امریکی صدر صدر ٹرمپ کا شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان سے جون میں ملاقات کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے جون کی 12 تاریخ کو سنگاپور میں ملاقات کریں گے۔
گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے سے تمام مبصرین کو حیرانی میں ڈال دیا جب انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ہم دونوں اس ملاقات کو دنیا میں امن کے حصول کے لیے خاص موقع بنانے کی کوشش کریں گے۔‘
صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل دونوں رہنما ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کا اعلان چند دن قبل شمالی کوریا کے رہنما کی جنوبی کوریا میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد آیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
خیال رہے کہ گذشتہ روز شمالی کوریا میں قید تین امریکی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا اور وہ امریکہ واپس پہنچ گئے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔
ان افراد کی رہائی اس وقت ہوئی جب امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کے حوالے سے معاملات طے کرنے شمالی کوریا پہنچے ۔
واضح رہے کہ ماضی میں آج سے پہلے کسی امریکی صدر کی شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ تین امریکیوں کی رہائی سے ملاقات کے لیے فضا بہتر ہوئی ہے اور صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات 'بہت کامیاب' رہے گی۔
انھوں نے کہا 'مجھے لگتا ہے کہ یہ ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے کچھ بڑا کام کرنے کا۔'
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں زیر بحث آنے والا اہم موضوع شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار ہوں گے جس کے بارے میں امریکہ کا موقف ہے کہ انھیں تلف کیا جائے۔
البتہ شمالی کوریا کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ وہ اس ملاقات میں کیا بات کریں گے لیکن امکان ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں 30000 امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کریں گے اور ساتھ ساتھ شمالی کوریا پر لگائی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے بارے میں بات کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپریل میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں کی ملاقات میں دونوں نے خطے سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے بارے میں بات کی تھی لیکن واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اس مقصد کا حصول کس طرح ممکن ہوگا۔
سنگاپور اس سے پہلے ماضی میں بھی اہم سفارتی ملاقاتوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ 2015 میں چین اور تائیوان کے رہنماؤں میں بھی ملاقات ہوئی تھی جو کہ 60 سال میں پہلا موقع تھا۔
سنگاپور کے امریکہ سے قریبی تعلقات ہیں جبکہ شمالی کوریا کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات ہیں مگر انھوں گذشتہ سال نومبر سے تجارت معطل کی ہوئی ہے۔








