بی بی سی کی پریزنٹر ریچل بلینڈ کینسر کے باعث 'چند دنوں کی مہمان'

،تصویر کا ذریعہRACHEL BLAND
بی بی سی ریڈیو کی ایک پریزنٹر ریچل بلینڈ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ وہ صرف 'چند دنوں کی مہمان' ہیں۔
ریچل ایک لاعلاج کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ نومبر سنہ 2016 میں ڈاکٹروں نے 40 سالہ صحافی کو بتایا کہ انھیں بریسٹ کینسر ہے۔
گذشتہ ماہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے دو سالہ بیٹے فریڈی کے لیے اپنی یادداشت لکھ کر چھوڑنا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک سال سے بھی کم وقت ہے۔
پیر کے روز انھوں نے ٹویٹ کیا کہ وہ ابھی اپنا کام جاری رکھیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
ریچل نے ٹویٹ کیا: 'فرینک ایس کے الفاظ میں، دوستو مجھے افسوس ہے کہ میرا وقت آ گیا ہے۔۔۔ اچانک مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے پاس صرف چند دن اور ہیں۔ میں آپ سب کی بہت شکرگزار ہوں۔۔۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ریچل کی بیماری کے اعلان کے بعد ان کے ساتھی صحافی بھی افسردہ خاطر ہیں۔
بی بی سی ریڈیو کے معروف پریزنٹر رچرڈ بیکن نے ٹویٹ کیا: یہ دلدوز خبر ہے۔ ریچل اس وقت تم میرے خیالوں میں ہو۔ میں تمہارے ساتھ اپنی مشترکہ پیشکش کو یاد کر رہا ہوں۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ تم حیرت انگیز ہو۔'
ان کی دوسری ساتھی نیکی کیمبل نے ٹویٹ کیا: تم ایک باکمال انسان ہو۔ سب کو پیار۔'

،تصویر کا ذریعہRACHAEL BLAND
بی بی سی کی ایک معروف اینکر وکٹوریہ ڈربی شائر کو بھی سنہ 2015 میں چھاتی کا کینسر بھی تھا۔
وکٹوریہ نے ٹویٹ کیا: 'ہمت، نزاکت اور مسکراہٹ - تمہاری یہی پہچان ہے۔ تم شاندار ہو۔'
ریچل بلینڈ بی بی سی میں گذشتہ 15 سالوں سے کام کر رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ 'بی بی سی ریڈیو 5 لائیو' سے منسلک رہی ہیں۔
ان کا کینسر اب ان کے جسم کے باقی حصوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCLAIRE WOOD
ان دنوں وہ اپنے دو سالہ بیٹے کے لیے ایک ڈائری میں یادیں تحریر کر رہی ہیں۔
گذشتہ ماہ برطانوی اخبار 'دی ٹیلیگراف' میں انھوں نے لکھا: 'میں اس کے لیے وہ ساری کہانیاں اور صلاح و مشورہ چھوڑنا چاہتی ہوں جو میں نے اپنی غیر حاضری میں نہیں دے پاؤں گی۔ مجھے موت کا ڈر نہیں ہے۔ اگر ڈر ہے تو صرف ان کا جنھیں میں چھوڑ کر جا رہی ہوں۔'









