کم بولنا لیٹویا کی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے

بعض افراد کم گو ہوتے ہیں لیکن پورا ملک ہی کم گو ہو، یہ قدرے حیران کن امر ہے۔

یورپ کے ایک ملک لیٹویا کو 'کم گو ملک' بھی کہا جاتا ہے۔ ہر چند کہ لیٹویا والے اس پر تنقید کرتے ہیں تاہم کم بولنا وہاں کی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔

لیٹویا کے لوگ تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ بعض افراد کے نزدیک کم گوئی اور تخلیق کے درمیان ایک رشتہ ہے اور اسے لیٹویا کی خصوصیت کہا جاتا ہے۔

حال ہی میں لندن کتاب میلے میں ایک لیٹوین کامک بک ایک مباحثے کا موضوع تھی۔ اسے لیٹویا کے ادارۂ ادبيات نے تيار کیا تھا۔ اس کتاب میں ادارے کے 'آئی ایم اٹروروٹ' کا حصہ ہے۔ اس مہم کی ابتدا لیٹویا کی مصنفہ انیتے کونستے نے کی ہے۔ ان کے مطابق، کم بولنا اور لوگوں سے کم ملنا جنلنا اچھی عادت نہیں ہے۔

ان کا خیال ہے کہ جب ساری دنیا ایک سٹیج پر ہے اور لوگ ہر موضوع پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ایسے میں خاموشی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ لوگوں کو اپنی عادت بدلنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ کم گوئی کی عادت زیادہ تر ان لوگوں میں ہے جو تخلیقی کاموں میں فن، موسیقی یا تصنیف کے میدان میں ہیں۔

لیٹویا کے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ لیٹویا کے لوگوں کی شناخت کے لیے تخلیقی صلاحیت ضروری ہے۔ اس لیے لوگ یہاں کم بولنا پسند کرتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت نئے خیال میں غرق رہتے ہیں۔ دراصل لیٹویا کی حکومت نے تعلیم اور معاشی ترقی کے لیے کئی منوصوبے بنائے ہیں جن میں تخلیقی سوچ کو ترجیح دی گئی ہے۔

یورپین کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بازار میں تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والوں میں سب سے زیادہ لیٹویا والے شامل ہیں۔

لیٹویا کے باشندے نہ صرم کم گو ہیں بلکہ تہنائی پسند بھی ہیں۔ ایک دوسرے سے ملاقات کے دوران کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بھی نہیں ہوتی ہے۔ اجنبیوں کو دیکھ کر تو بالکل نہیں ہوتی ہے۔

لیٹویا کے دارالحکومت ریگا کے گائڈ فلپ برزولس کا کہنا ہے کہ لوگ یہاں ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں اس لیے کھلی سڑکوں کی بجائے وہ گلیوں سے سفر کرنا پسند کرتے ہیں یہاں تک کہ ایسے پروگرام بھی کم ہی منعقد ہوتے ہیں جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں۔

لیٹوین سانگ اینڈ ڈانس فیسٹیول یہاں کا بڑا پروگرام ہے لیکن کم ناظرین کے سبب یہ پانچ سالوں میں صرف ایک بار منعقد ہوتا ہے۔

مصنفہ کونستے کا کہنا ہے کہ تنہائی اور ایک دوسرے سے دور رہنے کی حد یہ ہے کہ لوگ رسمی سلام دعا سے بھی بچنے کے لیے پہلے پڑوسی کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں۔

لیٹویا کے لوگ کم گو اور تنہائی پسند ضرور ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ضرورت مند کی مدد نہ کریں۔ اگر آپ کبھی کسی مشکل میں ہوں تو وہ آپ کی مدد کریں گے۔

لیٹویا والوں کا کہنا ہے کہ کم گوئی صرف ان کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے بلکہ سویڈن اور فن لینڈ والے تو ان سے بھی زیادہ تنہائی پسند ہیں۔

لیٹویا کی آبادی میں تمام طرح کے لوگ موجود ہیں۔ یہاں بہت سے دوسرے ممالک کے لوگ بھی ہیں جن کی زبان اور ثقافت لیٹویا کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔

لیٹویا میں روسیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے اس اس کی وجہ لیٹویا کا طویل عرصے تک سوویت یونین کا حصہ ہونا ہے۔ ان میں وہ نسل بھی ہے جب لوگوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دوسری نسل ایسی ہے جو سرمایہ داری کے دور میں پلی بڑھی ہے۔ اس نسل کا دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا نظریہ پہلی نسل سے یکسر مختلف ہے۔ لہذا لیٹویا کے لوگوں میں کم گوئی کی عادت کی وجہ کوئی ایک نہیں۔

لیٹویا کا جغرافیائی محل وقوع بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ یہاں گھنے جنگلات ہیں اور آبادی کم ہے لہذا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کے لیے کافی جگہ ہے۔ لیٹویا کے لوگ قدرتی مناظر کے دلدادہ ہیں۔ وہ اکثر شہروں سے دور جنگلات میں وقت گزارتے ہیں۔

اگرچہ جنگل میں وقت گزارنے کی یہ روایت 20 ویں صدی میں ختم ہو گئی تھی لیکن کچھ حد تک اب تک یہ روایت جاری ہے۔

ماہر فن تعمیر اوزولا کا کہنا ہے کہ سنہ 1948 اور 1950 کے درمیان لیٹویا میں دور دراز علاقوں میں رہائش کا رجحان 89.9 فیصد سے کم ہو کر 3.5 فیصد رہ گیا تھا۔

تنہائی پسند ہونے کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے کہ لیٹویا کی بڑی آبادی جدید اپارٹمنٹس میں رہتی ہے۔

اعدا و شمار کو یکجا کرنے والی ویب سائٹ یورو سٹیٹ کے مطابق یورپ کی جتنی آبادی اپارٹمنٹس میں رہتی ہے ان میں اکثریت لیٹویا کے لوگوں کی ہے۔

ریئل سٹیٹ کمپنی اکٹورنٹ کا کہنا ہے کہ دو تہائی سے زیادہ آبادی الگ تھلگ نجی گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیٹویا میں غیر ملکیوں کی آبادی زیادہ ہو گئی ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا علیحدہ رہنا اور تنہائی پسند ہونا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو لیٹویا جانے کا موقع ملے تو آپ وہاں کی خاموشی سے خوف زدہ نہ ہوں۔ ابتدا میں ذرا عجیب محسوس ہوگا لیکن جب وہاں کے لوگوں کے ساتھ دوستی ہو جائے گی تو آپ اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔ لیٹویا لوگ جب کسی سے دل سے رشتہ قائم کرتے ہیں تو وکیا کوئی پورا ملک ہی کم گو ہو سکتا ہے؟ہ اسے نبھاتے بھی ہیں۔