’کویتی ایئر لائن کا اسرائیلی مسافر کو نہ لے جانا جائز تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی میں ایک عدالت کا کہنا ہے کہ کویت کی سرکاری ایئرلائن کویت ایئر ویز کا ایک اسرائیلی مسافر کو اپنی سروسز فراہم کرنے سے انکار کرنا جائز تھا۔
کویت ایئر ویز کی جانب سے ایک اسرائیل مسافر کو پرواز سے دستبرار کرنے کے فیصلے کو یہودی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کویت ایئر ویز نے 2016 میں ایک اسرائیلی مسافر کی فرینکفرٹ سے بینکاک کی ٹکٹ منسوخ کر دی تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ایئر لائن کویتی قوانین کی پاسداری کر رہی تھی اور یہ ان کا حق تھا۔ کویت اسرائیل کو ایک قانونی ریاست تسلیم نہیں کرتا۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایئر لائن کے ملازموں کے لیے کویت میں سگین قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں تو ان کا مسافر کی ٹکٹ منسوخ کرنا مناسب ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ وہ کویتی قانون پر اپنی رائے نہیں دے سکتی اور جرمن قوانین نسل، رنگ، اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف ہیں مگر قومیت یعنی سیٹیزنشپ پر نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسافر کے وکیل نے اسے ایک شرمناک فیصلہ قرار دیا ہے۔ یہودیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سٹنرل کونسل آف جیوز ان جرمنی کا کہنا ہے کہ جو بیرونی کمپنیاں یہودی مخالف قوانین کے تحت کام کرتی ہیں انھیں جرمنی میں اپنے آپریشنز چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
کویتی قوانین کے مطابق مقامی کمپنیاں اسرائیلیوں کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتیں۔










