یمن: حکومتی فورسز کا حدیدہ کے ’بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبضہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ساحلی شہر حدیدہ کے ایئر پورٹ پر حوثی باغیوں سے قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
حکومتی فوج کا کہنا ہے کہ اہلکار اب آس پاس کے علاقے کو دیکھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی بارودی سرنگ نہ ہو۔ تاہم تاحال حوثیوں کی جانب سے ایئرپورٹ ان کے ہاتھ سے نکل جانے کی تصدیق نہیں آئی ہے۔
خیال رہے کہ حدیدہ وہ واحد اہم بندرگاہ ہے جو حوثیوں کے زیر کنٹرول ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ وہ اہم تعمیرات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یمنی فوج کے میڈیا آفس نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’عرب اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثی باغیوں سے حدیدہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔‘
متحدہ عرب امارات کے احکامات پر یہ کارروائی بدھ کے روز شروع کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جمعرات کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر اتفاق نہیں کر سکے تھے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر کارروائی سے روکا جائے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے یمن کی صورتحال کے سلسلے میں ہنگامی بند کمرہ اجلاس کیا جس میں صرف اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ بندرگاہ کو کھلا رہنا چاہیے۔
حدیدہ امدادی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی اہم بندرگاہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمنی خانہ جنگی میں حدیدہ کا محاذ سب سے بڑا اور مہلک ترین محاذ ہو سکتا ہے۔
قحط کے خطرے سے دوچار حدیدہ کی بندرگاہ اس ملک کی سترہ فیصد درآمدات کا ذریعہ ہے اور اس بندر گاہ پر حملے کے بارے میں اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں قیامت خیز تباہی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومتی فورسز کے باغیوں کے زیرِ کنٹرول بندرگاہ حدیدہ پر تازہ ترین حملے کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ افراد بھوک سے مرنے کے خطرے میں ہیں جن کا امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔
خطے میں موجود طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی فورسز کے حملوں میں 22 حوثی باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتحادی فورسز کے جنگی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔ خیال رہے کہ حوثی یمن کی زیدی شیعہ مسلم اقلیت ہیں۔











