نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا جشن: شراب نوشی کے لیے مصنوعی جزیرہ تعمیر کر لیا

،تصویر کا ذریعہDAVID SAUNDERS
نیوزی لینڈ میں شہریوں کے ایک گروہ نے بظاہر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی سے بچنے کے لیے ساحل سمندر پر ریت کا ایک جزیرہ بنا لیا۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کی سہ پہر ان افراد نے جزیرہ نما کورومنڈیل میں ٹائروا کے علاقے میں کم شدت والی لہروں والی جگہ ریت کا ٹیلہ نما مصنوعی جزیرہ بنایا۔
انھوں نے وہاں ایک پکنک ٹیبل اور مشروبات کے لیے برف کا ڈبہ بھی رکھا۔
مقامی افراد نے مذاقاً کہا کہ وہ ’بین الاقوامی پانیوں‘ میں ہیں اور یہاں شراب نوشی کی پابندی سے مبرا ہیں۔
نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ سٹف ڈاٹ کو این زیڈ کے مطابق ان افراد نے رات کے وقت نئے سال کے آغاز تک وہاں وقت گزارا اور آتش بازی بھی دیکھتے رہے۔ پیر کی صبح تک یہ مصنوعی جزیرہ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کے علاقے کورومنڈیل میں نئے سال کے جشن کے موقع پر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی پر 180 امریکی ڈالر جرمانہ یا گرفتاری ہوسکتی ہے۔
تاہم حکام کی جانب سے اس عمل کو بظاہر زندہ دلی کے طور پر دیکھا گیا۔
پولیس کمانڈر انسپیکٹر جان کیلی کو جب اس ریتلے جزیرے کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک تخلیقی سوچ ہے۔ اگر مجھے پہلے پتا چلتا تو میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہDAVID SAUNDERS
فیس بک پر ایک صارف ڈیوڈ سینڈرز نے ایک مقامی گروپ ٹائروا چٹ چیٹ پر اس کی تصویریں شیئر کی تھیں۔
ڈیوڈ سینڈرز نے بی بی سی کو بتایا: ’کیویز کو اس طرح لطف اندوز ہوتے دیکھنا اچھا تھا۔‘
ایک معروف کمیونٹی آرگنائزر نوڈی واٹس کا کہنا تھا کہ اس پابندی پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا تھا اور اس کی وجہ سے بے جا گرفتاریاں ہورہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس ’نوجوان شراب نوشوں سے نبردآزما ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو بتایا کہ ’وہ اس کام کے لیے نہیں۔ یہ کام والدین کا ہے۔‘
نیوزی لینڈ ہیرلڈ کے مطابق نوڈی واٹس کا کہنا تھا کہ ’پولیس اور سینٹ جان (فلاحی طبی ادارہ) اس کے نتائج سے مایوس ہیں اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘








