وہ جگہ جہاں حجاب آپ کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہDalia Anan
- مصنف, دینا ابو غزالہ
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
’قاہرہ کی نسبت لندن میں حجاب اوڑھنا آسان ہے۔‘
یہ الفاظ 47 سالہ دالیا آنان کے تھے جنھوں نے اپنے ملک مصر میں اسلامی حجاب اوڑھنے کا موازنہ برطانیہ جیسے ملک سے کیا۔
دالیا آئی ٹی انڈسٹری سے منسلک ایک انجینئر ہیں۔ دو سال پہلے وہ برطانیہ منتقل ہو گئی تھیں جہاں ان کے بچے پڑھ رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہاں کی نسبت مجھے اپنے ملک مصر میں زیادہ لوگ گھورتے ہیں۔
لیکن یہ واحد معاملہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہاں جو عورت حجاب کرنا چاہے اس کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔
لیکن پچھلے کچھ سالوں سے یہ سب کچھ بدل رہا ہے خاص طور پر اعلیٰ طبقے کی خواتین میں۔
دالیا کہتی ہیں کہ شام میں مخصوص اوقات کے بعد آپ کچھ ریسٹورنٹس میں داخل نہیں ہو سکتے یا یوں کہیں کہ شمالی ساحل کے ٹھنڈے مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
رمضان کے اختتام پر جب عید کا تہوار آتا ہے یا گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں تو بحرہ روم کے ساحل پر بنے سیاحتی مقامات وہ پہلی جگہ ہے جہاں لوگ جاتے ہیں۔
دالیا کہتی ہیں کہ وہیں دو بڑے ریسٹورنٹس نے ان کے حجاب کی وجہ سے انھیں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔
قاہرہ میں اعلیٰ طبقے میں حجاب لیا جانا معروف اور عام ہے۔

،تصویر کا ذریعہDina Hisham
دینا ہشام جن کی عمر 23 برس ہے اور وہ کینیڈا میں رہتی ہیں کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مصر میں مجھے سے دیکھنا پڑے گا کہ کون سی جگہیں ہیں جہاں کوئی عورت حجاب پہن کر جا سکتی ہے یا نہیں۔‘
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت سی عورتوں کو فل سوئمنگ سوٹ جسے برکینی کہتے ہیں اور جو پورے جسم کو ڈھانپتا ہے پہننے یا سکوبا یعنی ڈائوئنگ سوٹ کی اجازت نہیں ہے۔
ٹورونٹو کی یارک یونیورسٹی میں پڑھنے والی دینا سمجھتی ہیں کہ حجاب کو شاید لاشعوری طور پر کسی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے اسے ان مخصوص جگہوں پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جہاں خاص طور پر اعلیٰ طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مصر میں اب ہائی کلاس میں ان لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے جو عربی کے بجائے انگریزی زبان بولتے ہیں جو تنگ نظر نہیں ہوتے مطلب جو شراب پیتے ہیں اور عریاں لباس پہنتے ہیں۔‘
ہم نے ان خواتین سے بات کے بعد متعلقہ ریسٹورنٹس کی انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔
میں نے جنتی بھی عورتوں سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ اپر کلاس سے تعلق رکھنے والی قاہرہ کی خواتین کی جانب سے حجاب اتارے جانے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو خواتین اب بھی سکارف لیتی ہیں ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ اب تک وہ کیوں اسے اوڑھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNike
مصر کی منال رستم فارمیسٹس ہیں وہ نائیکی کی پہلی ماڈل ہیں جنھوں نے حجاب اوڑھا تھا وہ کہتی ہیں کہ اب حجاب مخالف دور چل رہا ہے۔
’میری تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے اوڑھنا چھوڑ دیا ہے اور وہ مجھے یہی کہتی رہتی ہیں کہ اسے پہننے والی میں اکیلی ہی رہ گئی ہوں۔‘
منال رستم نے فیس بک پر ایک گروپ بنایا ہے جس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو حجاب اوڑھنا چاہتی ہیں۔ سنہ 2014 میں بننے والے اس گروپ کے ممبران کی تعداد 620,000 تک پہنچ چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRanya Essam
رواں برس مئی میں ’مائی چوائس‘ ہیش ٹیگ لانچ کیا گیا تھا۔ اس مہم میں شامل 30 سالہ حبا کہتی ہیں کہ جب وہ تین سال قبل بیرون ملک سے مصر واپس لوٹیں تو ان کے لیے یہ بات حیرت کا سبب تھی کہ حجاب کی وجہ سے آپ کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور آپ کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ#MyChoice
حبا جو قاہرہ میں موجود امریکن یونیورسٹی میں سینئیر پروگریسو ایڈوائزر کے عہدے پر کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ادارے مجھے اس مہم کو چلانے کے لیے مزید مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔
’مائی چوائس‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ اس مہم کے دوران 19 ایسی خواتین کی کہانیاں بیان کی گئیں جو حجاب کرتی ہیں۔










