل کر دیا گیا ہے۔