’دولتِ اسلامیہ جا چکی لیکن رقہ اب بھی انتہائی خطرناک‘

،ویڈیو کیپشنہزآروں کی تعداد میں دولت اسلامیہ کے جنگجو ایک غیر اعلانیہ معاہدے کے تحت رقہ سے نکلے

شام کا علاقہ رقہ نام نہاد دولت اسلامیہ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ رقہ پر عراقی اور کرد سکیورٹی فورسز کے حملے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شدت پسندوں کو وہاں سے ایک غیر اعلانیہ معاہدے کے تحت نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویل نے اس علاقے میں اسی راستے پر سفر کیا جہاں سے یہ قافلہ گزرا تھا اور ان حالات اور واقعات کا جائز لیا جن میں یہ شدت پسند رقہ سے نکلے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

دولتِ اسلامیہ تو یہاں سے جا چکی ہے۔ لیکن رقہ اب بھی انتہائی خطرناک جگہ ہے۔

کچھ سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔ یہاں لڑائی ایک ماہ پہلے رک گئی تھی لیکن بارودی سرنگیں اب بھی ہر جگہ موجود ہیں۔

شہر کا زیادہ تر علاقہ اب بھی نو گو زون ہے۔ شہریوں میں سے کسی کو بھی واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

لیکن ہم شہر کے اندر پہنچ گئے اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجو جن راستوں پر چل کر یہاں سے نکلے تھے، ہم نے ان راستوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔

شہر کا ہسپتال ان کی آخری پناہ گاہ تھی۔ اور ہمارا سفر یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ دولتِ اسلامیہ کی شکست کی وجہ کوئی جنگ نہیں بلکہ بسوں کا سفر تھا۔

قافلہ رقہ کے مرکزی ہسپتال سے روانہ ہوا۔ اس ہسپتال میں یہ شدت پسند اپنے خاندانوں کے ساتھ کئی ماہ تک چھپے رہے اور اندر موجود لوگوں کو یرغمال بنائے رکھا۔

بی بی سی کو بتایا گیا ہے انھوں نے اسے اپنی شکست نہیں سمجھا، نہ ہی وہ افسردہ تھے۔ بلکہ وہ پر امید نظر آرہے تھے۔

انھیں یہاں سے نکالے جانے کے پیچھے جو ڈیل ہوئی تھی اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ رقہ کا ایک شرمناک راز ہے۔

رقہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرقہ چھوڑ کر نکلنے والے شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں میں چند پاکستانی بھی شامل تھے

تو کیا کرد، عرب اور مغربی اتحاد نے ایک ساتھ مل کر ایک ایسی ڈیل کی جس سے دولتِ اسلامیہ کو یہاں سے فرار ہونے کی اجازت ملی؟ یہی نہیں، کیا اس ڈیل کے نتیجے میں ان کے جنگجو اب کھلے عام دوسرے شہروں میں نہیں گھومیں گے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا ذہن میں آنا ایک قدرتی امر ہے۔

وہ شہر کو سنسان، خالی اور تباہ شدہ حال میں چھوڑ گئے۔ ہماری تلاش یہاں رقہ میں شروع ہوتی ہے لیکن یہ ہمیں شمالی شام کی طرف لے کر جائےگی۔

اس ڈیل کی شروعات میڈیا بلیک آوٹ سے ہوئی، یعنی میڈیا دولتِ اسلامیہ کے فرار ہونے کا منظر ٹی وی پر نہیں دکھائے گا۔

لیکن موبائل سے بنائی گئی ویڈیوز سے واضح ہوا کہ شدت پسندوں کا قافلہ اور ڈیل دونوں ہی اتنے چھوٹے نہیں تھے کہ انھیں چھپایا جاسکتا۔

دنیا کو بتایا گیا کہ صرف درجن بھر مقامی جنگجوؤں کو جانے کی اجازت دی گئی اور ان میں نہ تو کوئی غیر ملکی تھے اور نہ ہی ان کے پاس ہتھیار تھے۔

لیکن ٹرکوں میں جنگجو کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے جو اسلحے سے لیس تھے اور ان میں سے کچھ نے خودکش پیٹیاں پہن رکھی تھیں۔

رقہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرقہ میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں

کئی روز کی تلاش کے بعد ہمیں رقہ کے مضافات میں ٹرک کے سٹاپ سے ایک سراغ ملا۔

بی بی سی کو یہاں وہ ڈرائیور ملے جو عام شہری تھے اور جو شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو لےکر گئے تھے۔ انھیں کرد قیادت والی شامی جمہوری افواج نے کرائے پر لیا تھا۔

یہ ان کی زندگی کا سب سے طویل سفر تھا۔ ٹرکوں پر آئی ایس نے بم نصب کیے تھے جنھیں معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں پھاڑ دیا جاتا۔

ان سے کہا گیا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا کام ہے اور انھیں کچھ شہریوں کو لے کر جانا ہے جبکہ انھیں تین روز تک دن رات ٹرک چلانا پڑا۔

