پیرس کی سیر اور پیشاب؟

پیرس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک کیبن جسے دریا کنارے نصب کیا گیا ہے اور جہاں سے سیاحوں کو لے جانے والی کشتیوں کو دیکھا جا سکتا ہے خاص طور پر تنقید کی زد میں ہے

دریائے سین میں کشتی پر سوار ہو کر پیرس دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے لیکن آج کل مقامی افراد اس بات کو لے کر فکر مند ہیں کہ شہر میں جو نئی چیزیں نصب کی گئی ہیں ان سے یہ تجربہ خراب ہو سکتا ہے۔

شہر بھر کی گلیوں میں پیشاب کرنے سے روکنے کے لیے شوخ سرخ رنگ اور صاف دکھنے والی جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں پیشاب کیا جا سکتا ہے۔

کیبن نما یہ جگہیں جو بنائی گئی ہیں یہ ماحول دوست ہیں اور ان میں بد بو سے پاک رہنے کی صلاحیت بھی ہے لیکن پھر بھی بہت سے افراد انھیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔

ناخوش رہائشی پیشاب کرنے کی جگہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لیے ایک پٹیشن جمع کروانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔

پیرس

،تصویر کا ذریعہAFP

ایسا ہی ایک کیبن جسے دریا کنارے نصب کیا گیا ہے اور جہاں سے سیاحوں کو لے جانے والی کشتیوں کو دیکھا جا سکتا ہے خاص طور پر تنقید کی زد میں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون جو قریب ہی فنپاروں کا کاروبار کرتی ہیں نے بتایا: ’ایسے تاریخی مقام پر ایسی کسی نازیبا اور بدصورت چیز کو لگانے کی ضرورت نہیں۔‘

پیرس

،تصویر کا ذریعہAFP

انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ سب سے خوبصورت مقام ہوٹل ڈی لازین کے پاس ہے، اس سے ایسا ذہنی خلل پیدا ہو سکتا ہے جس میں انسان اپنے اعضا کو سرعام دکھاتا ہے۔‘

ایک اور رہائشی نے کہا: ’یہ خوفناک ہے، ہمیں کہا گیا ہے کہ ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا لیکن یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔‘

تاہم مقامی میئر کا کہنا ہے کہ اس کی ضرورت تھی۔

انھوں نے روئٹرز کو بتایا: ’اگر ہم کچھ نہ کریں تو لوگ گلیوں میں پیشاب کریں، اگر یہ واقعی میں لوگوں کو پریشان کرتا ہے تو ہم اسے کہیں اور نصب کر دیں گے۔‘