ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چھٹیوں پر آپ نے ہزاروں لاکھوں خرچ کر دیے ہوں گے لیکن کیسا لگے جب چھٹیوں کی مستی کے دوران آپ پر لاکھوں کا جرمانہ عائد کر دیا جائے اور وہ بھی ٹریفک اصول کی خلاف ورزی کے لیے۔
ایک برطانوی سیاح کو رواں ہفتے دبئي میں اسی طرح کے تجربات کا سامنا رہا جب ایک لگژری کار میں چار گھنٹے سے بھی کم عرصے کے دوران ان پر ہزاروں پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گيا۔
برطانوی سیاح کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن مبینہ طور پر انھوں نے شہر کی مشغول ترین سڑک پر منگل کے روز صبح درجنوں بار زیاد سے زیادہ رفتار کی حد کی خلاف ورزی کی۔
ان پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 75 ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا گیا جو 36 ہزار پاؤنڈ آتا ہے۔ اگر اسے پاکستانی روپے میں دیکھیں تو یہ 57 لاکھ 27 ہزار روپے بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دبئي کے اخبار دا نیشنل کے مطابق یہ جرمانے اس وقت عائد کیے گئے جب انھوں نے شیخ زاید روڈ پر لگے رفتار پیما کیمروں کو متحرک کر دیا اور انھوں نے سب سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک گاڑی دوڑائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرایہ پر کار دینے والے نے بتایا کہ اس شخص نے گارنٹی کے طور پر ان کے پاس اپنا پاسپورٹ رکھا تھا اور انھوں نے لیمبورگينی ہریکین لگژری کار کرایے پر لی تھی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ابھی تک ان سے کار واپس نہیں لی ہے کیونکہ انھیں ابھی جرمانہ بھرنا ہے۔
اس گاڑی کے ڈیلر شپ پارٹنر فارس محمد اقبال نے بتایا: 'اگر کار کو ضبط کر لیا جاتا ہے تو ہم اتنا جرمانہ ادا نہیں کر سکتے۔ اس لیے کار ابھی تک سیاح کے پاس ہی ہے اور ان کے ہوٹل میں پارک ہے۔۔۔ اور ہم اسے لینے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا: 'ضبط کیے جانے پر اس کا جرمانہ کون بھرے گا؟ ہم لوگ تو جرمانہ ادا نہیں کریں گے۔ یہ اس کی غلطی ہے اور اسے ہی جرمانہ بھرنا ہوگا۔'
مقامی میڈیا نے کہا ہے کہ چالان کار کے مالک کے نام پر کاٹا گيا ہے کیونکہ ڈرائیور ایک غیر ملکی سیاح ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی سیاح دبئی سے باہر جا سکتا ہے لیکن پاسپورٹ کے بغیر یہ بہت مشکل امر ہوگا۔
دی نیشنل اخبار کے مطابق اقبال نے کہا: 'مجھے ڈر ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے جا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا پاسپورٹ کھو گیا ہے اور وہ ایک نیا پاسپورٹ حاصل کر کے اس ملک سے باہر جا سکتا ہے۔'
'ہم اس کے پاسپورٹ کو بہت زیادہ دنوں تک نہیں رکھ سکتے۔'