ہر کوئی کہہ رہا تھا رقہ سے جو جنگجو نکلے ہیں ان کی تعداد دو سو سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

ایک بس ڈرائیور نے بتایا کہ 'ہمارے 47 ٹرک اور 13 بسیں تھیں اور دولتِ اسلامیہ کے لوگوں کی اپنی گاڑیاں بھی تھیں۔ ہمارا قافلہ چھ سے سات کلو میٹر لمبا تھا۔ ہم نے تقریباً چار ہزار لوگوں کو نکالا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔'

ان ٹرکوں پر جو غیر ملکی تھے ان کے بارے میں ٹرک ڈرائیور نے کہا کہ 'فرانس، ترکی، آذربائیجان، پاکستان، یمن، سعودی عرب، چین، تیونس اور مصر سے تعلق رکھنے والے شدت پسند ان میں بڑی تعداد میں شامل تھے۔'

یہ اس طرح نہیں لگنا چاہئیے تھا کہ یہ شدت پسند دولتِ اسلامیہ کی جیت ہے اس لیے ایس ڈی ایف نے اصرار کیا کہ ان کے ساتھ نہ تو کوئی پرچم ہونگے اور نہ ہی بینرز، آئی ایس کے جنگجو ٹرکوں کی چھتوں پر کھلے عام سوار تھے۔

ایک لاری پر اتنا اسلحہ رکھا گیا تھا کہ اس کا ایکسل ٹوٹ گیا۔ جب یہ لوگ شنینا گاؤں پہنچے تو تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ جنگجو وہاں ایک دکان پر رکے اور ساری دکان خالی کردی۔

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ 'ہم ایک دکان پر کھڑے تھے وہاں ایس ڈی ایف کی ایک گاڑی نے رک کر اعلان کیا کہ ان کے اور آئی ایس کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے اور وہ چاہتے تھے کہ ہم علاقہ خالی کر دیں۔ جیسے ہی ہم نے علاقہ خالی کیا وہاں سے آئی ایس کا قافلہ گزرا جن میں تقریباً چار ہزار لوگ تھے۔ یہ لوگ رقہ چھوڑ کرجا رہے تھے۔ یہ لوگ بے شمار گاڑیوں میں تھے۔'

اتحادی افواج کے طیارے اُن کے اوپر پرواز کرتے رہے لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ قافلہ آگے بڑھتا رہا۔ ۔

اس کے بعد قافلہ بڑی شاہراہ چھوڑ کر چھوٹی سڑک پر مڑ گیا۔ ایک اور مقامی شخص محمود نے انھیں صحرا میں داخل ہوتے دیکھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا وہ غداری کرنے والوں کے سر قلم کر دیتے ہیں۔

محمود نے بتایا کہ 'بڑی تعداد میں گاڑیاں تھیں۔ میں انھیں گن نہیں سکا۔ انھیں یہاں سے گزرنے میں تقریباً چار گھنٹے لگے۔ ہم گذشتہ چار پانچ برسوں سے خوف کے سائے میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ذہنوں سے اِس خوف کے اثرات دور ہونے میں وقت لگے گا۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید وہ واپس آ جائیں یا اپنے خفیہ ایجنٹس کو بھیج دیں۔ ہمیں اب بھی یقین نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے جا چکے ہیں۔'

ہماری تحقیق کے جواب میں اتحادی افواج نے اعتراف کیا کہ ہزاراوں کی تعداد میں جنگجوؤں کو جانے دیا گیا لیکن اِن میں غیرملکی شامل نہیں تھے۔

فرار ہونے والوں میں سے کچھ ترکی پہنچ گئے۔

رقہ اُن کا دارالحکومت تھا لیکن وہ ایک پنجرہ بھی بن چکا تھا جہاں وہ پھنسے ہوئے تھے۔

اِس ڈیل نے شہر میں شاید امن تو بحال کردیا لیکن اِس کی وجہ سے شدت پسند دولت اسلامیہ کے سب سے خطرناک جنگجوؤں کو نہ صرف رقہ بلکہ شام سے فرار ہونے اور یورپ کے دروازے تک پہچنے کا موقع بھی ملا۔

شدت پسند دولتِ اسلامیہ کی شکست کی خبریں تو سب تک پہنچی ہیں لیکن اِن کے ساتھ ہی دولتِ اسلامیہ کے ایک سابق جنگجو اور سمگلر کی یہ وارننگ بھی 'جب دولتِ اسلامہ رقہ اور دیر الزور سے نکلی تو یہاں پر سمگلروں نے سرحد پار کر کے ترکی آنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا۔ ان میں شامی اور غیر ملکی شامل تھے جو دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اور ان کے خاندان ہیں۔'

خلافت تو ختم ہوگئی، لیکن نام نہاد دولتِ اسلامیہ۔۔۔اب بھی۔۔۔ کہیں موجود ہے۔

،ویڈیو کیپشنرقہ کے پناہ گزین