’روہنگیا کے ساتھ ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے: ایمنسٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ’ریاستی سرپرستی کے تحت انتظامی امتیاز‘ برتا جا رہا ہے جو کہ ’اپارٹ ہیٹ‘ یعنی نسلی عصبیت کے مساوی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق روہنگیا دیہات ’کھلے آسمان والی جیلیں‘ ہیں اور اس برادری کو کئی دہائیوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مشرقی ایشیا کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کی رپورٹ ایسی متعدد دستاویزات میں سے ایک ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پیش کی گئی جن کے تحت برمی فوجی جرنیلوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جبرو تشدد کا یہ سلسلہ 2012 کے کے بعد سے شدید تر ہو گیا جب مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان رخائن ریاست میں تشدد بھڑک اٹھا۔
اس وقت سے اب تک لاکھوں روہنگیا مسلمان جان بچا کر بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب میانمار کی رہنما آن سان سوچی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی دوبارہ آباد کاری کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
رواس برس اگست کے بعد سے اب تک چھ لاکھ افراد میانمار سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایشیا اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ریاست رخائن کے استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
برما میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔








