ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی جائیدادوں پر چھاپے

ملائیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق سے منسلک جائیدادوں سے پرتعیش اشیا اور غیر ملکی کرنسی سے بھرے ہینڈ بیگز کے سینکڑوں ڈبے قبضے میں لیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کوالا لمپور میں جائیدادوں پر یہ چھاپے سٹیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ون ایم ڈی بی کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں مارے جا رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی عام انتخابات میں اپنے سابق اتحادی مہاتیر محمد کے ہاتھوں شکست کی ایک بڑی وجہ یہی ون ایم ڈی بی میں بدعنوانی کے الزامات بنے۔

نجیب رزاق پر مبینہ طور پر 70 کروڑ ڈالر کا گھپلہ کرنے کا الزام ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

انھیں ملائیشیا کے حکام نے تو بے قصور قرار دیا، لیکن کئی دیگر ممالک کی جانب سے ان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس کی جانب سے یہ چھاپے نجیب رزاق کے دفتر، نجی رہائیش گاہ اور کئی دیگر جائیدادوں پر میڈیا کی موجودگی میں مارے جا رہے ہیں۔

ایک موقع پر نجیب رزاق کے گھر سے نکالی جانے والی تجوری کو کھولنے کے لیے تالے بنانے والے کو بھی بلوایا گیا تھا۔

جمعے کو کمرشل کرائم انویسٹیگیشن یونٹ کے سربراہ امر سنگھ نے صحافیوں کو بتایا کہ قبصے میں لی جانے والی اشیا میں ’ڈیزائنر ہینڈ بیگز کے 284 ڈبے‘ بھی شامل ہیں۔

’ہمارے اہلکار نے ان بیگوں کی تلاشی لی جن میں ملائیشیا کے علاوہ امریکی کرنسی بھی ملی ہے جن میں 72 بیگوں میں زیورات اور گھڑیاں موجود تھیں۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ ’زیوارت کی صحیح مالیت نہیں بتائی جا سکتی، کیونکہ ہم نے زیورات سے بھرے بیگ ضبط کیے ہیں اور زیورات کی مالیت تو بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔‘

نجیب رزاق کے وکیل نے ان چھاپوں کو ’ناجائز طور پر ہراساں ‘ کرنا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قبضے میں لی گئی اشیا ’گراں قدر‘ ہیں۔