ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ مزید مسلسل ’جانبدارانہ تجارت‘ برداشت نہیں کرے گا

امریکہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویتنام میں ایپک تنظیم کانفرنس سے صدر ٹرمپ خطاب کرتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ ایشیا میں ویتنام میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس (ایپک) سے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ اب مزید 'مسلسل جانبدارانہ تجارت' برداشت نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ ایپک ممالک کے ساتھ اس وقت تک کام کرنے کو تیار ہے جب تک کہ وہ 'باہمی تجارتی تعلقات میں توازن' برقرار رکھیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیں

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادانہ تجارت کی وجہ سے امریکی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں اور وہ اس عدم توازن کو درست کرنا چاہتے ہیں۔

ویتنام سے پہلے صدر ٹرمپ جاپان اور چین کا دورہ کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اور کیا کہا

جمعے کو ہونے والی کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 'یہ تنظیم اس وقت تک درست طریقے سے کام نہیں کر سکتی' جب تک کہ باقی تمام مالک قوانین کی مکمل پاسداری نہیں کریں گے۔

انھوں نے ایپک تنظیم کے ممالک کے بجائے سابق امریکی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ صورتحال ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویتنام سے قبل دورہ چین میں بھی صدر ٹرمپ نے امریکہ کے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کے بارے میں بات کی تھی

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے 'انڈو پیسیفک' کی اصطلاح بار بار استعمال کی اور کہا کہ امریکہ 'کسی بھی انڈو پیسیفک ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے جو باہمی تعاون اور باہمی اتفاق کے ساتھ تجارتی پالیسیاں بنانے کے قوانین پر عمل در آمد کرے گا‘۔

ویتنام سے قبل دورہ چین میں بھی صدر ٹرمپ نے امریکہ کے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کے بارے میں بات کی تھی لیکن چین کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا تھا۔

ایپک تنظیم بحرالکاہل خطے کے 21 ممالک کی تنظیم ہے جو دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا 60 فیصد حصہ بنتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی ویتنام کے شہر ڈانانگ میں ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ گلوبلائزیشن کو اب نہیں روکا جا سکتا لیکن اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ ڈانانگ کے بعد ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کا دورہ کریں گے جس کے بعد وہ 13 نومبر کو فلپائن جائیں گے۔